دجال کی ہلاکت کیسے ہوگی؟ حضرت عیسیٰؑ کا نزول کہاں ہوگا؟ آپ کی پہچان کن لوگوں کو ہوگی؟

دجال کی ہلاکت کیسے ہوگی؟ حضرت عیسیٰؑ کا نزول کہاں ہوگا؟ آپ کی پہچان کن لوگوں ...
دجال کی ہلاکت کیسے ہوگی؟ حضرت عیسیٰؑ کا نزول کہاں ہوگا؟ آپ کی پہچان کن لوگوں کو ہوگی؟
سورس:   Pixabay

  

 قیامت سے کچھ پہلے بڑے فتنے ظاہر ہوں گے جن میں دجال کا فتنہ سب سے شدید ہوگا، اس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر قتل کریں گے۔ نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے دجال شام میں فلسطین کے ایک شہر تک پہنچ جائے گا جو بابِ لُد پر واقع ہوگا اور مسلمان افیق نامی گھاٹی کی طرف سمٹ جائیں گے، یہاں سے وہ اپنے مویشی چرنے کیلئے بھیجیں گے جو سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے، بالآخر مسلمان بیت المقدس کے ایک پہاڑ پر محصور ہوجائیں گے جس کا نام جبل الدُخان ہے اور دجال پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈال کر مسلمانوں کی ایک جماعت کا محاصرہ کرلے گا جو کہ انتہائی سخت ہوگا جس کے باعث مسلمان سخت مشقت میں مبتلا ہوجائیں گے، حتیٰ کہ بعض لوگ اپنی کمان کو جلا کر کھائیں گے۔ دجال آخری بار اردن کے علاقے میں افیق نامی گھاٹی پر نمودار ہوگا اس وقت جو بھی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوگا وادی اردن میں موجود ہوگا ، دجال ایک تہائی مسلمانوں کو قتل کردے گا، ایک تہائی کو شکست دے گا اور صرف ایک تہائی مسلمان باقی بچیں گے، جب محاصرہ طویل ہوجائے تو مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا کہ اب کس کا انتظار ہے، اس سرکش سے جنگ کرو تاکہ شہادت یا فتح میں سے ایک چیز تم کو حاصل ہوجائے ، چنانچہ سب لوگ پختہ عہد کرلیں گے کہ صبح ہوتے ہی نماز فجر کے بعد دجال سے جنگ کریں گے۔

وہ رات سخت تاریک ہوگی اور لوگ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے کہ صبح کی تاریکی میں اچانک کسی کی آواز سنائی دے گی کہ تمہارا فریاد رس آپہنچا ہے، لوگ تعجب سے کہیں گے کہ یہ تو کسی شکم سیر کی آواز ہے۔ غرض نماز فجر کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے، نزول کے وقت وہ اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر رکھے ہوئے ہوں گے، آپ علیہ السلام مشہور صحابی عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مشابہ ہوں گے، آپ کا قد و قامت درمیانہ، رنگ سرخ و سفید اور بال شانوں تک پھیلے ہوئے سیدھے ، صاف اور چمکدار ہوں گے جیسے غسل کے بعد ہوتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سر جھکائیں گے تو اس سے موتیوں کی مانند قطرے ٹپکیں گے ، آپ نے جسم پر ایک زرہ اور ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے، جس جماعت میں آپ کا نزول ہوگا وہ اس زمانہ کے صالح ترین 800 مرد اور 400 خواتین پر مشتمل ہوگی۔ ان مسلمانوں کے پوچھنے پر آپ اپنا تعارف کرائیں گے اور دجال سے جہاد کے بارے میں ان کے جذبات و خیالات معلوم فرمائیں گے،نزول عیسیٰ علیہ السلام کے وقت امام مہدی مسلمانوں کے امیر ہوں گے ، آپ کا ظہور نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے ہوچکا ہوگا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی مشرقی سمت میں سفید منارے کے پاس یا بیت المقدس میں امام مہدی کے پاس ہوگا، اس وقت امام مہدی نماز پڑھانے کیلئے آگے بڑھ چکے ہوں گے اور نماز کی اقامت ہوچکی ہوگی، امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو امامت کیلئے بلائیں گے مگر وہ انکار کردیں گے اور فرمائیں گے کہ یہ اس امت کا اعزاز ہے کہ اس کے بعض لوگ بعض کے امیر ہیں، جب امام مہدی امامت چھوڑ کر پیچھے ہٹنے لگیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کی پشت پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ تم ہی نماز پڑھاؤ کیونکہ اس نماز کی اقامت تمہارے لیے ہوچکی ہے، چنانچہ اس وقت کی نماز امام مہدی ہی پڑھائیں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لمن حمدہ کے بعد فرمائیں گے ’’ قتل اللہ الدجال و اظہر المومنین‘‘

غرض نماز فجر سے فارغ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دروازہ کھلوائیں گے جس کے پیچھے دجال ہوگا اور اس کے ساتھ 70 ہزار مسلح یہودی ہوں گے ، آپ ہاتھ کے اشارے سے فرمائیں گے کہ میرے اور دجال کے درمیان سے ہٹ جاؤ، دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس طرح گھلنے لگے گا جیسے۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

روشن کرنیں -