چین میں ہلاکتوں کا سبب بننے و الے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کا خدشہ لیکن اس کی علامات اور علاج کیا ہے؟ تمام تفصیلات سامنے آگئیں

چین میں ہلاکتوں کا سبب بننے و الے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کا خدشہ لیکن ...
چین میں ہلاکتوں کا سبب بننے و الے کرونا وائرس کی پاکستان منتقلی کا خدشہ لیکن اس کی علامات اور علاج کیا ہے؟ تمام تفصیلات سامنے آگئیں

  



بیجنگ(ویب ڈیسک) چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا پراسرار کورونا وائرس اب ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی پھیلنے لگا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے صوبے ہوبائی کے دارلحکومت ووہان میں کورونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 547 تک پہنچ گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق چین کے صحت حکام نے وائرس کے پھیلائو سے بچنے کے لئے 1 کروڑ افراد پر مشتمل شہر ووہان کو مکمل طور سیل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

چین میں ٹرینوں اور بس سروسز کا نظام معطل ہونے کے باعث قمری سال کی تعطیلات گزارنے کے لئے اپنے گھروں کو گئے 40 کروڑ افراد پھنس کر رہے گئے ہیں۔واضح رہے چین میں پھیلنے والا پراسرار ’کورونا وائرس‘ اب تک سینکڑوں افراد کی جان لے چکا ہے، یہ تمام افراد بڑی عمر کے تھے، اب تک 400 سے زائد افراد اس سے متاثر بھی ہو چکے ہیں۔

دسمبر 2019 میں چین کے شہر وہان کی مارکیٹ سے شروع ہونے والا یہ جان لیوا وائرس اس وقت ہمسائیہ ممالک میں پھیلتا ہوا امریکہ تک پہنچ چکا ہے۔اس مارکیٹ میں مختلف قسم کے جانور فروخت کیے جاتے تھے، اس اب مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔پوری دنیا اس وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار ہو رہی ہے، عالمی ادارہ صحت میں بدھ کو اس بات پر بحث شروع ہو رہی ہے کہ کیا عالمی ایمرجنسی کا اعلان کرنا چاہیئے یا نہیں۔

کورونا وائرس کیا ہے؟

اسے سارس وائرس کا کزن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں میں کئی خصوصیات مشترک ہیں۔ چینی سائنسدان لیو پون کا خیال ہے کہ اس کا آغاز بھی جانوروں سے ہوا اور بعد میں یہ انسانوں میں منتقل ہو گیا۔کورونا وائرس دراصل ایک بڑا گروپ ہے جو عموماً جانوروں میں پایا جاتا ہے، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں کو منتقل ہو جائے۔

کورونا وائرس کی علامات

اس سے متاثرہ افراد میں آغاز میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہے، ناک کا بہنا، کھانسی، گلے کی تکلیف، عموماً سردرد اور بعض اوقات بخار شروع ہو جاتا ہے۔ایسے افراد (بڑی عمر کے یا بہت چھوٹی عمر کے بچے) جن کے جسم کا مدافعاتی نظام کمزور ہوتا ہے ان کے لیے نمونیا یا برونکائیٹس میں مبتلا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

وائرس کی وبا کی حالیہ تاریخ

مڈل ایسٹ ریسپی ریٹری سنڈروم (مرس) 2012 میں مشرق وسطیٰ میں شروع ہوا۔ غالب امکان ہے کہ یہ اونٹوں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اس سے متاثر ہونے والے ہر 10 افراد میں سے تین سے چار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سیویر اکیوٹ ریسپی ریٹری سنڈروم (سارس) کا آغاز چین کے صوبے گینگ ڈون سے ہوا۔ ہلاکتوں کی شرح عمر کے مطابق صفر سے پچاس فیصد تھی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ خاص قسم کی بلیوں سے انسانوں میں پھیلا۔

کورونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

ایک فرد سے دوسرے فرد میں وائرس کی منتقلی کے کئی راستے ہیں جن میں کھانسی، چھینک، ہاتھ ملانا شامل ہیں۔ اگر متاثرہ شخص نے کس چیز کو چھوا ہو اور اسے دوسرا فرد چھو کر اپنے منہ، ناک یا آنکھوں کو لگائے تو اس صورت میں بھی وائرس کے پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کا علاج

اس کا کوئی خاص علاج نہیں ہے۔ بہت بار علامات خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔ درد یا بخار پر قابو پانے کے لیے ڈاکٹر ادویات دے سکتے ہیں۔ گرم پانی سے نہانا بھی دکھتے ہوئے گلے یا کھانسی کو دور کر سکتا ہے۔اس سے متاثرہ افراد کو زیادہ سے زیادہ پانی اور جوسز پینے چاہئیں، آرام کرنا لازم ہے اور بھرپور نیند ضروری ہے۔

کورونا وائرس سے بچائو

اس وائرس کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔ متاثرہ افراد سے دور رہنا چاہیئے۔ اپنی آنکھوں، ناک اور منہ کو چھونے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔ اپنے ہاتھوں کو صابن سے کم از کم بیس سیکنڈ پر دھوئیں۔

مزید : بین الاقوامی