فرانسیسی صدر نے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو جھاڑ کیوں پلائی؟

فرانسیسی صدر نے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو جھاڑ کیوں پلائی؟
فرانسیسی صدر نے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو جھاڑ کیوں پلائی؟

  



مقبوضہ بیت المقدس(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیل کے دورے پر آئے فرانسیسی صدر عمانویل میکخواں نے اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو جھاڑ پلادی۔ میکخواں نے اسرائیلی اہلکاروں کو یروشلم چرچ سے باہر نکل جانے کا حکم بھی دیا۔

تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صدر جو ان دنوں اسرائیل کے دورے پر یروشلم میں موجود ہیں نے یروشلم چرچ کا دورہ کیاتو وہاں فرانسیسی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے اسرائیلی اہلکاروں کو دیکھ کر برہم ہوگئے۔ انہوں نے اسرائیلی اہلکاروں سے کہا کہ وہ باہر نکل جائیں، سب لوگ جانتے ہیں کہ قوانین کیا ہیں۔انہوں نے اسرائیلی اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے قوانین کو توڑا ہے اور انہیں وہ سب پسند نہیں آیا جو اسرائیلی اہلکاروں نے کیا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا چرچ ا?ف سینٹ این فرانس کی ملکیت ہے، 1967 میں یہاں اسرائیلی قبضے کو بھی فرانس اشتعال انگیزی سمجھتاہے، سلطنت عثمانیہ نے 1856 میں اس چرچ کو فرانسیسی شہنشاہ نپولین سوئم کو بطور تحفہ دیا تھا۔اس سے قبل 1996ءمیں اس وقت کے فرانسیسی صدر جیکس شیراک نے بھی اس چرچ کے دورے پر اسرائیلی اہلکاروں کی اس حرکت پر غصہ ہو کر اپنے جہاز پر جانے کی دھمکی دے دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی سیکورٹی اہلکار کے جانے تک چرچ کے اندر نہیں جاو¿ں گا۔

بی بی سی کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے واقعہ پر ردعمل دینے سے انکار کردیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی /عرب دنیا