شیخ رشید کی خواہش پوری ہوگئی

شیخ رشید کی خواہش پوری ہوگئی
شیخ رشید کی خواہش پوری ہوگئی

  



اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام پر اتفاق کرلیا،حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کا تیرہواں اجلاس وفاقی وزیر شیریں مزاری کی سربراہی میں ہوا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کے ناموں پر بحث کی گئی۔

چیف الیکشن کمشنر کے لیے سکندر سلطان راجہ کے نام پر اتفاق کیا گیا جب کہ سندھ سے ممبر الیکشن کمیشن کے لیے نثار درانی جب کہ بلوچستان سے شاہ محمد جتوئی کے نام پر اتفاق ہوا ہے لیکن سکندر سلطان راجہ دراصل کون ہیں، ان کا شیخ رشید کیساتھ کیا تعلق رہا اور تین ماہ قبل انہوں نے سکندر سلطان کے بارے میں وزیراعظم سے کیا کہا تھا؟ سینئر صحافی نے سب کچھ بتا دیا۔

روزنامہ جنگ میں عمر چیمہ نے لکھا کہ "  تین ماہ قبل وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا۔ زیربحث شخص سبکدوش ہونے والا سیکرٹری ریلوے راجہ سکندر سلطان ہے۔وہ اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ شیخ رشید احمد ان کی کارکردگی سے اس قدر متاثر ہیں کہ وہ راجا سکندر سلطان کو برقرا رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ملازمت میں توسیع یا دوبارہ ملازمت پر رکھنے کا اختیار وزیراعظم کو ہے۔

گزشتہ 21؍اکتوبر کو عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں ان کی تعریف کی۔ انہیں محنتی، ایماندار اور اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنے والا شخص قرار دیا اور کہا کہ ریلوے کو منافع بخش اور مستعد محکمے میں تبدیل کرنے کے لئے راجا سکندر سلطان گرانقدر اثاثہ ہیں۔ ان کا کیریئر بے داغ ہے، وہ خوبیوں کا مجموعہ ہیں جو آجکل اعلیٰ افسران میں ناپید ہیں۔

ایک سیاست دان کی جانب سے داد تحسین نے ایک لچکدار افسر کی حیثیت سے ان کی دیانت کو شدید مشکوک کیا ہو لیکن جو لوگ انہیں جانتے اور ساتھ کام کیا، وہ ان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ اپنے خط کے اختتام پر آنے سے قبل شیخ رشید احمد نے اپنی توقعات اور خواہشات میں اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے محکمے کے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری کو کس طرح نوازا جاسکتا ہے۔

ریلوے میں راجا سکندر سلطان کے بارےمیں ’’احتسابی زار‘‘ کا تاثر تھا۔ وہ ایک سخت منتظم ثابت ہوئے۔ ریلوے کے لئے اپنی سال بھر کی خدمات کے دوران انہوں نے سات افسران کو برطرف، تین کو عہدوں سے ہٹایا، ایک کو لازمی ریٹائرمنٹ پر بھیجا اور دو افسران کی تنزلی کی۔

ملازمت سے برطرفی سخت اور سنگین سزا تصور کی جاتی ہے کیونکہ سزا یافتہ افسر پھر سرکاری ملازمت کا اہل نہیں رہتا اور پنشن کے حق سے بھی محروم ہوجاتاہے۔ گوکہ شیخ رشید احمد کے ساتھ راجا سکندر سلطان کے تعلقات کار بہترین رہے، لیکن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ تعلقات کا خوشگوار انجام نہیں ہوا۔

جب عباسی وزیر پیٹرولیم تھے، راجا سکندر سلطان نے وزارت کے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا، لیکن اختلافات شروع دنوں ہی سے سامنے آنا شروع ہوگئے۔ یہ اختلافات ایک کنٹریکٹ کے معاملے میں انتہا کو پہنچے۔ راجا نے کنٹریکٹ کے عمل کی مخالفت کی۔ تب ایک محکمے کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کا معاملہ درپیش آیا۔

راجا سکندر سلطان نے انکار کیا اور رخصت پر چلے گئے۔ بعدازاں انہیں افسر بکار خاص (او ایس ڈی) بنا دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے تعلقات کی ایک جو خانہ دار تارخ ہے۔ نوازشریف کے دوسرے دور وزارت عظمیٰ میں پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کے راجا سکندر سلطان داماد ہیں ۔

وہ پنجاب میں شہباز شریف دور وزارت اعلیٰ میں مختلف محکموں کے سیکرٹری رہے۔ مسلم لیگ (ن) کےرہنما بھی انہیں راست باز افسر شمار کرتے ہیں۔تاہم نوازشریف کے گزشتہ دور وزارت عظمیٰ میں انہیں چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر مقرر کیا گیا۔ جس سے تلخ یادیں وابستہ ہیں"۔

مزید : قومی