رفیق ِ دیرینہ…… جمیل قیصر کا غم!

رفیق ِ دیرینہ…… جمیل قیصر کا غم!
رفیق ِ دیرینہ…… جمیل قیصر کا غم!

  



یہ1978ء کا واقعہ ہے جب لکشمی چوک سے ایک روزنامہ ”صداقت“ کے نام سے شروع ہوا، جس کے ایڈیٹر ظہور عالم شہید تھے، یہاں پر ہی میری ملاقات افتخار مجاز، سعید آسی، خالد کاشمیری اور جمیل قیصر سے ہوئی تھی اور بھی بہت سارے لوگ تھے،مگر یہ لوگ میرے بہت قریبی ساتھی تھے، میرا اور جمیل قیصر کا ایک ہی شعبہ تھا،پھر اس کا تعلق بھی فیصل آباد سے تھا،اِس لئے ہم دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب تھے،اُس وقت یہ محمد جمیل تھا،چونکہ ادارہ میں دو جمیل تھے انہوں نے اپنی شناخت کے لئے جمیل قیصر لکھنا شروع کیا،جبکہ دوسرا جمیل چشتی تھا۔یہ اخبار اپنے عروج پر تھا،اس کے مالک اسحاق قریشی نے اخبار سے پیسے نکالنا شروع کر دیئے تو ادارہ پر مالی بحران شروع اور تنخواہیں بہت لیٹ ہونا شروع ہو گئیں،مَیں نے ورکروں کے حقوق کے لئے یونین بنانے کا فیصلہ کیا،

مَیں (سی بی اے) یونین کا صدر اور قمر تسکین جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، مالک نے اخبار سے لاتعلقی کا اظہار کیا تو تین مہینے ہم ورکروں کی مشاورت سے چلاتے رہے، آخر کار اخبار بند ہو گئی اور جمیل قیصر فیصل آباد چلا گیا، پھر1981ء میں لاہور سے بھی روزنامہ ”جنگ“ کا آغاز ہوا یہاں پر قدرت اللہ چودھری نیوز کو کنٹرول کرتے تھے، قیوم اعتصامی میگزین اور خط نویسوں کو رشید قمر ہیڈ کر رہے تھے، رشید قمر میرے استاد بھائی ہیں، مَیں فیصل آباد گیا اور جمیل قیصر کو ایک دفعہ لاہور لے آیا اور پھر روزنامہ ”جنگ“ میں اکٹھے ہو گئے۔ یہاں پر میر شکیل الرحمن کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے کافی افراتفری تھی، جب میر خلیل الرحمن سے بات کرنی تو کہتے کہ یہ ابھی سیکھ رہا ہے، بات بات پر ورکروں کو نکال دیا جاتا تھا۔

اسرار بخاری کو اس وجہ سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ شکیل صاحب کے کمرے میں بغیر اجازت چلے گئے تھے، حالانکہ انہوں نے نیوز کے بارے میں مشورہ کرنا تھا، اِسی دوران یہاں سی بی اے یونین کی باتیں ہونے لگیں تو رشید قمر سب سے آگے تھے۔اپنی ناتجربہ کاری اور جذباتی ہونے کی وجہ سے جنگ اخبار سے باہر ہو گئے پھر جمیل قیصر نے کہا کہ آپ کا تجربہ ہے آپ آگے آئیں اسی طرح ہم نے سی بی اے یونین کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا،پھر جمیل قیصر نے ڈائیلاگ اور مذاکرات کا محاذ کھولا، جبکہ کاغذی کارروائی میرے ذمے تھی، میری طرف سے جنگ انتظامیہ پر بائیس مقدمات تھے اور جمیل قیصر نے مذاکرات کا محاذ گرم کر رکھا تھا۔ آخر کار ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے تو ورکروں کو چھ بونس سال میں دِلانے میں کامیاب ہو گئے،اِسی دوران مَیں سعودی عرب کے اخبار ”عرب نیوز“ میں چلا گیا اور وہاں سے مَیں نے گولڈ میڈل حاصل کیا، میرے جانے کے بعد جمیل قیصر پر ایک دفعہ پھر مشکل وقت آ گیا۔ روزنامہ ”جنگ“ نے اس کا داخلہ بند کر دیا اور وہ ایک دفعہ پھر فیصل آباد جانے کے لئے تیار ہو گیا۔یہاں پر نذیر انور کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی،انہوں نے جمیل قیصر کو بڑا حوصلہ دیا اور ہمت بڑھائی۔اسی دوران مجھے سعودی عرب میں پتہ چلا تو مَیں نے اپنے مکان کی چابی جمیل قیصر کو پہنچائی۔ کچھ دوستوں نے کہا کہ کرائے کا کیا کرنا ہے تو مَیں نے کہا کہ بھائیوں سے بھی کوئی کرایہ لیتا ہے۔

اس طرح دس سال جمیل قیصر صاحب اسی مکان میں رہے، تینوں بچے اسی مکان میں پیدا ہوئے، جب مَیں دس سال بعد واپس آیا تو قریب ہی مکان خریدا اور اس کے بعد ہم اکٹھے روزنامہ ”دِن“ میں چلے گئے۔ پھر میری وساطت سے قدرت اللہ چودھری بھی وہیں آ گئے، ان کے اعزاز میں ایک پُرتکلف دعوت دی گی تو ایثار رانا نے تقرری لیٹر تقسیم کئے،مَیں شعبہ آرٹ کا چیف مقرر ہوا، جبکہ اقبال سدھو بزنس کو کنٹرول کررہے تھے، پھر اقبال سدھو روزنامہ”پاکستان“ کے بزنس ہیڈ کے طور پر چلے گئے،ان دِنوں روزنامہ ”پاکستان“ ورکروں کا انتخاب کر رہے تھے تو اقبال سدھو نے بہت زور دیا کہ آپ یہاں بطور ایڈمنسٹریٹر آ جائیں، تو مَیں نے اور جمیل قیصر نے مشورہ کیا تو جمیل قیصر نے کہا کہ سدھو سے کہیں کہ مجھے رکھیں، اسی طرح جمیل قیصر صاحب پاکستان اخبار میں بطور ایڈمنسٹریٹر رہے۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ انہیں نہ نمائندوں کا تجربہ تھا اور نہ کبھی انتظامی امور کو ہیڈ کیا تھا، میرے پاس چونکہ ملکی اور غیر ملکی اخبارات کا تجربہ تھا،مَیں نے کہا کہ آپ نے گھبرانا نہیں،مَیں آپ کے ساتھ ہوں تو مَیں ایک ماہ جمیل قیصر سے روزانہ مشورہ کرتا تھا اور ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے رہے،اسی طرح جمیل قیصر ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر رہے،وہ ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ہی جانے جاتے ہیں، مگرمیرا تعلق بھائیوں جیسا رہا، پھر ایک دن خبر آئی کہ جمیل قیصر اللہ کو پیارے ہو گئے، آپ اسی بات کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ اُس کے گھر والوں کے بعد سب سے زیادہ دُکھ مجھے ہوا ہے اُس نے تو میری کمر توڑ دی ہے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائیں۔ آمین ثم آمین

مزید : رائے /کالم