موجودہ بحران وزیراعلی عثما ن بزدار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر یگا

موجودہ بحران وزیراعلی عثما ن بزدار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر یگا
موجودہ بحران وزیراعلی عثما ن بزدار کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر یگا

  



تجزیہ ایثار رانا

اس میں کوئی شک نہیں کہ جب سے نیا پاکستان بنا ہے عمران خان پر دیگر حوالوں سے دباؤ کے ساتھ سب سے بڑا دباؤ وزیراعلی بزدار کی سلیکشن کا رہا،،اس دوران وزیر اعلی پر نقاد کھل کے تنقید کرتے رہے،،حیرت ہے کہ شہباز شریف کے دور میں ایسا کوئی نہیں کرسکتا تھا،،ڈی جی پر آر اور دیگر ذرائع کے ہوتے ایسا ممکن نہیں تھا،شاید تب کا دانشور اب اپنی لیٹ نکال رہا ہے،،کیونکہ تب شہباز شریف کے خلاف لکھنا اتنا آسان نہیں تھا،یہاں عثمان بزدار کے حوصلے کی داد نہ دینا زیادتی ہوگا،جہاں عثمان بزدار اپوزیشن کے لیے سافٹ ٹارگٹ رہے وہیں،انہیں اپنی پارٹی میں موجود طاقتور جاگیرداروں کے اندرونی سازشوں کا بھی سامنا ہے اسی طرح انکے اتحادی بھی گاہے بگاہے اپنا غصہ نکالتے رہتے ہیں،اب صورت حال یہ ہے کہ ایک بار پھر وزیراعلیٰ کے خلاف شور و غوغا ہے،یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار مخالفین کو کامیابی ملے گی تو میرا جواب ہے نہیں بے الکل نہیں،،،اگر میں یہ کہوں کہ اس بار وزیراعظم کے ساتھ خود وزیر اعلی عثمان بزدار اس پوزیشن میں ہیں کہ ان سازشوں کا مقابلہ کر سکیں،انکی گرپ حکومتی معاملات میں پہلے کی نسبت زیادہ مظبوط ہے،پھر اس بار انکی کابینہ میں فیاض الحسن چوہان جیسے جنگجو بھی ہیں جو پوری طرح وزیر اعلی کے ساتھ کھڑے ہیں،میرا یہ دعوی ہے کہ موجودہ بحران عثمان بزدار کو پہلے سے زیادہ مظبوط کرے گا،،وہ آہستہ آہستہ بحرانوں سے نکلنا سیکھ رہے ہیں،،انکا اعتماد اب سو گنا زیادہ ہے،اس بار پارٹی اور اتحادی غیر دانستہ انکی مدد کررہے ہیں،اور یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اگر پنجاب کو سیاسی طور پر چلانا ہے تو وزیر اعلی عثمان بزدار ہی چلا سکتے ہیں،ٹھیک ہے انتظامیہ کا کردار بہت اہم ہے لیکن انتظامیہ سیاسی حکومت کے تابع رہے تو بہتر ہے،،جلد یا بدیر وزیر اعظم کو ایک تگڑا فیصلہ کرنا پڑے گا،،یہاں یہ بات ضرور عرض کرونگا کہ پنجاب میں آدھے سے زیادہ بحران گڈ گورننس کا ہے اگر وزیر اعلی سب کچھ چھوڑ کے اس جانب توجہ دیں تو ان پر سے بہت سا دباؤ ختم ہوسکتا ہے،اب بہت ہوگیا وزیراعلی کو ایک عاجز انکسار اور کم گو وزیراعلی سے ایک فعال تگڑا اور فیصلہ کرنے والا وزیراعلی کے طور پہ سامنے آنا ہوگا،،اور اس میں کوئی فرد کردار ادا کرسکتا ہے تو صرف اور صرف ایک ہی شخص ہے فیاض الحسن چوہان،ان سے اچھی امیج بلڈنگ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں انہیں لڑنا بھی آتا ہے اور لڑانا بھی۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ