’کنولی ‘کے باہر اردو مشاعرہ،نوجوان شاعر لہک لہک کر اشعار پڑھتے رہے

’کنولی ‘کے باہر اردو مشاعرہ،نوجوان شاعر لہک لہک کر اشعار پڑھتے رہے
’کنولی ‘کے باہر اردو مشاعرہ،نوجوان شاعر لہک لہک کر اشعار پڑھتے رہے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کنولی ریسٹورنٹ کی مالکن کی جانب سے مینجر کے انگریزی نہ بول پانے کا مذاق اڑانے کے واقعہ کے بعد مقامی نوجوان نے ریسٹورنٹ کے باہر اردو مشاعرے کا انعقاد کیا،نوجوان شاعر لہک لہک کر اشعار پڑھتے رہے اور داد سمیٹتے رہے۔

اردو مشاعرے کی متعدد ویڈیوز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شئیر کی گئی ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشاعرے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔اسامہ خاور نامی شہری کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان ترنم کے ساتھ غزل پڑھ رہا ہے اور دیگر نوجوان انہماک کے ساتھ اسے  سن رہے ہیں۔

صنان صدیق نامی خاتون کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان ہوٹل کے مینجر اویس کے حق میں نعرے لگارہے ہیں، نوجوان نعرے بازی کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ذرا زور سے بولو اویس‘

افان نامی شہری کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں بھی نوجوان کو معروف شاعر تہذیب حافی کے اشعار پڑھتے دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -