وہاڑی‘ آٹا چکی مالکان کا ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر‘ ضلعی انتظامیہ کیخلاف مظاہرہ

    وہاڑی‘ آٹا چکی مالکان کا ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر‘ ضلعی انتظامیہ کیخلاف ...

  



وہاڑی‘ ڈیرہ‘مظفر گڑھ‘ راجن پور (بیورو رپورٹ‘ نمائندہ خصوصی‘ ڈسٹرکٹ بیورو رپورٹ‘ نامہ نگار) آٹا چکی مالکاننے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاجی مظاہرہ اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کی واقعات کے مطابق گزشتہ روز ضلع بھر کے آٹا چکی مالکان نے ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شدید نعرہ بازی کی احتجاجی مظاہرین(بقیہ نمبر42صفحہ12پر)

میں حاجی سردار رشید احمدچوہدری شکور محمد سلیم نادر حسین محمد امین اللہ دتہ مظفر علی محمد خالد سعید احمد بشیر احمد ربنواز ودیگر درجنوں آٹا چکی مالکان شامل تھے اس موقع پر احتجاجی مظاہرین نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ بارہ سال سے لائسنس ہولڈر چکی مالکان کو سرکاری گندم کا کوٹہ دیا جا رہا تھا اب ضلعی انتظامیہ نے اس سال نہیں دیا اسی وجہ سے آٹا کا بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ دیہاتوں کے لوگ غریب محنت کش طبقہ ایک کلو دو کلو روزانہ آٹا خریدنے والے ہوتے ہیں جبکہ فلور ملز مالکان کھلا آٹا فروخت نہیں کرتے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور ضلعی انتظامیہ نے فلور ملز مافیا کے ساتھ مل کر ہمارا کوٹہ بند کر دیا حالانکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں اب بھی آٹا چکی مالکان کو سرکاری کوٹہ دیا جا رہا ہے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور ڈپٹی کمشنر کو کئی درخواستیں گزار چکے ہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی حکومت فوری طور پر ضلع وہاڑی میں بھی آٹا چکیوں کا کوٹہ جاری کروائے احتجاجی مظاہرین نے وزیر اعلی پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب صوبائی وزیر خوراک سیکرٹری خوراک کمشنر ملتان ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی سمیت متعلقہ اعلی حکام سے فوری طور پر سرکاری گندم کا کوٹہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی ہدایت پر ضلع ڈیرہ غازیخان میں عوام کو سرکاری نرخوں پر آٹا کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے سیل پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں اور ضلع ڈیرہ غازیخان میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے. ڈپٹی کمشنر ڈیر ہ غازیخان طاہر فاروق نے کہاکہ آٹا کی وافر مقدار میں فراہمی یقینی بنانے کیلئے رجسٹرڈ 18فلورملز کو روزانہ کی بنیاد پر 450میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے اور کوٹہ کے تحت آٹا تیار کر کے ضلع کے مختلف مقامات پر قائم سیل پوائنٹس اور فیئر پرائس شاپس پر فراہم کیاجارہا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ اور راجن پور کے درمیان دریائے سندھ کے پار واقع 20 مواضعات آٹے سے محروم ہیں جس پر لوگ سراپا احتجاج بن گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) وقا ص رشید کی زیر صدارت پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آٹے کی فراہمی اور قیمتوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیاڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) وقا ص رشید نے اس موقع پر کہا کہ ضلع وہاڑی میں کسی بھی جگہ پر آٹے کا شارٹ فال نہیں ہے ضلع بھر میں آٹے کی فراہمی کیلئے17فیئر پرائس شاپ قائم کی گئی ہیں ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا ذخیر ہ اندوز اور گراں فروش کسی رعائیت کے مستحق نہیں ہیں ڈپٹی کمشنر نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ20کلوگرام آٹے کا تھیلا805روپے اور 10کلوگرام آٹے کے تھیلے کو402روپے میں فروخت پر عمل درآمد کرایا جائے فرضی کاروائیوں سے کام نہ لیا جائے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تمام دکانوں پر آٹے کا وزن اور اسکی قیمتی والے پینا فلیکس لگائے جائیں پنجاب حکومت کے مونوگرام کے ساتھ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام بمع موبائل نمبربھی درج کیا جائے تاکہ شکایت کنندہ موقع پر اپنی شکایات درج کرواسکے اور گراں فروشوں کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے فلورملز سے آٹے کی فراہمی کو یقینی بنا یا جائے۔ جنوبی پنجاب میں ایک اور بحران جنم لے رہا ہے چینی آٹا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ شوگر مافیا اور فلور ملز فعال مفادات کے ٹکراؤ کی زبردست مثال شوگر اور فلور مافیا کے خلاف بھی تحقیقات آج تک کسی نتیجے پر نیہں پہنچی کیونکہ اس وقت حکومت کے اپنے ہی قریبی ساتھیوں کی اپنی شوگر ملز اور فلور ملز موجود ہیں جس میں تحریک انصاف کے جہانگیر ترین، خسرو بختیار، فیصل مختیار، ہمایوں اختر، تحریک انصاف کے ڈیڑھ سالہ اقتدار میں ڈیرہ غازی خان اور اس کے گردونواح میں مہنگائی کا طوفان روز مرہ کی گھریلوں استعمال میں ہونے والی اشیاء کے ریٹ آسمان کو چھونے لگے ضلعی انتظامیہ مہنگائی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اس وقت سابقہ دور حکومت اور موجودہ دور حکومت کا موازنہ کیا جائے تو دال کا ریٹ 70 روپے سے بڑھ کر 270 روپے لال مرچ 180 روپے سے بڑھ کر 480 روپے چینی 50 روپے سے بڑھ کر 80 روپے گھی 140 روپے سے بڑھ کر 220 روپے گڑ 40 روپے سے بڑھ کر 140 روپے چاول باسمتی 90 روپے سے بڑھ کر 160 آٹا 30 روپے سے بڑھ کر 70 روپے میں فروخت ہونے لگے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کا اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر شیخ شہباز محمود اور جنرل سیکرٹری شیخ محمد حسین سلیم منعقد ہوا جس میں عہدیداران و ممبران چوہدری محمد صفدر گجر عاصم اشرف مرزا نعیم حاجی طارق ڈاکٹر جاوید شیخ یونس اور چوہدری فیصل ودیگر نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ شہباز محمود اور شیخ محمد حسین سلیم نے کہا کہ اس وقت ضلع بھر کی آبادی تیس لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جبکہ انتظامیہ فلور ملز مالکان کو سرکاری گندم کا کوٹہ روزانہ تین ہزار بوری گندم فراہم کررہی ہے جو کہ موجودہ آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے جو کوٹہ ملز مالکان کو فراہم کیا جا رہا ہے وہ صرف شہری آبادیوں میں پورا آتا ہے جبکہ 70 فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے جبکہ گزشتہ سال موسمی اثرات کی وجہ سے گندم کی پیداوار بہت کم ہوئی ہے جو کہ اب دیہی علاقوں میں ختم ہوچکی ہے اور آٹا کی ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ راجن پور میں آٹے کا خود سا ختہ بحرا ن پیدا کر نے وا لے بلیک ما فیا کے خلا ف گزشتہ رو ز ڈپٹی کمشنر نے و زیر اعظم عمرا ن خا ن اور وز یر اعلی پنجا ب عثما ن خا ن بزدار کی ہدا یات پرعمل کر تے ہو ئے ضلع بھر کا وزٹ کیا اور سستے آٹے کی فرا ہمی کو یقینی بنایا ڈپٹی کمشنر را جن پور خود ازآٹاسیل پو ائنٹ کی نگرا نی کی اور سا رفین سے مسا ئل در یا فت کئیاور وزٹ کیت دورا ن ڈپٹی کمشنر را جن پور ذوالفقا ر علی کھر ل نے میڈ یا سے گفتگو کرتے ہو ئے انہو ں نے کہا کہ آٹے کا خو د سا ختہ بحرا ن پید اکیا گیا جس کو ضلعی انتظا میہ نے دن را ت کی محنت سے نا کا م بنا دیا گیا انہو ں نے میڈ یا سے اپیل کی ہے کہ بلیک ما فیا اور خو د سا ختہ مہنگا ئی کر نے وا لے دو کا ندارو ں کی نشا ند ہی کر یں تا کہ ایسے بلیک ما فیا کے خلا ف فوری کا روا ئی کی جا سکے در یں اثنا شہر یو ں اور معرو ف کا رو با ری شخصیت میا ں نو ید ایا ز خوا جہ، حا جی عبدالستا ر رحمانی، قانو ن دا ن و سٹی کو نسلر محمد عمران ستار رحمانی ایڈووکیٹ، حاجی محمد اشر ف طا رق، حاجی ظہور احمد رحما نی،علا ؤ الد ین مزا ری، منیر نا صر، سید عون شا ہ بخاری،عبدالصبور رحمانی، محمد حسین گو پا نگ، آصف چا نڈیہ، ملک رضا کھیا رہ و دیگر نے ڈپٹی کمشنر را جن پور اور اسکی ٹیم ا ے سی را جن پور میا ں مرا د حسین اور تحصیلدار را جن پور شیخ محمد اصغر کی کا ر گر دگی کو بے حد سراہتے ہو ئے انہیں خرا ج تحسین پیش کیا۔

مظاہرہ

مزید : ملتان صفحہ آخر