پنجاب اسمبلی میں بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کاچرچا

پنجاب اسمبلی میں بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کاچرچا
پنجاب اسمبلی میں بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کاچرچا

  



لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی میں بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن سے متعلق رپورٹ کاچرچارہا، سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کریڈٹ ہے جو انہیں ملنا چاہئے،سپیکر نے صوبائی وزرا ء کو پنجاب اسمبلی کے ہاسٹل کے کمرے فوری خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کمرے خالی نہ کیے گئے تو ٹرکوں سے ان کا سامان اٹھایا جائے،وزراء کو جب گھر مل چکے ہیں تو کمروں پر قبضہ کیوں کررکھا ہے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت تین بجے کی بجائے ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس کے آغاز پر سیکرٹری اسمبلی نے سپیکر کی اجازت سے میاں شفیع محمد، محمد عبداللہ وڑائچ، سردار اویس دریشک اور کاشف محمود پر مشتمل پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔اجلاس میں سپیکر نے مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑا سے رکنیت کا حلف لیا۔حکومتی رکن مہندر پال سنگھ نے رمیش سنگھ اروڑا کو حلف اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکھ قوم کوبھی مبارک دوں گا کہ ایک اور سکھ رکن ایوان میں آیا ہے۔کرتار پور کوریڈور کاآغاز عمران خان نے کیا جس پر پوری دنیا نے تعریف کی جس پر سپیکر پرویز الٰہی نے کہا کہ کرتارپور راہداری میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کریڈٹ ہے جو انہیں ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارتِ اعلیٰ کے دور میں سکھوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کو ترجیح دی گئی اور ان تک رسائی کیلئے ڈبل سڑکیں تعمیر کی گئیں، ننکانہ صاحب کو ترقی دی اور ضلع بنایا جبکہ واہگہ سے ننکانہ تک ڈبل سڑک بنائی گئی، لاہور سے بذریعہ نارووال کرتارپور تک سڑک میں توسیع کی، اگر پرویزمشرف سپورٹ نہ کرتے تو شاید یہ سارے کام نہ ہوتے۔

چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ کرتارپور کوریڈور بنانے میں جنرل باجوہ کی جپھی نے جو کام کیا وہ ماضی کی حکومتیں نہ کر سکیں، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کرتارپور کوریڈور بنانے میں ذاتی دلچسپی لی اور اس کی تعمیر کے دوران دس سے زائد بار دورہ کر کے ذاتی طور پر کام کا معائنہ کرتے رہے۔ سپیکر نے حکومتی رکن کو کہا کہ اگر آپ کو کرتارپور سمیت کسی بھی بات کاکچھ پتہ نہ ہوتو بات نہیں کرتے اور انہیں بٹھا دیا۔ اجلاس میں محکمہ سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز اینڈ ٹورزم ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں متعلقہ صوبائی وزیر میاں تیمور نے سوالات کے جوابات دئیے۔

رانا مشہود احمد خان نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے وزرا ء موجودہ صورتحال پر کہانی کچھ اور بتا رہے ہوتے ہیں۔ عظمی بخاری نے آٹے کا مسئلہ بتایا اور ایک تماشہ کھڑا کرکے آٹے کا ٹرک ان کے گھر کے باہر کھڑا کر دیاگیا،کس کے احکامات اور حکومتی خرچے پر عظمی بخاری کے گھر کے باہر آٹے کا ٹرک لیجایاگیا،یہ استحقاق کے زمرے میں آتا ہے اور مقدمہ بنتاہے۔سپیکر نے کہا کہ آٹا کھاؤ یہ کوئی بری بات نہیں۔ بعد ازاں کشمیر ایشو، آٹے کے بحران اور امن ق امان کی صورتحال پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا کہ جب زلزلہ آیا تو پوری قوم نے اپنا حصہ ڈالا اور بطور قوم اس کا حل تلاش کیا،قوم کو دہشت گردی کا سامنارہاتو افواج پاکستان،پولیس اور رینجرز اس سے نمٹی،سوات آپریشن پر چالیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے،جب کشمیر کا نام آتا ہے تو بے دردی سے قتل ہونے والوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے گھومتے ہیں۔

ا نہوں نے کہا کہ بھارت وقتی طور پر بازور بازو انتقام لے سکتا ہے لیکن کشمیریوں کی قربانیاں اور خون رائیگاں نہیں جائے گا،اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد نا گزیر ہو چکا ہے۔ا نہوں نے کہا کہ جب تک ہم معاشی طورپر پاؤں پر کھڑے نہیں ہوتے،اتحاد پیدا نہیں کرتے دنیا ہماری نہیں سنے گی۔ایک وقت تھا جب چین میں غربت و افلاس کے ڈیرے تھے بیروزگار لوگ سڑکوں پر زندگی گزارتے تھے،نوے دہائی میں چین گیا تو وہاں انڈسٹریل زون بن رہاتھا،آج چین مضبوط معاشی طاقت بن کر امریکہ جیسی سپر پاور کو کو ڈکٹیٹ کرتا ہے،کسی کو چور ڈاکو کہنے سے صوبے کے مسائل حل نہیں ہوں گے،میں سیاست نہیں کرنا چاہتا،آپ بھی واقف ہیں نظام حکومت کیسے چلایاجاتاہے،تین لاکھ ٹن گندم کیوں درآمد کی جارہی ہے،پنجاب حکومت کہتی آٹے کا بحران نہیں،آپ نے فیصلہ کرنا ہے کون سچ اور کون جھوٹ بول رہاہے۔ اب چینی کا بحران سامنے آ رہاہے،ایک دن میں پانچ روپے کلو چینی مہنگی ہوئی،ہم نے اور آپ نے عوام کے پاس جانا ہے وہ پوچھیں گے کیا ڈلیور کیاہے مرغی کے گوشت کے بعد سبزیاں غریب آدمی کا خواب بن گیاہے،پاکستان کے غریب آدمی کی دکھ بھری داستان ہے،ہماری اور آپ کی بات نہیں ہے،جب کہا آئیں میثاق معیشت کی بات کریں لیکن چور ڈاکو کے نعرے لگائے گئے۔ورلڈ بینک کی رپورٹس آ رہی ہیں،ڈیووس میں عمران خان نے کہا کرپشن پر اکھاڑ پچھاڑ اورحکومتیں تبدیل ہوتی رہیں، ڈیووس دورے کے دوران کرپشن پر رپورٹ آئی تو عمران خان نے کہاکہ کرپشن بڑھ گئی ہے، کیا ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ لمحہ فکریہ نہیں ہے، ریاست مدینہ کی اچھی سوچ ہے لیکن سپریم کورٹ نے خیبر پختوانخواہ حکومت کو نااہلی پر نہیں جھوٹ بولنے پرپانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل کاٹ رہاہوں اور میرے ساتھی رہنما بھی جیل کاٹ رہے ہیں،ٹماٹر آلو پیاز کی قیمتیں روز آسمان کو چھوتی ہیں،اب چینی کی قیمت اوپر جا رہی ہے،جو موجودہ بحران کا سبب بنے ان کی نشاندہی ہونی چاہیے،کیا تماشا ہے آٹے کے ٹرک سڑکوں پر کھڑے ہیں،زراعت والے صوبے میں آٹے کا بحران لوگوں کا سامنا کررہاہے،اقتدار آنے جانے کی چیز ہی اچھے کام یاد رہ جاتے ہیں۔ اس دوران سپیکر پرویز الٰہی نے مداخلت کرنے پر حکومتی رکن اسمبلی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے جھاڑ پلا دی اور کہا کہ اگر میں اپوزیشن رکن کو باہر نکال سکتا ہوں تو حکومتی بنچوں سے بھی باہر نکال سکتاہوں، جس نے بولنا ہے پہلے نام دیں اور اپنی باری پر بولیں۔

حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ (ن) لیگ نے فرانزک لیب کا منصوبہ شروع کیا تو جاتے ہوئے ساتھ اسے ساتھ لے گئی،عوام کے لئے منصوبہ شروع کیا وہ ہمیشہ یاد رہے گا،ون ون ٹو ٹو صرف پانچ منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچتی ہے یہ پرویز الٰہی کاکارنامہ تھا جسے عوام نے پسند کیا اور ہم نے اپنے دور میں اس منصوبے کو آگے بڑھایا،حکومت ڈینائل موڈ سے باہر نکل کر آٹے کا مسئلہ حل کریں،عظمی بخاری کے گھر کے باہر آٹے کا ٹرک کھڑا کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،چودہ ماہ بعد جو مرضی کہیں لیکن پچھلی حکومت نے کام کیا آپ بھی خود کچھ کرکے دکھائیں،غلطی کو تلاش کرنے میں عظمت ہے،انکوائری ہونی چاہیے،انسانیت کا احساس ہونا چاہیے جو ذمہ دار ہیں ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آٹے بحران پر وفاقی حکومت کی بنائی کمیٹی کو صوبائی حکومت تسلیم نہیں کر رہی،اگر موجودہ مسئلے کا حل نہ نکالا تو لوگ سیاستدانوں سے نفرت کریں گے،گلی محلوں میں آٹے کے تھیلے پر لڑائیاں ہوں گی،غلطی کا مداوا کریں جن لوگوں نے ووٹ دیا وہ ہمارے گریبان پکڑیں گے اور کہیں گے آٹے بحران پر جھوٹ بولا۔

صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ سندھ حکومت نے چار ٹن گندم خریدنی تھی لیکن ایک ٹن خریدی،سندھ میں 13 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، سندھ میں لوگ بھوک و افلاس مر رہے ہیں،رکن قومی اسمبلی کے گودام سے 82 ہزار چینی کی بوریاں نیب نے برآمد کیں، اگر چینی کا کوئی بحران پیدا ہوا تو وہ حسن مرتضی اور ان کی پارٹی کا پیدا کردہ ہو گا،عثمان بزدار اور پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔حسن مرتضی نے اپنے کہا کہ حیران ہوں اللہ تعالیٰ نے عظمی کاردار کی زبان سے سب کو محفوظ رکھا،پنجاب،گلگت بلتستان اور خیبر پختوانخواہ سے جو آٹا غائب ہوا وہ ذمہ داری بھی سندھ پر ڈالی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر سب کو یک زبان ہونا چاہیے،کشمیر ایشو پر قوم تقسیم نظر نہ آئے۔ا نہوں نے کہا کہ آٹے کا بحران پہلا ایشو نہیں ہے اس سے پہلے بھی مسئلہ رہا ہے،موجودہ بحران پر کمیٹی بنائی جائے جو اصل ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائے،اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے، اکتوبر میں گندم برآمد کی گئی جس سے خزانے کو دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے مارچ میں سندھ کی گندم مارکیٹ میں آ جاتی ہے تو ایک ماہ پہلے گندم درآمد کرنے کی کیا ضرورت ہے،عوام کو گندم پر ٹیکہ لگنے جارہاہے،قومی قیادت کو موجودہ بحران پر پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے ساتھ مل کر بیٹھنا چاہیے تاکہ قوم کو اس مسئلے سے باہر نکالیں لیکن چور چور پکڑ وپکڑولو کی آوازیں آ رہی ہیں،اب چینی کا بحران پیدا کیا جارہا ہے صوبہ کیسے چلے گا،حکومت سے صوبہ نہیں چل رہا یہ زیر تربیت ہیں اور اب تو خود بھی مان رہے ہیں،ایم کیو ایم سمیت دوسری جماعتوں نے حکومت کو نااہل نالائق قرار دیا ہے۔ اگر مونس الٰہی اورجہانگیر ترین نے ایک دوسرے کے خلاف بات کی تو کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی،چودھری پرویز الٰہی وزیر اعلی بن جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا آٹے کا بحران نکل جائے گا،فواد چودھری نے عثمان بزداراور حکومت کے متعلق سب کہہ د یا ہے کہ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے،اس بات نے بھانڈہ پھوڑ دیا اوربرا وقت شروع ہونے والا ہے شاید فواد چودھری کی گوٹی پھر گئی ہے اب تو حد ہو گئی ہے،پی ٹی آئی کے بیس ارکان نے بھی حکومت پر عدم اعتماد کااظہار کر دیا۔ انہوں نے اراکین اسمبلی مہنگائی کے خلاف احتجاج میں ساتھ دیں۔سپیکر پرویز الٰہی نے حسن مرتضی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھوک ہڑتال میں جوس بھیجوں تو پی لینا۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایسا مسئلہ ہے جس پر تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے،کشمیریوں پر مظالم ڈھانے والوں کے ساتھ ذاتی تعلقات کس کے تھے، کشمیریوں کے قاتل کو کون اپنی شادیوں پر بلاتا تھا،یو این او میں جس طرح عمران خان نے اس قوم اور کشمیر کا جو مقدمہ پیش کیا اس پر ہمیں فخر ہے،آج کشمیری مسلسل کرفیو کا سامنا کرکے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے عمران خان ان کے پیچھے ہے،آج امریکہ نے بھی اعتراف کیا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ آج سے پہلے کبھی اس انداز میں پیش نہیں کیا گیا،آج ضرورت ہے کہ اس ایوان سے ہمارے قائد و قومی لیڈر عمران خان کے لیے آواز جانی چاہیے،مہنگائی پر ہم ایک ہونے کے لیے تیار ہیں کشمیر ایشو پر کیوں نہیں اکٹھے ہوتے،عمران خان دنیا کے چند رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہیں بین الااقوامی برداری نے بھی تسلیم کیا کہ یہ دنیا کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں۔

رانا مشہود نے کہا کہ اس حکومت نے کشمیر ایشو کو خراب کیا ہے،ڈالر، پٹرول، یوریا، آٹا چینی، ادویات کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں،اس حکومت میں اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، چینی کی قیمتیں بڑھنے میں اسٹیک ہولڈر جہانگیر ترین اور خسرو بختیار ہیں،حکومت نے ان دونوں کو ہی کمیٹی میں ڈال دیا ہے۔وقت مکمل ہونے پر اجلاس جمعہ کی صبح 9 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔قبل ازیں اسمبلی ہاسٹل کے کمروں کے حوالے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ بیشتر ممبران کو ہاسٹل کی سہولت کا مسئلہ ہے،پرانے پیپلزہاوس میں کام جاری ہے،سابقہ دور حکومت کے دس سالوں میں ہاسٹل میں ایک کمرے کا اضافہ نہیں کیا گیا،لیکن اب 150کمروں پر مشتمل نیا ہاسٹل تعمیر کیا جا رہا ہے،صوبائی وزراء کو جب گھر مل چکے ہیں تو انہوں نے کمروں پر قبضہ کیوں کر رکھا ہے،صوبائی وزراء فوری کمرے خالی کریں،میں نے کمرے خالی کرانے ہیں جنگ نہیں کرنی،بیشتر خواتین کو کمرے نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ پیش آتا ہے،جن وزراء نے کمروں پر قبضہ کیا ہے ہوا ہے پہلے مرحلے میں ان وزراء کے ٹیبل پر نام رکھے جائیں ،دوسرے مرحلے میں ان کے نام کا ایوان میں اعلان ہوگا،فائنل اور آخری مرحلے میں ان صوبائی وزراء کے کمرے کے باہر ٹرک کھڑے کیے جائیں اور ان میں وزراکا سامان لوڈ کیا جائے۔ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کا پنجاب اسمبلی میں بھی چرچہ رہا اور اپوزیشن اراکین اس پر بات کرتے ہوئے دکھائی دئیے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور