”پہلی اننگز میں جس طرح آﺅٹ ہوا، سوچا کہ اب میری کرکٹ ختم ہو گئی ہے اور پھر میں نے ایک فون کر کے کہا کہ میرا آخری ٹیسٹ میچ ہے“ انضمام الحق نے 17 سالہ پہلے بنگلہ دیش کیخلاف کھیلے گئے یادگار ٹیسٹ میچ کی دلچسپ کہانی سنا دی

”پہلی اننگز میں جس طرح آﺅٹ ہوا، سوچا کہ اب میری کرکٹ ختم ہو گئی ہے اور پھر ...
”پہلی اننگز میں جس طرح آﺅٹ ہوا، سوچا کہ اب میری کرکٹ ختم ہو گئی ہے اور پھر میں نے ایک فون کر کے کہا کہ میرا آخری ٹیسٹ میچ ہے“ انضمام الحق نے 17 سالہ پہلے بنگلہ دیش کیخلاف کھیلے گئے یادگار ٹیسٹ میچ کی دلچسپ کہانی سنا دی

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم پاکستان کیخلاف ٹی 20 سیریز کھیلنے کیلئے پاکستان پہنچ چکی ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا میچ جمعہ کو قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا جس کے باعث شائقین کرکٹ میں بھی خاصا جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز سابق کپتان انضمام الحق نے اس موقع پر 17 سال قبل بنگلہ دیش کیخلاف کھیلے گئے یادگار ٹیسٹ میچ سے متعلق پہلی مرتبہ ایسی دلچسپ کہانی سنائی ہے کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں ماضی کے پنوں سے دلچسپ داستان سناتے ہوئے کہا کہ ” 17 سالہ پہلے بنگلہ دیش نے آخری ٹیسٹ میچ کھیلا تھا جو یادگار اس لئے بھی ہے کہ میرے ہوم گراﺅنڈ میں تھا اور میں نے کم بیک کیا تھا، پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری لمحات میں یہ میچ جیتا تھا حالانکہ لگ رہا تھا کہ پہلی مرتبہ قومی ٹیم کو ہوم گراﺅنڈ میں بنگلہ دیش جیسی ٹیم سے ٹیسٹ میچ میں شکست ہو جائے گی، اس لئے یہ ٹیسٹ میچ بہت یادگار ہے۔

وکٹ بہت مشکل تھی اور کوئی بڑا سکور نہیں ہوا جبکہ ہم نے آخری اننگز میں 260 سے 270 رنز تک کا ہدف حاصل کرنا تھا لیکن وکٹ کی کنڈیشن اس طرح کی تھی کہ سکور بننا مشکل ہوتا جا رہا تھا، گیند کبھی منہ پر آ جاتا تھا اور کبھی نیچے رہ جاتا تھا، بنگلہ دیش ٹیم کے کپتان خالد محمود تھے جو ایک عام سے میڈیم پیسر تھے اور پہلی اننگز میں جب انہوں نے مجھے گیند کروائی تو وہ منہ پر آئی اور میں گلی میں کیچ دے بیٹھا۔ اس پر میں نے سوچا کہ اگر میں خالد محمود سے اس طرح آﺅٹ ہونا شروع ہو گیا ہوں تو یہ اللہ کی طرف سے اشارہ ہے کہ میری کرکٹ ختم ہو گئی ہے، کھیل کا وہ دن ختم ہونے پر میں نے اپنے ایک دوست نعیم بٹ کو فون کیا اور کہا کہ یہ میرا آخری ٹیسٹ میچ ہے اور میں ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں کیونکہ میں اس طرح کرکٹ نہیں کھیل سکتا، انہوں نے کہا کہ ایک اننگز باقی ہے، ہم دعا کرتے ہیں کہ شائد تمہارے لئے کوئی بہتری ہو جائے۔ چوتھی اننگز کھیلنے جب میدان میں آئے تو ہم پر بہت دباﺅ تھا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست نظر آ رہی تھی۔

ہم نے جب چوتھی اننگز شروع کی تو حسب توقع ہمارا آغاز اچھا نہیں تھا اور چوتھے روز تک 5 سے 6 مرکزی بلے باز آﺅٹ ہو چکے تھے اور ابھی ہمیں 140 کے قریب سکور چاہئے تھا،میں ابھی کریز پر موجود تھا اور 59 رنز بنا چکا تھا، چوتھے روز کا کھیل ختم ہوا اور مغرب کے وقت جب میں ڈریسنگ روم میں گیا تو وہاں بہت اداسی تھی اور بالکل سناٹا چھایا ہوا تھا، میں نے نماز پڑھنا شروع کی تو دیگر لڑکوں کو بھی احساس ہوا اور سب نے باجماعت نماز پڑھی، لڑکے جب سجدے میں گئے تو میں نے دعا کی کہ اللہ ہم تیرے سامنے جھکنے والے ہیں، ہمیں اس میدان میں جھکنے سے روک لے ورنہ بہت شرمندگی ہو گی، اگلے روز بیٹنگ کرنے گئے تو میرے ساتھ عمر گل کھیل رہا تھا، ہماری پارٹنرشپ ہو گئی اور ہمیں لگا کہ ہم اسی وکٹ پر ہدف حاصل کر لیں گے لیکن ایک گیند پر دو رنز لیتے ہوئے عمر گل رن آﺅٹ ہو گیا حالانکہ سکور بالکل تھوڑا رہ گیا تھا، 99 پر بیٹنگ کررہا تھا اور خالد محمود نے ابھی اوور شروع ہی کیا تھا لیکن اس نے ساری فیلڈنگ پیچھے لے لی کہ میں سنگل لے کر سنچری مکمل کروں گا اور پھر وہ مجھ پر اٹیک کریں گے لیکن میں نے پانچ گیندوں پر رنز نہیں لئے اور چھٹی گیند پر سکور لے کر سنچری مکمل کیا، کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اور ہمیشہ ٹیم کو سامنے رکھنا پڑتا ہے کیونکہ جب آپ ٹیم کیلئے کھیلتے ہیں تو نام بھی بڑا ہوتا ہے اور ٹیم میں عزت ملنے کے علاوہ فتوحات بھی نصیب ہوتی ہیں۔

عمر گل کے آﺅٹ ہونے کے بعد شبیر آیا تو وہ بھی آتے ہی آﺅٹ ہو گیا ، اس کے بعد آنے والے یاسر علی کا ڈیبیو تھا اور وہ ایک گیند یا اوور کروا کر ہی ان فٹ ہو گیا تھا، وہ کریز پر آیا تو میں نے اس سے کہا کہ اوور کی دو گیندیں باقی رہ گئی ہیں، کیا کھیل لو گے؟کیونکہ اس کے بعد مجھے پورا اوور مل جانا تھا اور میچ جیتنے کیلئے سکور بھی تین سے چار ہی رہ گیا تھا لیکن یاسر نے صاف انکار کر دیا کہ میں ایک بھی گیند نہیں کھیل سکتا اور اس نے صحیح کہا تھا کیونکہ پہلا گیند ہی بیٹ ہو گیا اور بیٹ بھی کچھ اس طرح ہوا کہ اس کا بلا ابھی ہوا میں ہی تھا اور گیند وکٹ کیپر کے پاس پہنچ چکی تھی، اس پر میں نے یاسر سے کہا کہ جو بھی ہو جائے ہمیں بھاگ کر ایک سکور لینا ہے، بال جیسے ہی بیٹ ہوا تو میں اور یاسر بھاگ پڑے اور سکور ہو گیا، وہیں پر میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب یہی بال فیصلہ کن ہونی چاہئے، یا اس گیند پر سکور پورا ہو جائے گا یا میں آﺅٹ ہو جاﺅں گا، میں نے اللہ سے مدد مانگی، میری ٹانگ پر بال آ گئی اور میں نے فلک کیا تو چوکا ہو گیا اور ہم وہ ٹیسٹ میچ جیت گئے، اس میچ میں لوگوں نے پہلی مرتبہ مجھے غصے میں دیکھا تھا، اور وہ اس لئے تھا کہ بنگلہ دیشی ٹیم نو آموز تھی اور دورے کے دوران وہ ہمارے پاس نیٹ میں آ کر سیکھتے تھے لیکن جب وہ میچ جیت رہے تھے تو بہت زیادہ سلیجنگ کر رہے تھے جس پر میں بہت زیادہ غصے میں تھا۔ “

مزید : کھیل