”لینڈ مافیا“

”لینڈ مافیا“
”لینڈ مافیا“

  



وزارت عظمی کے منصب پر براجمان عمران خان ہر روز ایک مافیا کی بات کرتے ہیں کہ ایک مافیا ان کو کام نہیں کرنے دے رہا، عمران خان اس ملک کے منتخب اور طاقتور وزیراعظم ہیں جنھوں نے عثمان بزدار کے سر پر ہاتھ رکھا تو لاکھ مخالفتوں کے باوجود وزارت اعلی پنجاب کا ہما تاحال تونسہ کے بزدار کے سر پر ہی بیٹھا ہے، صوبہ پنجاب میں تبدیلی کی لہر نے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز سمیت انتظامی افسران کی اکھاڑ پچھاڑ کروائی تو اتحادی اور ہم جماعت انصافی نمائندوں نے تحفظات کا اظہار کر دیا، نیا پاکستان میں سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے فروخت کرنے والا مافیا تاحال حکومت کی دسترس سے محفوظ ہے، قبضہ مافیا مبینہ طور پر سیاسی پشت پناہی سے ارض پاک کے وسائل لوٹ کر بیچنے میں مصروف ہے مگر کوئی بھی کارروائی ان کے خلاف نہیں ہو رہی۔تحصیل شالیمار کی حدود میں آنیوالے پٹوار سرکل ہربنس پورہ میں مختلف مقامات پر وفاقی حکومت کی سرکاری جائیداد پر دن دیہاڑے اور سر عام قبضہ کرتے ہوئے پختہ تعمیرات کا سلسلہ جار ی ہے۔ عاصم ٹاؤن، رانی پنڈ، ہربنس پورہ پنڈ، ڈیرہ حکیماں اور ریلوے لائنوں کے ارد گرد متعدد مقامات پر 1کنال 10مرلہ،5مرلہ،3مرلہ کی خوبصورت کٹنگ کرتے ہوئے پلاٹوں کی لوٹ سیل بھی لگا رکھی ہے آپ کو یہ جان کر حیرت بھی ہوں گی کہ ضلع لاہور میں سب سے سستے پلاٹ بھی یہاں پر فروخت ہورہے ہیں۔قابل ذکر یہ بات ہے کہ یہ سارے پلاٹ فاق یعنی کے حکومت اپنے ہی گھر جائیداد پر قبضے کرنے والے مافیا کی روک تھام نہیں کر پا رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں کیا یہ لینڈ مافیا پرائم منسٹر سے زیادہ طاقتور ہے کیا وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی صوبے میں رٹ کمزور ہے کیا چیف سیکرٹری پنجاب میجر اعظم سلیمان تمام تر اختیارات کے باوجود کو محفوظ ظاہر کرنے میں بری طرح ناکام نہیں ہوچکے ہیں۔

کیا طاقتور ترین اور انتظامی معاملات میں سخت گیر مانے جانیوالے سینئر ممبر بابر حیات تارڑ بھی اس معاملے سے بے خبر ہیں اور سرکاری جائیداد کو بچانے کے لیے کوئی اخراجات کر رہے ہیں تو اس کا جواب ہے ہاں بالکل ایسا ہی ہے ہر بنس پورہ میں 5افراد پر مشتمل گینگ نما لینڈ مافیا کمپنی سرکاری جائیدادوں کو فروخت کرنے کا منظم کاروبار عرصہ دراز سے کر رہیں ہیں جن کا طریقہ کار انتہائی آسان اور سادہ ہے جو کہ گزشتہ کئی سالوں سے اس طریقہ کار پر عمل پیرا ہونے کے باعث آسانی سے وفاقی حکومت کی ملکیت جائیداد کو بیچ بیچ کر ارب پتی بن چکے ہیں اور صوبے پنجاب کو اس کی ہی ملکیت سے بھی محروم کر چکے ہیں جن کے ذمہ داری ان تمام حکومتی اور بیوروکریسی کے افسران پر عائد ہوتی ہے۔ بورڈ آف ریونیو اور تمام ریونیو کے انتظامی افسران عرصہ دراز سے نئی تعمیرات کو روکنے کے لیے آپریشن کرتی ہیں اور سرکاری جائیدادوں پر ہونے والی فریش تعمیرات کی روک تھام کیلئے متحرک بھی ہوتی ہے۔اب یہاں سے شروع ہوتا ہے لینڈ مافیا کا کاروباری فارمولہ، پہلے وہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر، ریونیو آفیسر اور حلقہ پٹواری کو سرکاری جائیداد کی فروخت میں حصہ داری کی پیشکش کرتے ہیں اور ان کو کسی نہ کسی صورت اور کسی نہ کسی عرصے کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں جن جن مقامات پر آپریشن ہوتے ہیں کارروائی کی جاتی ہے وہاں کے ریٹ ڈیل کرتے ہوئے معاوضہ معقول کر دیا جاتا ہے اور قبضے دوبارہ کر لیے جاتے ہیں۔

محکمہ پولیس کا تھانہ ہربنس پورہ پولیس کے لیے یہ علاقہ سونے کی کان جیسا ہے آئی جی پنجاب اور سی سی پی اولاہور ایک دفعہ مکمل طور پر انکوائری کروائیں تو معلوم ہوجائے گا گھر کے رکھوالے ہی گھر کو لوٹنے میں مصروف ہیں تمام سرکاری جائیدادیں جہاں پر قبضے اور تعمیرات کی جاتی ہے وہاں سے باقاعدہ متعلقہ تھانے کا حصہ بغیر وصولی کی صورت میں نہیں دیا جاتا ہے جن سے ان کا تحفظ 100فیصدنہیں بلکہ ایک ہزار فیصد دیا جاتا ہے محکمہ سوئی گیس نادرن لیسکو واپڈا اور واسا کے تمام ایریا انچارج، ایس ڈی او اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز حضرات بھی اس بستی گنگا میں ہاتھ صاف کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی ملکیت کے نا صرف بجلی کے کنکشن، سوئی گیس کی فراہمی اور باقی کے کنکشن بغیر ثبوت ملکیت کے جاری کرتے ہوئے ان کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں اور فی کنکشن 1،1لاکھ سے 2،2 لاکھ روپے کی وصولی کررہے ہیں یا ان کو آسان راستہ دے رکھا ہے کہ بجلی، پانی اور گیس کی تمام تر سہولیات بھی ان کو میسر کروا رکھی ہیں تمام اداروں کی آنکھیں بند ہو چکی ہیں کیا تمام اداروں کے افسران اپنے ضمیر بیچ چکے ہیں۔ کیا حرام حلال کی تمیز بالکل ختم ہوا کر رہ چکی ہے تو جی ہاں یہ بات اور یہ الزام سو فیصد درست ہے۔ پرائم منسٹر عمران خان صاحب، جن محکموں کے افسران اور محکموں کو آپ نے ملک کی جائیداد کی حفاظت پر موجود کیا تھا ان کی نگرانی میں ہی لینڈ مافیا کا کاروبار ان کی شرکت داری کے سبب خوب پھیل رہا ہے۔محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 18-01-2020 بروزہفتہ والے روز ایڈیشن ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اصغر جوئیہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی معروف کی نگرانی میں سرکاری جائیداد پر ہونے والی نئی تعمیرات کو روکنے کے لیے جب آپریشن کا آغاز کیا گیا تو تھانہ ہربنس پورہ کے ڈی ایس پی پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں محکمہ مال کے افسران کی مشینری کو نا صرف روک دیا بلکہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں افسران و ملازمین ریونیو سٹاف کے کار سرکار میں مداخلت کی گئی۔

ان کو واپس جانے پر مجبور بھی کردیا اور محکمہ مال کے افسران اپنی جان بچا کر وہاں سے واپس چل دیئے آپریشن بری طرح ناکام ہوگیا تحصیلدار اسماعیل شاہد کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا، جہان میاں منشا ء، اکبر علی بھٹی، باوا رضوان سابقہ کونسلر میاں محمد سعید، عبد الجبار، محمد رضوان، محمد نذیر، محمد اشرف نمبردار کے خلاف ایک تحریری درخواست کی روشنی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ملزمان نے بلا کسی خوف خطرپنجایت لگاکر ویڈیو پیغامات ریکارڈ کروائے آڈیو ریکارڈنگ کی صورت میں بھی تمام علاقے کو انتباہ کیا کہ آئندہ بھی اسی طرح محکمہ مال کے افسران کیساتھ سلوک کرنا ہے ار اب آپ بے فکر ہوکر سرکاری جائیداد پر تعمیرات مکمل کر لو ہم پاکستان تحریک انصاف کے چند لوگوں سے وہی پرانی درخواست کی کہ جناب یہ کچی آبادیاں ہیں ان کے خلاف کو ئی کارروائی نہ کی جائے کا راگ الاپ کرکے ان کی توجہ ہٹانے کی کوشش کریں گے اور پھر سے یہ کاروبار 2020میں بھی بڑھ چڑھ کر کیا جائے گا۔ جناب اعلیٰ کیا پولیس اور متعلقہ تھانے نے ان کو تحفظ نہیں فراہم کیا روڈ بلاک کرنے اور سڑکوں پر ٹائر جلانے والے۔ حکومتی مشینری کو واپس بھجوانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی محکمہ ریونیو کے افسران کو پولیس کی موجودگی میں دھکے دیئے گئے، گالیاں نکالی گئیں، دھمکیاں دی گئیں کیا پولیس 2،4 سرکردہ بندوں کو پکڑا۔۔۔نہیں صرف خاموشی اختیار کی۔

مقدمے میں تمام ایسی دفعات لگائی گئی جس سے اگلے روز ان کی آسانی سے ضمانت ہو جائے اور وہ پر سکون طریقے سے پھر سے اپنا کام جاری رکھ سکیں، میری آئی جی پنجاب شعیب دستگیر اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس صاحب سے بھی گزارش ہے کہ خدا کیلئے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلانے کرنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ایکشن لیں اس گھناؤنے کاروبار کو بند کروانے کیلئے اپنا کردار اداکریں ورنہ یہ امن امان، کرپشن، میرٹ،انصاف کا بول بالا، حکومتی بالادستی، جیسی باتیں بند کردیں انچارج انوسٹی گیشن رانا صدیق سے جب پوچھا کہ مقدمہ نمبر 132/20 میں کیا کارروائی کی گئی تو موصوف نے کہا میرے علم میں نہیں ہے ایساکوئی مقدمہ درج ہوا ہو خدا کیلئے آئی جی صاحب، ڈی آئی جی صاحب کمشنر لاہور صاحب اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں پرانی آبادیوں کو اگر کچی آبادی ڈکلیئر کرنا ہے کو کردیں نئی تعمیرات کی صورت میں اپنے ملک کی باقی ملکیت اور جائیداد کو تو محفوظ بنائیں۔شاید اسی صورت ملکی وسائل کی لوٹ مار سے بچا جا سکے، اگر موجودہ حکومت کچھ مفید نیا کام نہ کر سکی اور صرف اور صرف ملکی وسائل ہی بچا لیے تو شاید اسی بنیاد پر اس کو عوامی حلقوں میں پذیرائی مل جائے

مزید : رائے /کالم