پورا ہفتہ بطور یکجہتی کشمیر منایا جائے گا، حکومت نے 25 جنوری سے 5 فروری کا پلان جاری کردیا

پورا ہفتہ بطور یکجہتی کشمیر منایا جائے گا، حکومت نے 25 جنوری سے 5 فروری کا پلان ...
پورا ہفتہ بطور یکجہتی کشمیر منایا جائے گا، حکومت نے 25 جنوری سے 5 فروری کا پلان جاری کردیا

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو اندرون اور بیرون ملک اجاگر کرنے کیلئے پورے ہفتے پر مشتمل مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25 جنوری سے کشمیر کے حوالے سے پرنٹ ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پوری مہم شروع کریں گے،جس کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک اپنا مقدمہ عوام کے سامنے رکھیں گے۔ 27 جنوری کو اسلام آباد میں نیشنل کونسل آف آرٹس میں کشمیر کے حوالے سے ثقافتی شو ہوگا۔ 28 جنوری کو پورے پاکستان میں تصویری نمائشیں ہوں گی، جن میں کشمیری مظلومین اور ہیروز کی کہانیوں کو تصویری شکل پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 30 جنوری کو اسلام آباد میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی زیر صدارت سیمینار منعقد کیا جائے گا، 31 جنوری کو کشمیر کمیٹی کے سربراہ دیگر ارکان کے ساتھ پریس کانفرنس کریں گے۔ 3 فروری کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں جامعات کے طلبہ اور سماجی کارکنوں کا پروگرام ہوگا اور انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا، اسی روز آزاد کشمیر کے رفیوجی کیمپوں میں راشن بھی تقسیم کیا جائے گا۔4 فروری کو ایوان صدر میں کشمیر ڈے کا ایونٹ منعقد کیا جائے گا جس میں پاکستان میں موجود تمام سفارتکاروں کو مدعو کیا جائے گا ۔

وزیر خارجہ کے مطابق 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر آزاد کشمیر میں انسانی زنجیر بنائی جائے گی۔ تمام صوبائی دارالحکومتوں میں یکجہتی کشمیر ریلیاں نکالی جائیں گی ، اس حوالے سے تمام وزرائے اعلیٰ سے درخواست ہے کہ وہ خود ان ریلیوں کی قیادت کریں ۔

انہوں نے بتایا کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان مظفر آباد میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے اور شام کو میر پور میں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے، اس حوالے سے باقاعدہ مہم ڈیزائن کی گئی ہے اور پاکستان کے تمام سفارتخانوں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔انہیں کہا گیا ہے کہ مقامی اخبارات سے رابطہ کرکے وہاں کے عوام کو آرٹیکلز کے ذریعے کشمیر کے مسئلے سے آگاہ کیا جائے۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام ممالک کے سربراہان کو خطوط لکھیں اور مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کریں۔ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے سپیکر بھی دنیا بھر کے سپیکرز اور اراکین پارلیمان کو خطوط لکھیں گے۔

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی حکومت ہندو توا اور نازی نظریے پر عمل پیرا ہے،ہندوستان ہٹ دھرمی پر قائم ہے، ہم ایک کے بدلے 2 قدم اٹھانے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ باہمی مذاکرات کیلئے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور افادیت سے کوئی انکاری نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن کا آج 175 واں دن ہے، بھارت نے پوری کوشش کی کہ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں نہ اٹھایا جائے لیکن ہم نے یہ مسئلہ وہاں اٹھایا اور بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، چین کے تعاون سے مسئلہ کشمیر سکیورٹی کونسل میں اجاگر ہوا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر ہونے والے اجلاس میں سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان نے حصہ لیا اور ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بریفنگ سنی۔ سلامتی کونسل کے اجلاس کے فوری بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور صدر سے ملاقات کا موقع ملا تو انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ انہیں بتایا کہ مقبوضہ وادی میں کس طرح فوجی نقل و حرکت ہورہی ہے اور کہاں کہاں میزائل نصب کیے گئے ہیں، انہیں ایل او سی پر باڑ کاٹنے کے معاملے سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ڈیووس میں بہت سے مسائل کا تذکرہ کیا لیکن انہوں نے مسئلہ کشمیر کو سرفہرست رکھا اور بھرپور طور پر اجاگر کیا، انہوں نے صدر ٹرمپ کو اس مسئلے کے حوالے سے بتایا اور کہا کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو اس کے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اب حکومتی نہیں بلکہ عوامی سطح پر چلا گیا ہے، اس پر یورپی یونین کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں بحث ہوتی ہے، اس معاملے میں چاہے حکومتیں مصلحتوں کا سامنا کریں لیکن عوامی نمائندوں پر عوام کا دباﺅ آ رہا ہے۔ پاکستان کی واضح پالیسی ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو دیانتداری سے سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی طور پر اس وقت تک اٹھاتے رہیں گے جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں مل جاتا۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی