غیر قانونی طریقے سے جمع شواہد کو تسلیم کر لیا تو ہمیشہ کیلئے دروازہ کھل جائیگا: جسٹس منصور علی 

غیر قانونی طریقے سے جمع شواہد کو تسلیم کر لیا تو ہمیشہ کیلئے دروازہ کھل ...

  



اسلام آباد (این این آئی)جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس معاملے پر رضا ربانی نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے قیام کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔ بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی۔ رضا ربانی نے کہاکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا کام مواد جمع اور انکوائری کرنا ہے، ریکوری یونٹ کو ایف بی آر اور ایف آئی اے کی معاونت بھی فراہم کی گئی۔ رضا ربانی نے کہاکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو ججز سمیت تمام شہریوں کی زندگی میں مداخلت کا اختیار دیا گیا، اٹاثہ جات ریکوری یونٹ کے قواعد آرٹیکل 209 کے منافی ہیں۔رضا ربانی نے کہاکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ نے اپنے قواعد کے تحت ججز کیخلاف انکوائری کی، ریکوری یونٹ نے وزیرقانون کو آگاہ کیا کہ ججز کیخلاف شکایت کے ہمراہ شواہد نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ اٹاثہ جات ریکوری یونٹ کو جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف تحقیقات کا اختیار کس نے دیا؟ کونسا قانون معاون خصوصی کے اختیارات کا تعین کرتا ہے؟۔ جسٹس مقبول باقر نے سوال اٹھایاکہ کیا وزیراعظم اپنے اختیارات معاون خصوصی کو تقویض کر سکتے ہیں؟۔ رضا ربانی نے کہاکہ وزیراعظم کے اختیارات تقویض کرنے سے متعلق کچھ نہیں کہ سکتا۔ سندھ بار کونسل کے وکیل رضا ربانی کے دلائل مکمل ہونے پر سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی بار ایسوسی ایشن اور پی ایف یو جے کے وکیل رشید اے رضوی نے دیئے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہاکہ غیر قانونی طریقے سے کھوج لگا کر ایک جج کی جائیداد سے متعلق اکھٹی کی گئی معلومات پر کارروائی ہو سکتی ہے۔ رشید رضوی نے کہاکہ تحقیقات کے لیے قانونی تقاضے پورے نہ ہوں تو اس پر کاروائی نہیں ہو سکتی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ غیر قانونی طریقے سے اکھٹے کیے گئے شواہد کو اگر تسلیم کر لیا گیا تو اس سے ہمیشہ کے لیے دروازہ کھل جائے گا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر