’لڑکی کو چھونے کی کوشش پر کرنٹ کا شدید جھٹکا‘ طلبہ نے ہراسانی کی روک تھام کیلئے انوکھی جیکٹ تیار کرلی

’لڑکی کو چھونے کی کوشش پر کرنٹ کا شدید جھٹکا‘ طلبہ نے ہراسانی کی روک تھام ...
’لڑکی کو چھونے کی کوشش پر کرنٹ کا شدید جھٹکا‘ طلبہ نے ہراسانی کی روک تھام کیلئے انوکھی جیکٹ تیار کرلی

  



حیدر آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدر آباد میں طلبہ نے ایک ایسی جیکٹ تیار کی ہے جو لڑکیوں کو چھیڑ خانی کرنے والے افراد سے تحفظ فراہم کرتی ہے، جس لڑکی نے یہ جیکٹ پہنی ہو اس کو اگر کوئی چھونا چاہے گا تو اسے بجلی کا جھٹکا لگے گا۔

مخفم جاہ کالج آف انجینئرنگ کے 5 طلبہ نے ملک میں ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کیلئے منفرد قسم کی جیکٹ تیار کی ہے۔ دیکھنے میں یہ عام جیکٹ جیسی ہی لگتی ہے لیکن یہ کرنٹ سے بھرپور ہے۔ الیکٹریکل اینڈ انسٹر مینٹیشن کے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہاتھ لگانے پر مرجھانے والے پودے ’چھوئی موئی‘ سے متاثر ہو کر جیکٹ کا ڈیزائن تیار کیا ہے۔

طالبات عائزہ فاطمہ سمرین، شاہانہ ثروت نے اپنے ہم جماعت طلباءرضوان، عدنان اور فوزان کے ساتھ یہ منفرد جیکٹ تیار کی ہے جس کی اوپر کی سطح تانبے کی باریک تاروں سے بنی ہوئی ہے جن کا کنکشن جیب میں رکھی ہوئی چھوٹی بیٹری سے جڑا ہوا ہے، یہ جیکٹ پہننے والی لڑکی کو جو بھی چھونے کی کوشش کرے گا تو اسے گھر میں لگنے والے کرنٹ کے جھٹکے سے 3 گنا زیادہ شدید جھٹکا لگے گا اور یقیناً اس کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ جس شخص کو اس جیکٹ سے کرنٹ کا جھٹکا لگے گا وہ کم از کم 10 منٹ تک اپنے ہواس کھو دے گا اور ہاتھ پیر ہلانے کے قابل نہیں رہے گا۔ جس لڑکی نے یہ جیکٹ پہنی ہوگی اسے خاص قسم کے دستانے پہننا پڑیں گے جس کی وجہ سے وہ کرنٹ سے محفوظ رہے گی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /سائنس اور ٹیکنالوجی