حکومت، اپوزیشن اور عوامی مسائل

حکومت، اپوزیشن اور عوامی مسائل
حکومت، اپوزیشن اور عوامی مسائل

  



ملک اس وقت ستر سالہ تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ایران اور امریکہ کشیدگی کی وجہ سے خطے میں امن واستحکام اور سلامتی کا مسئلہ در پیش ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی بڑ ھتی ہوئی جارحیت کی وجہ سے پاکستان اور جنو بی ایشیا پر اس کے گہرے اثرات مر تب ہو رہے ہیں۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ پا کستان کو خاص طور پر بے شمار دیگر چیلنجوں کابھی سامنا ہے۔ ا ن سب مسا ئل اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کو جہاں انتہائی حکمت اور تدبر کی ضرورت ہے، وہاں ان مسا ئل کو حل کرنے کے لئے با ہمی تعاون اور اتفاق رائے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ ان پیچیدہ مسائل میں سب سے اہم مسئلہ آرمی ا یکٹ پر قانون سازی تھا، جس کو حل کرنے کے لئے حکومت کو اسمبلی میں سادہ اکثریت کی ضرورت تھی، چو نکہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں سادہ اکثر یت موجود نہیں تھی، اس لئے اس امر کی ضرورت تھی کہ حکومت اپوزیشن کو اعتماد میں لے اور نہ صرف قانونی بحران پر قابو پائے، بلکہ بعد میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک کو درپیش دیگر مسائل بھی حل کرے۔

خدا کا شکر ہے کہ آرمی ایکٹ 2020ء مجریہ ایکٹ 2020ء پاک فضائیہ، ایکٹ2020ء تو بڑی خوش اسلوبی سے اسمبلی سے پاس ہو گئے، مگر اس میں انتہائی عجلت برتی گئی۔ ایوان زیریں، یعنی قومی اسمبلی سے ایک دن میں اور ایوان بالا، یعنی سینٹ سے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں پا س کرا لیا گیا جو ایک طرف تو اچھی بات ہے کہ ایک ا ہم قو می مسئلہ نہایت شا ئستگی کے ساتھ حل ہو گیا، مگر دوسری طرف اس سارے معاملے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے…… سوال یہ نہیں ہے کہ ان قو ا نین کو کیوں پاس کیا گیا؟ سوال یہ ہے کہ اس قدر عجلت میں کیو ں پا س کیا گیا، اس قدر جلد بازی کی کیا ضرورت تھی؟ بہر حال اس پر ا تفا ق رائے کا ہونا تو کو ئی اچنبھے کی بات نہیں، مگرپھر بھی اس پر سیر حا صل گفت و شنید اور پھر مکمل بحث کے بعد اس کو قانون کا درجہ دیا جا نا چا ئیے تھا…… اس کے بر عکس اگر ہم بر طا نیہ میں قانون سازی کے طر یقہ کار کا جا ئزہ لیں تو برطانوی پارلیمنٹ میں قانون سازی کا انتہائی پیچیدہ طر یقہ کار ہونے کے باوجود بہت تیزی سے قوا نین بنتے اور تبدیل ہوتے ہیں۔

بر طا نیہ میں قا نون سازی کے لئے پہلے حکو متی کمیٹی بنائی جا تی ہے،پھر وائٹ پیپر،پھر مکمل بحث کے لئے گرین پیپر جاری کیا جا تا ہے،اس طرح کسی بھی قانون کو اسمبلی میں کئی مہینوں کی بحث کے بعد منظور یا نا منظور کیا جا تا ہے۔ یہاں اس امر کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ برطانوی اسمبلی میں بحث برائے بحث کی بجائے حقاق اور تنقید برائے اصلاح کا عنصر غالب ہوتا ہے۔ کسی بھی قانون کو مکمل طور پر لاگو کرنے سے قبل اس کے نافذ العمل ہو نے کی تاریخ بھی دی جا تی ہے اور صرف ان معا ملات کو نئے قانون کے مطابق حل کیا جاتا ہے جو اس قانون کے نافذ العمل ہونے کی تاریخ سے یا اس کے بعد در پیش آتے ہیں۔ کسی فرد واحد کے لئے قانون نہ تو بنا ئے جاتے ہیں اور نہ ہی ان کو ختم کیا جاتا ہے…… ہاں اگر اس کا فائدہ قومی سطح پر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ طریقہ کار کو مختصر کر لیا جائے، جیسا کہ پاکستان کی حالیہ صورت حال میں ہوا، مگر بہتر ہوتا کہ ان قوانین کو تسلی سے اسمبلی میں بحث کے بعد منظور کیا جاتا۔ یہ سب تو جلدی میں ہوگیا، مگر جب کبھی عوامی مسائل یا ان کو سہولتیں پہنچانے کا معا ملہ در پیش ہو تا ہے تواس کے لئے نہ تو کسی طرح کی مفا مت ہو تی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی لچک کا مظا ہرہ کیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ہمیشہ سے عوامی مسا ئل حل نہ ہو نے کی بڑ ی وجہ حکومت اور اپوزیشن کی خواہ مخواہ کی لڑائی اور ایک دوسرے پر بے جا تنقید ر ہی ہے جو صرف تب ہو تی ہے، جب عوامی مسائل کو حل کر نے کا معا ملہ درپیش ہو تا ہے۔ اپوزیشن حکومت کی ہر جائز اور ناجائز بات کو تنقید کا نشانہ بنانا اپنا فرض اولین سمجھتی ہے،اسی طرح ایک قدم آگے بڑھ کر حکومت بھی گز شتہ حکومتوں، یعنی اپوزیشن کی تمام پالیسیوں کو ہمیشہ عوام کے سامنے انتہا ئی منفی انداز میں پیش کرتی ہے۔ پاکستان میں ہر نئی حکومت زیا دہ تر گز شتہ حکو متوں کے مکمل یا جاری شدہ پراجیکٹس کو بند کرکے یا پھران کی فنڈنگ روک کر اسی طرح کے نئے پراجیکٹس معمولی رد و بدل کے ساتھ کسی نئے نام سے شروع کرنابھی ا پنا فرض سمجھتی ہے۔ پاکستان کی سیاست کا گز شتہ ستر سال سے یہی وتیرا رہا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں نہ صرف قوم اور ملک کے وقت اور وسائل کی بر بادی ہوتی ہے، بلکہ عوام کے مسائل اور ان کا حل اس کھینچاتانی میں بڑی بے دردی سے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

اس کی اصل وجہ ہماری جمہوریت کی نہ صرف کم عمری ہے، بلکہ اس میں سیا سی اخلاقیات کی عدم موجودگی، سیا سی فہم و تد بر اور اس کی ناپختگی کا ہونا بھی اہم وجہ ہے، شا ید بے حسی اور بے ضمیری بھی ان کا زیور ہے، پوچھنا یہ چاہیے کہ اس میں بے چارے عوام کا کیا قصور ہے؟ ان کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ ان کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟ ان کے زخموں پر مر ہم کون رکھے گا؟ ان سے کئے گئے وعدے کون پورے کرے گا؟ ان کی آس اور امید پر کون کان دھرے گا؟ ان کی زندگیوں سے بھوک، افلاس اور بے یقینی کے جن کو بوتل میں کون بند کرے گا؟ ان کو تو روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ سنتے سنتے ستر سال گزر چکے ہیں۔ان کو تو اس غم کی اند ھیری رات میں روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔ ان کو تو ظلم وستم کی چکی تلے پستے ایک زمانہ بیت چکا ہے۔ ان کا تو کوئی پرسان حال نہیں تھا اور نہ ہے……“ مجھے کیوں نکالا سے ووٹ کو عزت دو…… لو ہے کے چنے اور پھر مجھے یہاں سے نکالو تک“……پھر”ذوالفقار علی بھٹو کے قتل سے لے کر آمر یت کے خلاف جنگ تک“…… سب کچھ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،مگر نہیں دیکھا تو ”بس عوام کو عزت دو اور ووٹر کی قدر کرو سے لے کر عوام کو بھی زندہ رہنے دو“کا نعرہ نہیں سنا اور نہ ہی اس کا عملی مظاہرہ دیکھا۔ سب کی اپنی اپنی لڑائیاں ہیں، سب کے اپنے اپنے مقا صد ہیں …… عوام کو نہ تو گز شتہ ادوار میں ا ہمیت دی گی اور نہ ہی مو جودہ دور میں دی جا رہی ہے۔ کاش! اتنی ہی جلد بازی عوام کی فلاح و بہبود کے معاملات پر کی جا تی، مہنگا ئی کے خاتمے کے لئے کی جاتی، تعلیم اور صحت کے مسائل کے حل کے لئے کی جاتی تو آج عوام اس کسمپرسی کی حالت میں نہ ہوتے۔ دعا ہے کہ اللہ حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق کو قائم رکھے اور ان کو عوامی مسا ئل کو بھی جلد بازی میں حل کرنے کی تو فیق دے، امین!

مزید : رائے /کالم