خواتین اوربچوں کیخلاف جرائم کاخاتمہ میراوژن ہے،آئی جی سندھ

    خواتین اوربچوں کیخلاف جرائم کاخاتمہ میراوژن ہے،آئی جی سندھ

  



کراچی(کرائم رپورٹر)آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام کی زیر صدارت اجلاس میں عوام اورسول سوسائٹی کے مابین انسانی حقوق کے تحفظ کے ضمن میں روابط پر بات چیت کی گئی۔اجلاس میں جسٹس ریٹائرڈماجدہ رضوی، کرامت علی،بیرسٹر حیاء زاہد کے علاوہ سول سوسائٹی/مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندگان،معروف شخصیات کے علاوہ ڈی آئی جیز، ہیڈکوارٹرز، فائنانس،اسپیشل برانچ، ٹریننگ،ڈائریکٹرلیگل،اے آئی جیزآپریشنز،ویلفیئر، ایس پی سجاول اور ایس پی ہیومن رائٹس سی پی او نے شرکت کی۔عوام کی خدمت، خواتین اوربچوں کیخلاف ہونیوالے مختلف جرائم کاخاتمہ اورانکے مسائل و مشکلات کا ازالہ اور حل میرا وژن ہے۔جرائم کیخلاف بلا کسی امتیاز و تفریق کاروائی کرنا اور آئین اورقانون پرعمل درآمد کرانا میرا مقصد ہے۔کوئی کتنا ہی باثراور طاقتورکیوں نہ ہو قانون سے بالا تر نہیں ہے۔قانون سب کے لیئے ایک ہے۔ خواتین اوربچوں کیخلاف جرائم میں ملوث عناصراورجنسی درندوں کی بیخ کنی کے لیئے ہمیں ملکر کام کرنا ہوگا۔این جی اوز خواتین اوربچوں کے حقوق اور انکے تحفظ سے متعلق مسائل اُجاگرکریں، سندھ پولیس کوانکے حل کے لیئے اپنے ساتھ پائیں گے۔تعلیم اورتربیت,صحت اورروزگار کے حوالے سے عام لوگوں میں شعور اُجاگرکریں۔پڑھے لکھے افرادآگے آئیں اورایک پرامن اور پرسکون معاشرے کے قیام میں اپنا انفرادی اوراجتماعی کردار یقینی بنائیں۔انٹرنیشنل کرائم انڈیکس میں 88 ویں نمبرپرآناسندھ پولیس کی شب وروز محنت کا بین ثبوت ہے۔سیاحت بڑھنے سے پاکستان ایک فیملی اسٹیشن بن گیا ہے۔کم عمربچیوں کی شادی اوراس کیوجہ سے لاحق ہونیوالے صحت جیسے مسائل کی بابت شعوراُجاگری کے لیئے تربیتی لٹریچر کی ترتیب اشدضروری ہے۔ اس ٹریننگ مینؤل/لٹریچر کی تیاری میں این جی اوزاپنا ہر ممکن تعاون اورتجاویز و مشاورت کویقینی بنائیں۔ایس پی سجاول سہائے عزیز کی اجلاس کوبریفنگ۔ویمن پروٹیکشن سیل پر مختلف نوعیت کی 3282 شکایات موصول ہوئیں۔جن میں سے دس آؤٹ آف سندھ تھیں۔مجموعی شکایات میں سے3134کا اذالہ کیا گیا۔ شکایات حل/اذالہ کاشرح تناسب95فیصد رہا۔ویمن پروٹیکشن سیل پر کراچی میں 21، حیدرآباد میں 1845، سکھر میں 1343، شہیدبینظیرآباد میں 31 دیگراضلاع میں 32 جبکہ آؤٹ آف سندھ سے دس شکایات موصول ہوئیں۔اذالہ کی گئیں /حل ہونیوالی شکایات میں کراچی کی21،حیدرآباد کی1799،سکھر1242، شہیدبینظیرآباد31دیگر اضلاع کی32 اور بیرون سندھ کی دس شامل ہیں۔ مذکورہ شکایات فروری2017ء؁ تا20 جنوری سال 2020ء؁ تک کے دورانیئے پر مشتمل ہیں۔سی پی او میں قائم انسانی حقوق کے سیل پرسال2019ء؁ کے سیکنڈ میں 652 شکایات موصول ہوئیں۔جن میں سے433 کو حل کرلیا گیا جبکہ219 پرسندھ پولیس کے مختلف یونٹس میں کام ہورہا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر