حضرت عیسٰیؑ اور یاجوج ماجوج میں جنگ، آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب قیامت کے قریب دنیا میں تشریف لائیں گے تو اپنے دست مبارک سے عظیم ترین فتنے دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد لوگ امن کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے کہ یاجوج ماجوج کی دیوار ٹوٹ جائے گی اور وہ زمین پر نکل پڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوگا کہ وہ مسلمانوں کو طور پہاڑ کی طرف جمع کرلیں کیونکہ یاجوج ماجوج کا مقابلہ کس کے بس کا نہ ہوگا۔ یاجوج ماجوج اتنی بڑی تعداد میں اور اس تیزی کے ساتھ نکلیں گے کہ ہر بلندی سے پھلستے ہوئے معلوم ہوں گے۔ وہ شہروں کو روند ڈالیں گے اور زمین میں جہاں پہنچیں گے تباہی مچادیں گے۔ جس پانی سے گزریں گے اسے پی کر ختم کردیں گے۔ ان کی ابتدائی جماعت جب بحیرہ طبریہ پر سے گزرے گی تو اس کا پورا پانی پی جائے گی اور جب ان کی آخری جماعت وہاں سے گزرے گی تو اسے دیکھ کر کہے گی کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔ ہر طرف تباہی و بربادی کرنے کے بعد یاجوج ماجوج کہیں گے کہ ہم اہلِ زمین پر تو غلبہ پاچکے ہیں آؤ اب آسمان والوں سے جنگ کریں۔
جس وقت یاجوج ماجوج زمین پر فساد مچا رہے ہوں گے اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ طور پہاڑ پر محصور ہوں گے جہاں غذا کی سخت قلت کے باعث لوگوں کو ایک بیل کا سر 100 دینار سے بہتر معلوم ہوگا۔ مسلمانوں کی شکایت پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بد دعا فرمائیں گے جس کے بعد اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کی گردنوں اور کانوں میں ایک کیڑا اور حلق میں ایک پھوڑا نکال دے گا جس سے سب کے جسم پھٹ جائیں گے اور وہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔ یاجوج ماجوج کے خاتمے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ زمین پر اتریں گے لیکن زمین ساری یاجوج ماجوج کی لاشوں کی چکناہٹ اور بدبو سے بھری ہوگی جس سے مسلمانوں کو تکلیف ہوگی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی دعا کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ایک ہوا اور لمبی گردنوں والے بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا جو ان کی لاشیں اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا وہاں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف کردے گی اور زمین اپنی اصلی حالت پر ثمرات و برکات سے بھرجائے گی۔
دنیا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول امام عادل اور حاکم منصف کی حیثیت سے ہوگا۔ آپ اس امت میں بطور نبی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ہوں گے۔
چنانچہ آپ قرآن و حدیث اور اسلامی شریعت پر خود بھی عمل کریں گے اور لوگوں کو بھی اس پر چلائیں گے۔ آپ کا نزول اس امت کے آخری دور میں ہوگا اور آپ 40 سال تک دنیا میں قیام فرمائیں گے ، اسلام کے دورِ اول کے بعد یہ اس امت کا بہترین دور ہوگا۔ آپ کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے محفوظ کردے گا اور جو لوگ اپنا دین بچانے کیلئے آپ سے جا ملیں گے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں گے۔ اس زمانے میں اسلام کے سوا دنیا کے تمام ادیان و مذاہب مٹ جائیں گے اور دنیا میں کوئی کافر باقی نہ رہے گا ، جہاد موقوف ہوجائے گا، خراج اور جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ مال و زر اتنا عام ہوجائے گا کہ کوئی مال کو قبول نہیں کرے گا، زکوٰۃ و صدقات لینا ترک کردیا جائے گا، اور لوگ ایک سجدے کو دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند کریں گے ، ہر قسم کی دینی و دنیوی برکات نازل ہوں گی۔ پوری دنیا امن و امان سے بھر جائے گی۔ سات سال تک کسی بھی شخص کے درمیان دشمنی نہ پائی جائے گی، سب کے دلوں سے بخل، کینہ اور بغض و حسد نکل جائے گا، 40 سال تک نہ کوئی مرے گا اور نہ ہی بیمار ہوگا، ہر زہریلے جانور کا زہر نکال لیا جائے گا، سانپ اور بچھو بھی کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے یہاں تک کہ بچہ اگر سانپ کے منہ میں بھی ہاتھ دے گا تو وہ نقصان نہیں پہنچائے گا۔ درندے بھی کسی کو کچھ نہیں کہیں گے ، آدمی شیر کے پاس سے گزرے گا مگر وہ انسان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ یہاں تک کہ لڑکی شیر کے دانت کھول کر دیکھے گی تو وہ اسے کچھ نہیں کہے گا۔ اونٹ شیروں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیے بھیڑ بکریوں کے ساتھ چریں گے، بھیڑیا بکریوں کے ساتھ ایسا ہوگا جیسے کتا ریوڈ کی حفاظت کیلئے رہتا ہے۔
زمین کی پیداواری صلاحیت اتنی بڑھ جائے گی بیج ٹھوس پتھر میں بھی بویا جائے گا تو اگ آئے گا، ہل چلائے بغیر بھی ایک مُد سے 700 مُد گندم پیدا ہوگی۔ ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ اسے ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے کے نیچے لوگ سایہ حاصل کریں گے، دودھ میں اتنی برکت ہوگی کہ دودھ دینی والی ایک اونٹنی لوگوں کی بہت بڑی جماعت کو ، ایک گائے پورے قبیلے کو اور ایک بکری پوری برادری کو کافی ہوگی۔
نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ندگی بڑی خوشگوار ہوگی، آپ دنیا میں نکاح فرمائیں گے اور آپ کی اولاد بھی ہوگی، نکاح کرنے کے بعد آپ کا دنیا میں قیام 19 سال تک رہے گا، پھر آپ علیہ السلام کی وفات ہوجائے گی، مسلمان نماز جنازہ پڑھ کر آپ کی تدفین کردیں گے۔
اس کے بعد لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق۔۔۔
ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں
