”ای کامرس“ کی ترقی

”ای کامرس“ کی ترقی
”ای کامرس“ کی ترقی

  

ہر عہد کی اپنی مخصوص سچا ئیاں ہوتی ہیں،جن کو نظر انداز کرنے کا مطلب ہے کہ ہم ترقی کرنا تو درکنا ر زوال کی طرف سفر کر رہے ہیں۔اب سے کچھ عرصہ پہلے تک دنیا کے اکثر ممالک خاص طور پر تیسری دنیا یا ترقی پذیر ممالک میں عوام کو ”ملازمت“ دینا ریاست کی ذمہ داری مانی جاتی  تھی پڑھے لکھے نوجوان سرکاری نوکری کو ”پکی نوکری“ مانتے ہوئے دن رات ایک کر کے امتحانات دے کر یا پھر سفارشوں اور رشوت کی مدد سے سرکاری نوکری کی کوشش کرتے۔ نوے کی دہائی کے بعد وقت بدلا اب ریاست کے پاس اتنے وسائل ہی نہیں کہ وہ اپنے ہر پڑھے لکھے شہری کو ملازمت دینے کی ضمانت فراہم کرسکے۔اب جہاں ایک طرف یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لینے والے نوجوانوں کی بھر ما ر تھی تو دوسری طرف ریاست کے وسائل محدود تھے۔ ایسے میں ”پرا ئیویٹ سیکٹر“ یا ”کارپوریٹ سیکٹر“ میں ملازمت کو کامیا بی کی کنجی تسلیم کیا جانے لگاجہاں ایک پڑھا لکھا نو جوان اتنی اچھی تنخواہ حاصل کر پا تا کہ جس تنخواہ کا ایمانداری کیساتھ سرکاری نوکریوں میں تصور بھی نہیں تھا،مگر اب حالات پھر بدل رہے ہیں معروض تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا میں تو ”کرونا“ سے پہلے ہی ”آن لائن تعلیم“ آن لائن ملازمتوں“ کا تصور جنم لے چکا تھا، مگر پا کستان میں ایسے تصورات کو زیادہ مقبولیت نہیں مل رہی تھی، مگر اب پا کستان میں بھی حالات کی اس تبدیلی کومحسوس کیا جا رہا ہے۔ اس کا ایک اظہار ہمیں پاکستان میں ”ان ایبلرز“ کی صورت میں نظر آرہاہے۔

 ”ان ایبلرز“ ایک ایسی پاکستانی کمپنی ہے جس کے ذریعے مقامی کا روباری افراد اور ہنر مند نوجوان دنیا میں ”ای کامرس“ کے بڑے پلیٹ فارم ”ایما زون“ میں ”آن لائن سٹور“ کے ذریعے اپنی اشیا کو فروخت کر سکتے ہیں۔ ”ایمازون“ دنیا میں اشیا ء کے فروخت کی سب سے بڑی سائٹ ہے۔”ایما زون“ دنیا کے 103 ممالک میں کام کرتی ہے، مگر پاکستان ان ممالک میں شامل نہیں تھا،یعنی مقامی افراد ”ایما زون“ میں نہ اپنا اکاونٹ کھول سکتے تھے اور نہ ہی ”ایما زون“ میں اپنی اشیاء براہ راست پاکستان میں پہنچا سکتے تھے۔اب پا کستان میں ”ان ایبلرز“کمپنی اپنے ”ڈیش بورڈ“ کے ذریعے پاکستانیوں کو یہ موقع فراہم کر رہی ہے کہ وہ اپنی اشیاء دنیا میں ”ای کامرس“ کی اس سب سے بڑی سائٹ پر فروخت کر سکیں۔ پاکستانی کا روباری حضرات کی اشیاء ”این ایبلر“ ہی دوسرے ملکوں تک پہنچا دیتی ہے اور پھر اس شخص کو اس کے واجبات بھی ادا کر دیئے جا تے ہیں۔ پا کستان میں ”ایما زون“ کی کامیابی کا اندازہ ان حقائق سے کیجئے کہ ”ایما زون“ کی سیلز ایک دن میں ساڑھے تین ارب ڈالرز تک بھی پہنچ جاتی ہے جبکہ پاکستان کی سالانہ ایکسپورٹس گزشتہ سال ساڑھے چو بیس ارب ڈالرز کی رہیں۔

کراچی، سیالکوٹ،پشاور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد جیسے شہروں میں ”ایمازون“ میں اشیاء بھیجنے کے لئے کئی چھوٹی بڑی صنعتوں میں کام کے باعث ہزاروں نوجوانوں اور ہنر مندوں کو روزگار کے حصول کا موقع بھی مل رہا ہے اور ساتھ یہ تر بیت بھی دی جا رہی ہے کہ ”ایمازون“ سے کیسے زیادہ سے زیادہ ”ریوینو“حا صل کیا جا سکے۔ یوں یہ ہنر مند نوجوان اپنے روزگار کے لئے نہ ریاست کے مرہون منت رہے اور نہ ہی پرا ئیویٹ سیکٹرکے ”سیٹھ“ کے۔ایسی اطلاعات بھی شائع ہو رہی ہیں کہ فیصل آباد اور کراچی جیسے شہروں میں ایسے کاروباری حضرات بھی ہیں جو ”ایما زون“ میں ٹیکسٹائل کی اشیاء فروخت کر کے دس لاکھ ڈالرز ماہانہ تک بھی کما رہے ہیں، جبکہ خود ”ایما زون“ کی اپنی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس وقت ”ایما زون“ میں فروخت ہونے والی ”ٹیکسٹائل“ کی اشیاء کا  50فیصد پا کستان سے ہی آرڈر کیا جا تا ہے۔

اس سب کے ساتھ ساتھ ”این ایبلربوٹ کیمپ“ میں ایسے افراد کوبھی تربیت دی جاتی ہے جو پاکستان سے ”ایما زون“ میں کھیلوں کا سامان، کاسمیٹکس، موبائل فونز کے سپیئر پارٹس، سرجیکل کا سامان، اور اس طرح کی دوسری اشیاء ”ایما زون“ میں فروخت کرتے ہیں۔پا کستان میں کا روبار کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی رہاہے کہ ہنرمند افراد کے پاس ہنر کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے کے لئے بہترین منصوبے بھی ہو تے ہیں،مگر ان کے پاس سرمایے کا مسئلہ ہو تا ہے یا تو سرما یہ ہو تا ہی نہیں یا پھر اس کی قلت ہو تی ہے۔ ایسے افراد کو بھی کم سرمایے پر کاروبار کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح بعض افراد کے پاس سرما یے کی فراوانی ہوتی ہے،مگر ان کے پاس کا روبار کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ ایسے میں ”این ایبلر انوسٹمنٹ کلب“ کے ذریعے ان افراد کو شامل کیا جا تا ہے جو ”این ایبلر“ کے ساتھ پارٹنر شپ کی بنیا د پر اپنے سرمایے کے ساتھ شامل ہو جا تے ہیں۔ اس سارے معاملے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ ”این ایبلر“ کو حکومت پا کستان سے بھی سپورٹ مل رہی ہے۔اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے بھی چند روز قبل ”این ایبلرز“ کی ٹیم کو ایوان صدر بلایا اور ان سے ملاقات کر کے کئی نکات پر اتفاق کیا گیا۔

ان اہم نکات کے مطابق ”این ایبلرز“ کی مدد سے حکومت پاکستان بھرپور کوشش کر ے گی کہ 2021ء میں پا کستان کو بھی باقاعدہ ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا جائے جو ”ایما زون“ کے ساتھ براہ راست کا روبار کر پائیں۔ ”این ایبلرز“ پاکستان بھر میں ”ای کامرس“کو متعارف کر وائے گی، جس کے تحت پا کستان بھر کی ”ای کامرس“ کمپنیاں اور ای کامرس کا روبار ایک پلیٹ فارم کے تحت ہی کام کریں گے۔ ”ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان“ ”این ایبلر“ کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل بناتے ہوئے ”ای کامرس“ کی ڈگریاں اور ”پی ایچ ڈی“ پروگرام بھی متعارف کروائے گا۔ جیسا کہ کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ خود کو ہرعہد اوردور کے حالات کے مطابق ڈھالے بغیرترقی کا سفر ممکن نہیں ہو تا۔ آج کے عہد کی کئی دوسری سچا ئیوں کے ساتھ ایک سچا ئی یہ بھی ہے کہ اب تجارت کے صدیوں پرانے روایتی طریقے متروک ہو تے جا رہے ہیں اور ”ای کامرس“ اب تجارت کا جدید طریقہ بن چکا ہے۔ ایک پاکستانی کے طور پر یہ بات ہمارے لئے باعث اطمنان ہے کہ ”این ایبلز“ جیسی کمپنی کے ذر یعے  پاکستان میں بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -