غلط ڈیزائننگ کی وجہ سے سیہون کا تاریخی قلعہ تباہ ہونے کا امکان

غلط ڈیزائننگ کی وجہ سے سیہون کا تاریخی قلعہ تباہ ہونے کا امکان

  



سیہون شریف (رپورٹ/ نصراللہ انصاری ) سیہون بیوثیفکیشن پلان کے تحت کروڑوں روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ترقیاتی کاموں میں ٹھیکیداروں اور انجینئر کی ملی بھگت سے ناقص مٹیریل کا استعمال زیر تعمیر گٹر نالے کی غلط ڈیزائننگ کی وجہ سے سیہون شریف کا تاریخی قلعہ اور شہر تباہ ہوجائے گا سیاسی سماجی و سول سوسائٹی کے رہنماؤں کا پریس کلب کے سامنے احتجاج کرپٹ اور کمیشن مافیا ٹھیکیداروں اور انجنیئر سہیل میمن کو ہٹاکر ایماندار عملے سے شفاف کام کرایا جائے تفصیلات کے مطابق وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایات پر سیہون شریف کے بنیادی مسائل حل کرنے اور حضرت لعل شہباز قلندر کی نگری کو صاف ستھرا خوبصورت بنانے کے لیے شہر میں بیو ٹیفکیشن پلان پر عملدرآمد ہوتے ہی کرپشن اور کمیشن مافیا سرگرم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے شہر میں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں ہوشربا کرپشن ہو رہی ہے شہر میں زیر تعمیر گٹر نالے کی غلط ڈیزائننگ اور ناقص مٹریل کے استعمال پر اپنے تحفظات کا ظہار کرتے ہوئے سیہون کے سیاسی سماجی و سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شہر سے پریس کلب تک ریلی نکال کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اس موقع پر سیاسی سماجی و سول سوسائٹی کے رہنماؤں مولا بخش نوحانی کامریڈ علی اکبر ملاح وڈیرہ نظیر احمد سولنگی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم شہر کے ترقیاتی کاموں کے ہرگز خلاف نہیں مگر افسر شاہی کے غلط پلاننگ اور ترقیاتی کاموں میں کرپشن ہرگز برداشت نہیں کرینگے شہریوں کا کہنا تھا کہ موجودہ زیر تعمیر گٹر نالے کی نہ صرف ڈیزائننگ غلط ہے بلکہ ان میں استعمال ہونے والا مٹریل بھی انتہائی ناقص ہے جس سے سیہون کے تاریخی قلعے جو کہ سندھ کی قدیم تہذیب کی پہچان ہے تباہ ہوجائے گا اور شہر کا بیشتر حصہ گٹر کے گندے پانی کے زیر آب آجائے گا شہریوں نے صحافیوں کو بتایا کہ موجودہ نالے کی کھدائی بچاؤ بند کے ساتھ ہو رہی ہے جوکہ شہر سے اونچائی کے مقام پر ہے اور سیلاب کی صورت میں اس سے شہر کے ڈوبنے کے امکانات بھی بڑھ جا ئے گا شہریوں نے وزیر اعلی سند ھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کرتے ہو ئے کہاکہ شہر میں ہونے والے کثیرالمعیاد کاموں پر خاص توجہ دے کر ایماندار ٹھیکیدار اور قابل انجینئرتعینات کیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر