’قدیم یونانی تہذیب و ثقافت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد

    ’قدیم یونانی تہذیب و ثقافت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام ”قدیم یونانی تہذیب و ثقافت“ مذاکرہ و مشاعرہ“کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت معروف شاعر، نظامت کار، سلمان صدیقی نے کی۔ مہمانانِ خاص امریکہ سے آئے ہوئے معروف شاعررفیع الدین راز، (کینیڈا) سے آئے ہوئی معروف شاعرہ تبسم انور، اسحاق خان اسحاق، لیاقت میموریل لائبریری کے ڈائریکٹر نزاکت فاضلانی، اقبال سہوانی تھے۔ اس موقع پر سلمان صدیقی نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ انسانی تہذیب و تمدن کا سفرِارتقا لاکھوں سالوں پر محیط ہے۔ کرہَارض پر انسان کے وجو کی رزم آرائی اور بزم آرائی کی داستان اس تناظر میں لاکھوں برس پرانی ہے حقیقت روز روشن کی طرح ذہن نشیں رہے کہ تہذیب انسانی کا سفرِ ارتقا علم و شعور یعنی فکر و فلسفہ کے سایے میں طے ہوتا آیاہے، یعنی یہ سفر (KNOWLEDGE-BASED)رہا ہے۔جہد حیات میں علم و شعور کے حصول کا سلسلہ جاری و ساری ہے اور عہد بعہد علم و شعور اور فکر و فلسفہ کی روشنی میں یہ سفرِ ارتقا یعنی تاریخ کا سفر آگے کی سمت بڑھتا رہا ہے با لفاظ دیگر جو ہمیشہ سے پیش رفت کا سر رہا ہے۔ یہ سفر کبھی مراجعت کے مرحلوں سے دوچار ہیں ہوا۔تہذیب و تمدن کے ابتدائی مراکز میں میسوپوٹامیہ، مصر اور وادی سندھ کے حوالے تاریخِ انسان کے روشن ابواب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں قدیم چین کا بھی ایک بڑا حوالہ ہے۔ میسوپوٹامیہ میں سومیرین کی عظیم ایجاد تحریر (WRITING)اور قانون کی پہلی دستاویز(CODE OF HAMURABI)کے حوالے سے اُن کی تمدنی عظمتِ دیرینہ سے کون انکاری ہوسکتا ہے؟یہ تاریخی حوالے لگ بھگ تین ہزار سال قبلِ مسیح کے ہیں۔ کرہَ ارض کے ان خطوں میں تہذیب و تمدن کے کیا ادوار آئے، وہ ہنوز تاریخ میں رقم ہونے باقی ہیں۔ قدیم یونان کے حصے میں تہذیب و تمدن کے شعبوں میں فکر و فلسفہ، سائنس اور شعرو اد ب کی دنیا ئیں ظہور پذیر ہوئیں۔ پانچویں صدی قبل مسیح میں تاریخ نویسی کے بابا آدم ہیروداٹس (HERO DOTUS)اور ساتویں صدی قبل مسیح کے عظیم شاعر ہومر بھی قدیم یونان کے تہذیبی و تمدنی تفخر کا حصہ بنے۔ نزاکت فاضلانینے کہا کہیونان ایک پہاڑی ملک ہے اور یہاں چھوٹے بڑے بے شمار جزیرے موجود ہیں۔ اس لیے یہ ملک بھی چھوٹی بڑی کئز ریاستوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ یونان کی طاقت اور علم و فضل کا مرکزایتھنز ہوا کرتا تھا دوسرے نمبر پر سب سے بڑی اور مضبوط ریاست سپارٹا ہوا کرتی تھی۔ ماضی میں کئی بار ایسا بھی ہوتا رہا کہ ایتھنز اور سپارٹا کی ریاستیں آپس میں بھی ٹکراتی رہیں۔ اس کے برعکس جب بھی کبھی کوئی بیرونی حملہ آور یونان پر یلفار کرتا تو تمام ریاستیں فوری طور پر متحد ہوکر بیرونی حملہ آور کا مقابلہ کرتیں۔ اس وقت یونان کے لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکارہورہے تھے۔ اس پر سب سے پہلے سقراط نے آواز بلند کی لیکن وہاں کی اشرافیہ نے سقراط کو نوجوانوں کو بہکانے اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے الزام کے تحت گرفتار کرادیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر