سینیٹ نے پینٹا گون کے پہلے سیاہ فام سربراہ لائیڈ آسٹن کی توثیق کر دی
واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی سینیٹ نے جمعہ کے روز اپنے اجلاس میں لائیڈ آسٹن کی بطور وزیر دفاع توثیق کردی۔ اس طرح یہ ریٹائرڈ آرمی جنرل پینٹاگون کے سربراہ مقرر ہونے والے پہلے سیاہ فام بن گئے۔ سوارکان کے ایوان میں انہیں دو کے مقابلے پر 93ووٹ ملے۔ نئے صدر جوبائیڈن کی نامزد کردہ کابینہ کے وہ دوسرے رکن ہیں جن کو سینیٹ سے ملنے والی ضروری منظوری مل چکی ہے۔ قبل ازیں سینیٹ نے بدھ کے روز نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر نامزد ہونے والی پہلی خاتون ایورل ہینس کی توثیق کی تھی۔ صدر بائیڈن کوتوقع ہے کہ آئندہ چند دنوں میں سینٹی نامزد وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن سمیت ان کی قومی سیکیورٹی ٹیم کے دیگر ارکان کی منظوری دے دی گئی۔ جنرل آسٹن کی کابینہ میں شمولیت کی راہ میں ایک قانونی رکاوٹ تھی کیونکہ ایک آرمی آفیسر ریٹائر ہونے کے ساتھ سال بعد ہی سیاسی عہدے پر مقرر ہوسکتا ہے جب کہ پہلی مرتبہ سنٹلر کمان کے سیاہ فام سربراہ کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد وہ 2016ء میں ریٹائر ہوئے تھے۔ قبل ازیں وہ 2012ء میں امریکی فوج کے پہلے سیاہ فام وائس چیف آف سٹاف بھی رہ چکے ہی۔ قانونی رکاوٹ دور کرنے کیلئے انہیں کانگریس کے دونوں ایوانوں سے استثنیٰ حاصل کرنا ضروری تھا جو انہیں جمعرات کو مل گیا تھا جس کے بعد جمعہ کو ووٹنگ ہوئی۔ سادہ طبع کے ریٹائرڈ جنرل بہت فخر سے بتاتے ہیں کہ وہ ریاست جارجیا میں ڈاک خانے میں ایک معمولی ملازم کے بیٹے ہیں۔ منگل کے روز سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی میں اپنی توثیق کے لئے شہادتی بیان میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ انہوں نے کابینہ میں شمولیت کی خواہش ظاہر نہیں کی اور روہ بخوبی آگاہ ہیں کہ وزیر دفاع کے سیاسی عہدے کی ذمہ داریاں فوجی ملازمت سے بہت مختلف ہیں۔ جنرل آسٹن نے صدر اوبامہ کے دور میں نائب صدر جوبائیڈن کے ساتھ مل کر عراق سے انخلا کا کام کیا تھا جب وہ وہاں کمانڈر مقرر تھے۔ جنرل آسٹن نے سینیٹ کمیٹی کے ایک رکن کے سوال کے جواب پر بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ کیلئے پاکستان کی بہت اہمیت ہے اور بطور وزیر دفاع ان کی کوشش ہوگی کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم مسائل پر تعاون کیلئے پاکستان کی فوج کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے ایک پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مدد کرنا چاہتاہے۔ نامزد وزیر دفاع نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ ان کے خیال میں افغان مسئلے کے پرامن حل کیلئے پاکستان نے پہلے تعمیری اقدامات کئے ہیں انہوں نے خاص طور پر لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے بھارت مخالف گروہوں کے خلاف پاکستانی کارروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ اقدامات ابھی نامکمل ہیں اور امید ہے اس سلسلے میں مزید اقدامات کئے جائیں گے۔ نامزد وزیر دفاع جنرل آسٹن نے افغان امن مذاکرات کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جہاں ان میں پاکستان کے کردار کے خواہشمند ہیں وہاں وہ علاقائی طاقتوں کو امن مذاکرات کا ماحول خراب کرنے سے روکیں گے۔ مبصرین کے خیال میں ان کا اشارہ بھارت کی طرف ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی خطے کے بارے میں پالیسی میں پاکستان کی بہت اہمیت ہوگی اور بھارت کا وہ کردار نہیں رہے گا جو ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں تھا۔
امریکی وزیر دفاع
