مہنگائی کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ!

مہنگائی کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ!

  



ضیاء الحق سرحدی پشاور

ziaulhaqsarhadi@gmail.com

گزشتہ سال کے حوالہ سے اگر کہا جائے کہ مہنگائی کا سال تھا تو غلط نہ ہو گا،جبکہ اوسطاً ایک سال میں مہنگائی کی شرح ساڑھے 5فیصد سے ساڑھے 18فیصد تک پہنچ گئی۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2019ء کے تیسے ہفتے کے دوران کھانے پینے کی21بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں 17فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس کے باعث ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح18.5فیصد تک پہنچ گئی،ایک سال قبل دسمبرکے چوتھے ہفتے میں یہ شرح 5.5فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی51بنیادی اشیاء میں سے47اشیاء گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں 174فیصد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔ٹماٹر گزشتہ سال کے مقابلے میں 174فیصد،پیاز 151فیصد اور لہسن 118فیصد مہنگا فروخت ہوا،آلو کی قیمت88فیصد،دال مونگ کی قیمت 66فیصد،دال ماش کی40فیصداور چینی کی قیمت ایک سال میں 28فیصد زیادہ ہو گئی ہے جو کسی صورت بھی ایک عام آدمی کے لئے قابل برداشت نہیں ہے۔لیکن نیا سال شروع ہوتے ہی پٹرولیم کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ پہلے سے پریشان حال عوام کو مزید بے حالی کے دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے،پٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا مطلب ہر ایک چیز کی قیمت میں کئی گنا اضافہ لیا جاتا ہے،اس سے صرف گاڑی رکھنے اور پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والے ہی متاثر نہیں ہوتے۔سبزی سے لیکر ہر چھوٹی بڑی چیز کی ٹرانسپوٹیشن کا خرچ بڑھے گا اور نتیجہ میں ان کی قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے،جس سے وہ عام آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا جو پٹرولیم مصنوعات کبھی خریدتا ہی نہیں۔مہنگائی کی اس لہر سے عوامی سطح پر پریشانی پیدا ہوگی اور پہلے سے کمزور قوت خرید رکھنے والے عوام کے لئے ضروریات زندگی کو پورا کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔عوام میں موجود بے چینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے،اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو خطرہ موجود ہے کہ حکومت اور حکومتی پارٹی کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچے گا،اور اشیاء ضروریہ کے عوامی پہنچ سے دور ہو جانے پر لوگوں کے ازخود سڑکوں پر نکل آنے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،ایک طرف کاروباری تباہی سے دوچار ہیں،اچھے اچھے کاروباری بھی پریشانی سے نہیں بچ سکے،کئی ادارے بند ہونے سے بیروزگاری نے عوام سے قوت خرید چھین لی ہے تو دوسری جانب اشیاء ضروریہ کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی کاردار دکھائی دیتا ہے۔حکومتی وزرا کی جانب سے مہنگائی سے انکار کے بیانات کو عوامی سطحی پر سنگین مذاق سے تعبیر کیا گیا،لیکن اب خود حکومتی ادارے تسلیم کر رہے ہیں کہ مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا جس میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی میں کمی کو اپنی ترجیح بنائے۔معیشت میں بہتری کو جو دعوے سامنے آرہے ہیں ان کا فائدہ عوام کو اسی صورت ہو سکے گا کہ انہیں روزگار میسر ہوا اور مہنگائی کم ہو۔مہنگائی میں کمی کی خاطر اگر مجسٹریسی نظام دوبارہ لانے کی ضرورت ہے تو اس سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔جبکہ حکومت بار بار مجسٹریسی نظام لانے کا کہہ رہی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اب تک حکومت اس میں بُری طرح نا کامیاب ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مجسٹریسی نظام ماضی کی طرح فعال کیا جائے۔ حکومت کواقتدار میں آئے ڈیڑھ سال سے زائدکا عرصہ ہو گیا ہے ہر چیز کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ڈالر مہنگا‘گیس مہنگی‘بجلی مہنگی‘ پٹرول مہنگا۔اشیائے خوردونوش وضرور یہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ مہنگائی کا جن قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ملوں نے آٹا مہنگا کر دیا، دکاندار من مانی قیمتں وصول کر رہے ہیں۔ نئی انتظامیہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے عوام کو آئے دن کسی نہ کسی جنس کی قیمت میں اضافے ہی کی خبر ملتی ہے۔نیا پاکستان اور ترقی یافتہ پاکستان کا سنہری خواب دکھا کر عمران خان کی حکومت وجود میں آئی،اور نئے پاکستان کے حکمرانوں نے ٹیکس اور قیمتیں بڑھانے کو نیا پاکستان کا نام دیدیا۔انرجی وپٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبوری تھی اور اس کا ذمہ دار سابق حکومت کوقرار دینا اپنی ناکامی کا اعتراف ہے جس کے نتیجے میں روزمرہ کی اشیاء اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔عام آدمی پہلے ہی غریب اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور اب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔سابق عہد حکومت میں 45سے 50فیصد لوگ خط غریب سے نیچے زندگی کا بوجھ اٹھا کر جی رہے تھے اور اب ستم بالائے ستم ناقابل برداشت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ہیوی بیلز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان اب عملی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کریں،حکومت خصوصاً وزیر اعظم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملہ پر خصوصی توجہ دیں اور عوام کو مہنگائی کے عفریت سے نجات دلائیں،تاکہ معیشت کی مظبوطی کا انہیں بھی کوئی فائدہ ہو سکے، کیونکہ نئے پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کی70فیصد آبادی کو خط غریب سے نیچے دھکیل دیا ہے اور عوام کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ حکومتی ادارے بے عملی کو ایک طرف رکھتے ہوئے مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے لئے کام کریں،اگر مناسب اقدامات میں تاخیر کی گئی تو ایسا نہ ہو کہ سانپ نکل جانے کے بعد لیکر پیٹنے والی کیفیت سامنے آجائے۔اس وقت ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ کوئی بھی ادارہ اور کوئی بھی ذمہ دار اپنے فرائض منصبی پوری دلجمعی کے ساتھ ادا نہیں کر رہا،عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ حکومتی سطح پر ان کی کوئی شنوائی نہیں اور نہ ہی کسی کو عوامی مسائل کی پرواہ دکھائی دیتی ہے،تمام سرکاری محکموں کابرا حال ہے،یہ سوچ ایک خطرناک رجحان اور عوام سے حکومتی ذمہ داران کے درمیان فاصلوں کو ظاہر کرتی ہے،جسے ختم نہ کیا گیا تو حکومت کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جس سے ہر حال میں بچنے کی ضرورت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1