ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران کے جھوٹ کے منہ پر طمانچہ، چیف جسٹس آٹے چینی کے بحران کاازخود نوٹس لیں،مریم اورنگزیب

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران کے جھوٹ کے منہ پر طمانچہ، چیف جسٹس آٹے ...
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران کے جھوٹ کے منہ پر طمانچہ، چیف جسٹس آٹے چینی کے بحران کاازخود نوٹس لیں،مریم اورنگزیب

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران صاحب کے جھوٹ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دیئے گئے اپنے سلسلہ وار پیغامات میں انہوں نے کہاچینی اور آٹے کی قیمت کو عمران صاحب کے حکم پہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کنٹرول کر رہے ہیں ۔یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے ، چیف جسٹس آف پاکستان کو سو موٹو لینا چاہئے ۔ملک کی چالیس فیصد چینی کی پیداوار جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کنٹرول کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا’چینی اور آٹا بیچنے والوں کو چینی اور آٹا سستا کرنے کی ذمہ داری دے دی واہ عمران صاحب واہ پھر کہتے ہیں میں کرپٹ نہیں ہوں ۔عمران صاحب پانچ دن میں جب سے آپ نے ان دونوں کے ذمہ داری سونپی ہے چینی کی قیمتوں میں 20 روپے اضافہ ہوچکا ہے‘۔

مریم نے کہا’چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کی ذمہ داری جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو دینا بلی کو دودھ کی رکھوالی پر بٹھانا ہے ۔چینی کی قیمت کنٹرول کرنے کی ذمہ داری جہانگیرترین اور خسرو بختیار کو سونپنا مفادات کے ٹکراو کی بدترین مثال ہے۔ملک میں چینی کی چھ ملین ٹن مجموعی پیداوار میں سے 40 فیصد جہانگیر ترین اور خسروبختیار کنٹرول کرتے ہیں، ان سے کون حساب لے گا؟ ۔کیا اکاﺅنٹیبیلٹی بیورو کو نظر نہیں آ رہا کہ اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ہو رہا جسے ان کی زبان میں “مس یوز آف اتھارٹی “کہتے ہیں ؟۔

انہوں نے کہاملک کی تاریخ میں پہلی بار سیزن میں چینی کی قیمت بڑھنا عمران صاحب کے حکم پر دوستوں کی کاروائی اور ڈاکہ ہے ۔جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے ہاتھ میں کنٹرول رہا تو چینی کی قیمت 100 روپے کلو ہونے کا خطرہ ہے۔گنے کی فصل زیادہ ہونے کے باوجود چینی کی قیمت میں اضافہ منافع خوری اور سرکاری سرپرستی میں ڈکیتی ہے۔

انہوں نے کہاعمران صاحب گزشتہ سال جنوری 2018ءمیں چینی کی قیمت 50 روپے کلو تھی، جنوری 2019ءمیں 85 روپے کلو ہوچکی ہے۔پاکستان کے قریب ترین تھائی لینڈ سے چینی درآمد کریں تو پاکستانیوں کو 40 روپے کلو چینی ملتی ہے ۔مسلم لیگ (ن) پر انڈے، چینی، مرغی کی قیمت کنٹرول کرنے کا الزام لگانے والے آج دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاایمنسٹی انٹر نیشنل کی رہورٹ پراجیکٹ نیا پاکستان بری طرح ناکام اور فیل ہونے کا ثبوت ہے عمران صاحب اگر اخلاقی جرات ہے تو کہیں حکمران چور ہیں اِس لئے ملک کرپٹ ہے ۔عمران صاحب اگر جرات ہے تو کریں اپنا اور اپنے دوستوں کا احتساب۔

مریم نے کہامسلم لیگ(ن) کا بیانیہ سچ ثابت ہوا کہ ملک پہ مسلط عمران صاحب اور گھس بیٹھیئے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ عمران صاحب کے جھوٹ کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ملک میں پچھلے دس سال میں اتنی کرپشن نہیں ہوئی جتنی سولہ ماہ میں ہوئی ، ایمنسٹی انٹر نیشنل نے تصدیق کردی ہے۔عمران صاحب نالائق، نااہل اور جھوٹے تو پہلے ہی ثابت ہوچکے، آج عالمی ادارے نے کرپشن کا ایوارڈ دیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہاعمران صاحب پوری دنیا میں ملک کو بدنام کیا چور کہا اور آج خود کو چوری کا تمغہ اور اعزاز ملا ہے ۔دوسروں پر چور چور کی تہمتیں لگانے والے خود چور اور کرپٹ نکلے نکلے۔ثابت ہوگیا کہ پاکستان کی خدمت کرنے والوں کو قید کرنے کا مقصد پاکستان کو لوٹنا تھا۔پشاور میٹرو، بلین سونامی ٹری، گندم، چینی، 11000 ارب قرض، دوستوں کو سینکڑوں ارب ٹیکس معاف کرنے کی کرپشن کتابی شکل میں شائع ہوگئی ۔جب بجلی، گیس، ادویات کی قیمتوں میں حکمران ڈاکہ ماریں تو ایسی ہی رپورٹ آئے گی .

انہوں نے کہاملک میں کرپشن کی تبدیلی آئی ہے۔نواز شریف اور شہباز شریف کی ایماندار اور اہل قیادت تھی تو ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے اور کرپشن میں بھی کمی ہوئی ۔ نواز شریف دور میں موٹر ویز بنیں، 11000 میگاواٹ بجلی بنی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں بنیں اور کرپشن میں بھی کمی ہوئی۔آج ملک میں ترقیاتی عمل صفر ہے، روزگار صفر، کاروبار صفر، انڈسٹری صفر، یہ پیسہ عمران صاحب اور ان کے دوستوں کی جیب میں جا رہا ہے۔جب اختیارات کا غلط استعمال ہوگا ، مس یوز آف اتھارٹی ہو گی ، آٹے اور چینی سے بحران دوستوں کی جیبیں بھریں جائیں گی تو ایسی ہی رپورٹ آئے گی۔

واضح رہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ 2018ءکی نسبت 2019ءکے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن سے متعلق 2019ءکی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا ہے کہ پاکستان کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پچھلے سال کی نسبت ایک نمبر کم حاصل کر سکا۔

مزید : اہم خبریں /قومی