صنعتی ومعاشی ترقی کیلئے کراس بارڈ ٹریڈ زوقت کی اہم ضرورت ہے: محمد زاہد شاہ 

صنعتی ومعاشی ترقی کیلئے کراس بارڈ ٹریڈ زوقت کی اہم ضرورت ہے: محمد زاہد شاہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(سٹی رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری نائب صدر محمد زاہدشاہ نے کراس بارڈ ٹریڈزپرسمیڈاکے منعقدہ ویب نار سیمینار میں افغانستان، چین، ایران اور انڈیا کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کی غرض سے موجود اور نئے بارڈسٹیشنز کو فعال بنانے پر زوردیتے ہوئے حکومت سے صنعت کاروں اور ایکسپورٹروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کا مطالبہ کیاہے۔ ویب نار سیمینار میں وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری عبدالکریم خان،چیف ایگزیکٹیو سمیڈا ہاشم رضا،سرحدچیمبرکے سینئر نائب صدر منظورالہی،کسٹم سیکرٹری منیجمنٹ محمد ذاکر، چیف ایگزیکٹیو کے پی بی آئی ٹی حسن دادبٹ اور یو این ڈی پی نمائندہ عامر گوریہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔ محمد زاہد شاہ نے کہاکہ خیبرپختونخوا کی پسماندگی دور کرنے کے لئے صنعتی ومعاشی ترقی کے لئے کراس بارڈ ٹریڈوقت کی اہم ضرورت ہے اور افغانستان، ایران، چین اور انڈیا کے ساتھ باہمی تجارت بڑھانے کے لئے تمام بارڈ سٹیشن کو کھولنا چاہئے تاکہ کاروبار کو وسعت مل سکے، انہوں نے پاک افغان بارڈ طورحم، غلام خان، خرلاچی کے ساتھ انگوراڈہ، ارندو، شاہ سلیم چترال بارڈسٹیشنزتجارت کے لئے 24گھنٹے کھولنے کے ساتھ جدید سہولیات سے آراستہ کرنے پر زور دیاہیں۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک سے استعفادہ حاصل کرنے کے لئے نئے سپیشل اکنامک زون کو فعال کرنے کے لئے سروسز سیکٹر کو مراعات دے کر بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لئے سمیڈا، کے پی بی اوآئی، کے پی ازمک اور ایف پی سی سی آئی ایک پیچ پر آگئے تاکہ بزنس کمیونٹی کے مشکلات و مسائل کا بہتر حل نکال کر صوبے کو صنعتی ومعاشی ترقی کے ساتھ تجارت میں خودکفیل کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ ایڈ کی بجائے حکومت کو ٹریڈ پر توجہ دیں اور سرمایہ کاروں کو سہولیات دے کربے روزگاری کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ خیبرپختونخوا معاشی طور پر خودکفیل ہوسکے۔ محمد زاہد شاہ نے سمیڈا، کے پی بی او آئی، کے پی ازمک اور وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری کے تجارت اور سرمایہ کاری کرنے کے کوششوں کو سہراتے ہوئے تمام اضلاع کے انڈسٹریل اسٹیٹ میں انفراسٹریکچر بہتر کرنے کے ساتھ بزنس کمیونٹی کو مراعات دینے کا مطالبہ کیاہے۔ انہوں نے ایکسپورٹ بڑھانے کے ساتھ معدنیات، ہائیڈل، ٹورازم اور صنعتی ترقی توجہ دینے کی ضروت پر زور دیاہیں جبکہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے حکومتی اداروں کو تعاون کی پیشکش کردی۔