ملک میں ہنگاموں کا خدشہ، باہر سے گندم منگوانا کسانون کیخلاف گہری سازش: جاوید ہاشمی

  ملک میں ہنگاموں کا خدشہ، باہر سے گندم منگوانا کسانون کیخلاف گہری سازش: ...

  



ملتان (نیوز رپورٹر) سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ گندم کا بحران حکومت وقت کا بولتا ہوا کرپشن سکینڈل ہے۔

(بقیہ نمبر51صفحہ12پر)

وفاقی وزرا سرکاری گاڑیوں پرایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں اورٹی وی چینلز پر بیٹھ کر دست و گریبان ہیں۔ موجودہ حکومت کی بد انتظامی اور مہنگائی کی وجہ سے ملک میں کسی بھی وقت ہنگامے پھوٹ سکتے ہیں۔ حکومت سے تمام اتحادی ناراض اور پنجاب میں فارورڈ بلاک بن رہے ہیں۔ عوام کو اسمبلیوں پر اعتماد نہیں رھا اس لئے عمران خان مستعفی ہوکر قوم کو راستہ دیں۔ پاکستان اس وقت بد ترین سیاسی،معاشی،غذائی و انتظامی بحرانوں کا شکار ہو چکا ھے۔ ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ پاکستان تاریخ کے بہت بڑے بحرانوں میں گھر چکا ھے۔ کابینہ بھی بحران میں ھے اور یہ بڑھ رھا ھے۔ وزراء عوامی سطح پر ایک دوسرے سے جنگ لڑ رھے ھیں۔وفاقی وزیر میاں محمد سومرو اور مشیر خاص وزیراعظم شہزاد اکبر سرکاری گاڑیوں پر ایک دوسرے سے لڑ رھے ھیں۔ وفاقی وزیر علی زیدی ودیگر نے اعتراف کیا ھے کہ پہلے گندم ایکسپورٹ کر کے کرپشن کی گئی اب امپورٹ کر کے کمیشن کھرا کیا جائیگا۔ جاوید ہا شمی نے کہا کہ اب گندم منگوانا کسانوں کے لئے ایک سازش ھے کیونکہ مارچ میں یہ گندم آئے گی تو اس وقت سندھ میں گندم کی فصل آچکی ھوتی ھے۔ان کی گندم کون خریدے گا۔ گندم کی ایکسپورٹ اور پھر امپورٹ ایک بہت بڑی اور واضح کرپشن ھے۔ اس دور میں کرپشن کے بولتے ھوے سکینڈلز سامنے آرھے ھیں۔ پنجاب سے گندم کی سمگلنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے گئے ہیں۔ علیمہ باجی کے کیسز سے عمران خان اپنے آپ کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا ٹائی ٹینک ڈوب رھا ھے۔ موجودہ حکومت کے ڈوبتے جہاز سے وفاقی وزیر شیخ رشید پہلی چھلانگ مارے گا۔ وزراء ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رھے ھیں۔ ایک سبزی کی دکان بھی اس سے بہتر چلتی ھے جس طرح یہ ملک چلا رھے ھیں۔ پنجاب حکومت میں فاروڈ بلاک بن رھے ھیں میں ذاتی طور پر فارورڈ بلاکس کا حامی نہیں ھوں بلکہ میری رائے کے مطابق اگر آپ پارٹی پالیسی سے متفق نہیں تو فارورڈ بلاک بنانے کے بجائے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی تنظیم سازی پر بھی کارکنان نے علیحدہ گروپس بنا رھے ھیں۔ بیساکھیوں پر حکومت نہیں چلتی اور اب تو لگتا ھے بیساکھیاں بھی کھسکنے والی ھیں۔ حکومتی اتحادی بھی علیحدگی کی طرف مائل ھیں۔ معاشی ٹیم چار بار تبدیل کی اور اب ایک اور تبدیلی آنے والی ھے۔ عمران خان کی سوچ کا لیول دیکھتے ھی میں نے ریورس گیئر لگا دیا تھا۔ موجودہ حالات میں لوگ گلے لگ کر رو رھے ھیں۔ یہ کیا نظام ھے کہ گھر میں پڑی گندم بیچ کر پھر خریدی جا رھی ھے۔ گندم کا بحران شدید تر ھوتا جائے گا۔ اسمبلیوں کا اعتماد ختم ھو چکا ھے۔ اشارے کہیں اور سے ھو تے ھیں۔ مشرف دور میں بھی میڈیا پر میری بات چلتی تھی اب نہیں چلتی۔ آج کے دور میں خوراک پر جنگیں ھو جاتی ھیں۔ ھم فوڈ رائٹس کی طرف جارھے ھیں لوگ ایک دوسرے سے روٹی چھیننا شروع کر دیں گے۔ عمران خان ھمت کر کے قوم کوراستہ دے اور مستعفی ہو جا?۔ ستر سال سے بلوچستان میں کوئی حکومت نہیں رھی ھے۔ پورے ملک کو بلوچستان بنا دیا گیا ھے۔۔ عمران خان چاھتے ھیں کہ ساری اپوزیشن کو ھی ماردیا جائے یہی کامیابی ھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سوچنا چاھیے کہ ھم 370 اور 35 اے سے پیچھے نہیں ھٹ سکتے۔ مسلم لیگ نون میں اختلاف رائے کے باوجود ایک ورکر بھی نہیں توڑا جا سکتا ھے۔ایک وقت آئے گا آرمی ایکٹ والا قانون واپس لیا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ کے خلاف انتقامی کارروائی اور وزیراعظم کی بات قابل مذمت ھے۔ عجیب الخلقت حکومت پاکستان میں چل رھی ھے۔ میں نے عمران خان کو نواز شریف سے سڑک مانگنے سے روکا تھا۔ ایک لیڈر کا یہ لیول نہیں ھونا چاھئے عمران خان جھوٹ بول رہے ہیں۔

جاوید ہاشمی

مزید : ملتان صفحہ آخر