کیا چین میں پھوٹنے والی خطرناک وباءکی دنیا کے معروف ترین نجومی نے 500 سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

کیا چین میں پھوٹنے والی خطرناک وباءکی دنیا کے معروف ترین نجومی نے 500 سال پہلے ...
کیا چین میں پھوٹنے والی خطرناک وباءکی دنیا کے معروف ترین نجومی نے 500 سال پہلے ہی پیشنگوئی کردی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آگیا

  



پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک) 16ویں صدی عیسوی کے فرانسیسی علم نجوم کے ماہر نوسترادیمس نے نپولین اور ہٹلر کے عروج اور نائن الیون کے سانحے سمیت کئی ایسی پیش گوئیاں کیں جو من و عن درست ثابت ہوئیں۔ اب بظاہر خدانخواستہ ان کی ایک اور پیش گوئی درست ثابت ہونے جا رہی ہے، جو دنیا کے ایک خوفناک وائرس کی لپیٹ میں آنے سے متعلق تھی۔ ڈیلی سٹار کے مطابق نوسترادیمس نے اس پیش گوئی میں کہا تھا کہ ایک ساحلی شہر سے بہت بڑی وباءاٹھے گی جو انسانوں کو نگل جائے گی۔“ نوسترادیمس کی پیش گوئیوں پریقین رکھنے والے افراد ان کی کتاب میں لکھے اس فقرے کو چین کے شہر ووہان میں پھیلنے والے ایک نئے اور خوفناک وائرس کی وباءسے تعبیر کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ووہان اگرچہ سمندر کے ساحل پر واقع نہیں مگر یہ دو دریاﺅں کے ساحل پر واقع ہے اور اس میں کئی جھیلیں بھی ہیں۔ اس شہرمیں کورونا وائرس پھیلا ہے جو اب تک چین میں 17افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ چین میں اب تک اس وائرس کے ساڑھے پانچ سو سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور یہ وائرس تھائی لینڈ، تائیوان، جاپان اور امریکہ تک پھیل چکا ہے۔ یہ سارس کی قسم کا وائرس ہے جو لوگوں میں جان لیوا نمونیا کا سبب بن رہا ہے۔ یہ ایسا وائرس ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ آج ہی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر ووہان کی مارکیٹ میں گوشت کی غرض سے بکنے والے سانپوں یا چینی شہریوں کے پسندیدہ چمگادڑوں کے سوپ سے پھیلا ہے۔

مزید : بین الاقوامی