آٹے کی قیمتیں مصنوعی بحران، حقیقی مسئلہ

آٹے کی قیمتیں مصنوعی بحران، حقیقی مسئلہ

  



آرٹیکل

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

آٹے کی قیمتیں

مصنوعی بحران، حقیقی مسئلہ

پاکستان میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ حکومتی دعووں کے مطابق بھلے یہ بحران مصنوعی ہو لیکن عوام کے لئے اس کی وجہ سے حقیقی مسئلہ پیدا ہوچکا ہے۔نااہلی انتہاؤں پر ہے، دراصل بڑے کسان، مل مالکان اور دیگر کاروباروں سے وابستہ افراد اس وقت پارلیمنٹ کا حصہ بن کر ایسی پالیسیاں بنا رہے ہیں یا ان پالیسیوں کا دفاع کررہے ہیں جن کا مقصد عوام کی جیبیں کترنا ہے، ان کی مہنگائی کی چکی میں پیسنا ہے اور ان کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل بنانا ہے۔ نانبائیوں نے روٹی میں نمک کی مقدار زیادہ شامل کرنا شروع کردی ہے کیونکہ ان کے مطابق کئی غریب غرباء نمک ملی روٹی پانی سے ہی کھاکر صبر شکر کرلیتے ہیں۔ ایسے میں تبدیلی سرکار سے لگائی جانے والی امیدیں تیزی سے دم توڑ رہی ہیں اور عوام میں ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں تندور بند ہو گئے ہیں اور چار نان بائی گرفتار ہیں جبکہ بلوچستان سندھ اور پنجاب میں آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔وفاقی حکومت نے صورتحال کا نوٹس تو لیا ہے اور صوبائی حکومتیں اسے مصنوعی بحران قرار دے رہی ہیں لیکن زمینی حقائق کے مطابق لوگوں کے گھروں میں دسترخوان ویران اور بازاروں میں تندور بند ہو گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پشاور سمیت مختلف شہروں میں نان بائیوں کی ہڑتال جاری ہے جبکہ پولیس نے چار نان بائیوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔حکومت کے ساتھ نان بائیوں کے مذاکرات ہوئے ہیں لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی جس وجہ سے نان بائیوں نے ہڑتال شروع کر دی تھی۔پشاور شہر میں تندور بند رہے اس لیے لوگ متبادل خوراک جیسے چاول اور بیکری پر دستیاب اشیاء سے گزارا کرتے رہے۔پشاور میں عمومی طور پر روٹی تندور سے منگوانے کا رجحان ہے اور یہی وجہ ہے کہ شہر میں 2500 کے قریب نان بائی ہیں۔خیبر پختونخوا نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد اقبال کا کہنا ہے کہ ایک ماہ پہلے تک فائن آٹے کی 85 کلو گرام کی بوری کی قیمت 4000 روپے تک تھی لیکن اب اس کی قیمت 5000 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس عرصے میں گیس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قیمت میں اضافہ نہ کریں اور حکومت انھیں مجبور کر رہی ہے کہ روٹی کی قیمت میں اضافہ نہ کیا جائے۔

پشاور میں سال 2013 میں 170 گرام کی روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر ہوئی تھی جو اب تک جاری ہے لیکن اس دوران آٹے اور دیگر تمام اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

حکومت کے ساتھ مذاکرات میں نان بائی 150 گرام کی روٹی کی قیمت 15 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے رہے جبکہ حکومت کی جانب سے 170 گرام کی روٹی پر اصرار کیا جاتا رہا ہے۔ وہ ہڑتال سے بچنے کے لیے 170 گرام کی روٹی پر بھی راضی ہیں لیکن حکومت نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے انکار کر رہی ہے۔پشاور میں نان بائی بھی مقررہ وزن پر روٹی فروخت نہیں کرتے بیشتر نان بائی 100 گرام تک کی روٹی فروخت کرتے ہیں اور بعض علاقوں میں وزن اس سے بھی کم ہوتا ہے۔

پشاور کے شہریوں کا کہنا ہے کہ نان بائیوں نے پشاوری نان سے پاپڑ بنا دیے ہیں روٹی اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ اگر ذرا ٹھنڈی ہو جائے تو کھائی بھی نہیں جاتی۔حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں اب تک ناکام نظر آتی ہے۔ نان بائیوں سے جرمانوں کی مد میں رقم وصول کی جاتی ہے لیکن روٹی کا وزن اور اس کے معیار کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔

کہا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت نے افغانستان آٹا بھیجنے کے لیے ایک ماہ پہلے پرمٹ جاری کیے تھے جس سے خیبر پختونخوا میں گندم کا سٹاک ختم ہو گیا تھا اور اب یہی صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔پشاور کے رام پورہ گیٹ کے قریب غلے منڈی میں آٹے کے تھیلے بڑی مقدار میں پڑے تھے۔ ان آٹا ڈیلروں نے بتایا کہ بنیادی طور پر 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک ماہ پہلے تک 850 روپے تک تھی اور اب اس کی قیمت 1100 روپے ہو گئی ہے۔ آٹے کی قیمت میں اضافے سے خریداروں کی تعداد اب کم ہو گئی ہے۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ’پنجاب سے گندم خیبر پختونخوا کی فلور ملوں کو فراہم کی جا رہی ہے اور جلد ہی آٹے کے مصنوعی بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔

بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں آٹے کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ تھیں۔آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر خدائیداد خان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ شہر میں اس وقت آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 11 سو سے 1120 روپے تک ہو گئی ہے۔کوئٹہ اور بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ گذشتہ سال اکتوبر میں شروع ہوا تھا۔اکتوبر سے پہلے آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 850 روپے تھی لیکن اس کے بعد اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔گندم اور آٹے کے بحران کے پیش نظر گذشتہ سال کے آخر میں حکومت بلوچستان نے سیکرٹری خوراک اور ڈائریکٹر جنرل خوراک کو معطل کیا تھا۔حکومت بلوچستان کا انہیں معطل کرنے سے متعلق یہ موقف تھا کہ انھوں نے بروقت گندم کی خریداری نہیں کی جس کے باعث آٹے کا بحران پیدا ہوا۔تاہم معطل کیے جانے والے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انہیں بلوچستان کے علاقے نصیر آباد سے جو گندم خریدنے کا کہا گیا تھا وہ ناقص تھی جس کے باعث انھوں نے وہ گندم نہیں خریدی۔آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر خدائیداد خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بلوچستان میں فلور ملوں کو گندم کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا تو اوپن مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔حکومت بلوچستان گندم اورآٹا بحران پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔حکومت نے پاسکو کو ڈھائی لاکھ بوری گندم کی فراہمی کے لیے کہا ہے۔ایک ڈیڑھ ہفتے تک یہ گندم حکومت بلوچستان کے حوالے کی جائے گی۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے گندم اور آٹا بحران کا نوٹس لیتے ہوئے تمام کمشنروں اورڈپٹی کمشنروں اپنے ڈویژنوں اور اضلاع میں عوام کو حکومت کے مقرر کردہ نرخ پر آٹے اور گندم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انھوں نے سرکاری حکام کو ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی جائے۔محکمہ خوراک کو ہدایت کی گوداموں میں دستیاب گندم فلور ملوں کو فراہم کرے اور آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

سندھ کے دارالحکومت کراچی کے رہائشی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کا سامنا کر رہے ہیں لیکن صحرائی علاقے تھر میں حالات سنگین ہیں جہاں گندم کی کاشت ہی نہیں ہوتی۔تھر کے دارالحکومت مٹھی میں اس وقت عام دکان پر آٹا 55 رپے تک فروخت ہو رہا ہے جبکہ ننگرہار کر سمیت سرحدی علاقوں کے گاوں دیہاتوں میں اس کی قیمت 70 سے 80 روپے فی کلو ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ صحرائے تھر گذشتہ کئی سالوں سے خشک سالی کا شکار تھا، یہاں سے خواتین اور بچوں میں غذائی قلت کی وجہ سے یہاں نومولود بچوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، گذشتہ سال بھی محکمہ صحت کی اعداد و شمار کے مطابق 800 کے زائد بچے ہلاک ہوئے۔گذشتہ سال یہاں بارشیں ہوئیں جس سے لوگوں نے باجرے اور جوار کی بھی کاشت کی لیکن ٹڈی دل کے حملوں اور بعد کی بارشوں اور تیز ہواں سے فصلیں شدید متاثر ہوئیں۔حکومت نے مٹھی، اسلام کوٹ سمیت چار شہروں میں 43 رپے فی کلو آٹا فراہم کرنے کے لیے اسٹال لگائے لیکن لوگوں کی تعداد زیادہ اور آٹے کی بوریاں کم ثابت ہوئیں۔ ان میں سے بھی کچھ اسٹال گذشتہ دو روز سے بند ہیں۔

حکومت سندھ کی سٹون پالیسی کی وجہ سے بھی صحرائی علاقے متاثر ہوتے ہیں، فلور ملزز میں جتنے سٹون ہوں گے اسے اتنے ہی بوریاں فراہم کی جائیں گی تھر میں دو سے چار سٹون والی ملز ہیں جن کا یومیہ فی اسٹون سات بوریاں کوٹہ ہے جو ناکافی ہے۔

سندھ کے دوسرے بارانی علاقے کاچھو میں بھی آٹا 70 رپے فی کلو دستیاب ہے، صرف جوھی شہر کے قریب کچھ گندم ہوتی ہے جبکہ کھیر تھر پہاڑی سلسلے میں کہیں بھی گندم کاشت نہیں کی جاتی، یہاں سے بلوچستان کے بھی کئی علاقوں میں گندم جاتی ہے۔

دوسرے جانب کراچی میں آٹے کی قیمتیں زیادہ ہونے اور معیار بہتر نہ ہونے کی شکایت ہیں تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ خریداری مراکز پر 43 رپے فی کلو آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال 30 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوئی تھی، موجودہ وقت بھی سکھر اور لاڑکانہ کے مراکز میں 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے، پاسکو نے 90 ہزار میٹرک ٹن گندم رلیز کردی ہے جبکہ باقی 3 لاکھ ٹن ابھی آنی ہے جس سے یہ آٹے کے عدم دستیابی اور مہنگے ہونے کی شکایت ختم ہوجائیں گی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ آٹے کا بحران مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے سندھ سے گندم پنجاب اور بلوچستان منتقل کی گئی افغانستان بھی سمگل ہوتی ہے، بقول ان کے پاسکو سے گندم کی فراہمی میں تاخیر گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے ہوئی تھی آئندہ دو روز میں صورتحال معمول پر ہوگی۔سندھ میں سردی میں اضافے اور بارشوں سے گندم کی فصل پر مثبت اثرات ہوئے ہیں اور آنے والی فصل بمپر کراپ ہوگی۔

جہاں تک حکومتِ پنجاب کا تعلق ہے تو اس نے خیرسگالی کے طور پر روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار ٹن صوبہ خیبرپحتونخوا بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے اس بات کا اعلان پنجاب کے وزیرِ اعلٰی سردار عثمان بزدار نے ملک میں آٹے کے بحران کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس کے بعد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 'پنجاب میں آٹے کا بحران نہیں ہے اور وافر گندم کے سٹاک موجود ہیں۔'تاہم محکمہ خوارک پنجاب کو چکی آٹا کی قیمت میں استحکام کے لیے اقدامات اٹھانے کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔ محمکہ خوراک نے خصوصی اجلاس کے دوران وزیرِاعلٰی کو بتایا کہ اس حوالے سے فلور ملوں کی چھان بین جاری ہے۔تاحال 1119 ملوں کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں 542 کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کا گندم کا کوٹہ معطل کر دیا گیا۔ جبکہ 88 فلور ملوں کے لائسنس معطل کر کے ان پر 14 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ ان میں وہ ملیں بھی شامل ہیں جنہوں نے گندم کے کوٹہ کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا۔ایک بریفنگ میں وزیرِ اعلٰی کو بتایا گیا کہ پنجاب میں فلور ملوں تقریباً 25 ہزار ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیرِاعلٰی پنجاب کی ہدایت پر قائم سیل پوائنٹس پر سرکاری نرخوں پر آٹے کے تھیلوں کی فراہمی جاری ہے۔

ملک میں مطلوبہ مقدار میں گندم کی موجودگی، فلور ملوں کو باقاعدگی کے ساتھ ان کی ضرورت کے مطابق فراہمی اور معمول کے مطابق وہاں گندم کی پسائی کے باوجود دکانوں سے آٹا کیوں غائب ہے؟ متعلقہ ذمہ داروں پر اس سوال کا جواب لازم ہے۔ حکومت نے آٹے پر کوئی نیا ٹیکس بھی عائد نہیں کیا تو پھر فلور ملوں کے پاس اس کی قیمتیں بڑھانے کا کیا جواز ہے؟ اس وقت ملک کے طول و عرض میں آٹے کا جو بحران دکھائی دے رہا ہے اور اس کی قیمتیں بیلگام ہوتی جا رہی ہیں، اس سے عوام کی بیچینی میں اضافہ ہونا ایک منطقی بات ہے۔

ان حالات سے موقع پرست عناصر کو شہ مل رہی ہے جس کی بنا پر حالات کوئی بھی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ مارکیٹ کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اگر فلور ملیں یکطرفہ طور پر آٹا پانچ روپے فی کلو مہنگا کر رہی ہیں تو دکاندار اس سے بھی زیادہ اضافہ کر رہے ہیں۔ رہی سہی کسر سوشل میڈیا پر پوری کی جا رہی ہے جہاں آٹے کی قیمتوں کو مزید بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکام کو تمام تر زاویوں سے صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس ضمن میں فلور مل مالکان کا پچھلے دنوں یہ موقف سامنے آیا تھا کہ حکومت بجلی کے فی یونٹ نرخ بتدریج بڑھا رہی ہے اور مختلف مدوں میں ٹیکسوں کا حجم بڑھ رہا ہے جس سے بجلی کے بل کئی گنا زیادہ آرہے ہیں۔ یہ رپورٹ بھی منظر عام پر آچکی ہے کہ بہت سی فلور ملیں سرکاری کوٹہ اوپن مارکیٹ میں فروخت کر رہی ہیں جو افغانستان اسمگل ہو جاتا ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے دو دن کے بعد یہ نوید سنائی ہے کہ حکومت نے آٹے کی قیمتیں معمول پر لانے کیلئے سرکاری کوٹہ فروخت کرنے والی ملوں اور فرائض سے غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جو خوش آئند بات ہے، تاہم ضروری ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر معاملے کا مستقل حل نکالاجائے۔

سرخیاں

بھلے یہ بحران مصنوعی ہو لیکن عوام کے لئے اس کی وجہ سے حقیقی مسئلہ پیدا ہوچکا ہے

دکاندار من مرضی سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں

غریب غرباء نمک ملی روٹی پانی سے ہی کھاکر صبر شکر کرلیتے ہیں

تصاویر

وزیر اعظم عمران خان

جہانگیر ترین

آٹے کی بوریاں

مزید : ایڈیشن 1