کیا صدارتی نظام جادو کی چھڑی ہے؟؟؟

کیا صدارتی نظام جادو کی چھڑی ہے؟؟؟
کیا صدارتی نظام جادو کی چھڑی ہے؟؟؟

  

موجودہ حکومت اپنے اقتدار کے چوتھے سال سے گزر رہی ہے. ان پونے چار سالوں میں اس حکومت کی کارکردگی کیا اس اس کو سمجھنے کے لیے ملک میں 20 فیصد سےتجاوز کرتی مہنگائی،بیروزگاری،غربت،لاقانونیت،بڑھتے جرائم، ڈوبی ہوئی معیشت، قرضوں میں 55 فیصد تک اضافہ، دوست ممالک کے ساتھ بگڑے تعلقات،کشمیرکےمعاملےپرسرد مہری،دم توڑتی سیاسی روایات کےساتھ ساتھ ملک میں ایک دفعہ پھر سےسر اٹھاتی دہشت گردی پر ایک نظر دہرانا ضروری ہے.

مہنگائی پر نظر دہرائی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے. "مہنگائی نے 70 فیصد سے زائد لوگوں کی چیخیں نکلوادیں ہیں" یہ کہنا محض ایک رسمی جملہ ہے وگرنہ حالات اس قدر تلخ ہیں کہ بیان نہیں کیے جاسکتے. چھوٹا تاجر،مزدور، دیہاڑی دار اور ملازم طبقہ اس سے شدید متاثر ہوا ہے. مہنگائی کے اس طوفان نے کاروبار کا پہیہ جام کر رکھا ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری اور غربت کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہوچکا ہے. جہاں بھوک و افلاس ڈیرے ڈال لے وہاں جرائم اور لاقانونیت میں ضرور اضافہ ہوتا ہے جس کا اندازہ موجودہ حالات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے.

معیشت کے تباہ ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ فیصلہ سازی کا فقدان ہے.

‏پاکستان چار سال سے محض چھ ارب ڈالر کے لیے آئی ایم ایف کے گھر کی لونڈی بنا ہوا ہے.ابھی تین ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے اربوں روپے کے اضافی ٹیکسز لگائے گئے اور دیگر کڑی شرائط مانی گئیں جبکہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے دو سالوں میں صرف گندم پر 11 ارب ڈالر کا نقصان کیا.رواں سال کسانوں کو کھاد تک میسر نہیں آرہی، وہ کھاد لینے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں. اس بدترین بدانتظامی پر پاکستان کو رواں سال صرف گندم کی مد میں ایک ارب ڈالر کے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے.بجلی کی قیمتوں میں مہینے میں دو تین دفعہ اضافہ ہونا معمول بن چکا ہے. محض اور بلنگ کے لیے صارفین کو 30 دنوں کا بل بھیجنے کی بجائے 38 سے 40 دنوں کی ریڈنگ پر بل بھیجے جارہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ یونٹس استعمال ہونے کی وجہ سے زیادہ قیمت بجلی ڈالی جا  سکے  .

عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوچکا ہے جبکہ نونہالان انقلاب اس حکومت کی نااہلی کو تسلیم کرنے کی بجائے ان تمام مسائل کی وجہ پارلیمانی نظام کو قرار دے رہی ہے.گویا یہ دبے لفظوں میں اعتراف ناکامی ہے لیکن ملبہ عمران خان صاحب پر ڈالنے کی بجائے پارلیمانی نظام پر ڈالنے کی واردات انجام دی جارہی ہے.اس حکومت کو جب بھی قانون سازی کی ضرورت پڑی اس میں انہوں نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی انجام دے لی مگر کسی بھی حکومتی ارادے کے آگے پارلیمنٹ نہیں آسکی. پارلیمنٹ میں سب سے بڑی حریف اپوزیشن ہوتی ہے جو پارلیمانی نظام کی اساس ہوتی ہےلیکن بدقسمتی سے پاکستان کےموجودہ چارسالوں میں تاریخ کی تاریخ کی سست ترین اپوزیشن ہے.جس کو ویسے ہی وفاقی وزارت برائےاپوزیشن کہنا چاہیے.

اگر حکومت نے اس ملک کو ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو اس جرم عظیم میں اپوزیشن برابر کی قصوروار ہے.اپوزیشن کا دعوی تھا کہ حکومت سلیکٹڈ ہے جبکہ ہم عوام کے حقیقی نمائیندے ہیں تو کیا اپوزیشن نے تڑپتی،بلکتی، بلبلاتی، چیختی اور چلاتی قوم کے درد کی دوا کی ہے؟؟کیا اپوزیشن کسی بھی قسم کے ایسے بل ایکٹ یا قانون کے سامنے دیوار بنی ہے جو مفاد عامہ کے خلاف ہو؟کیا اپوزیشن نے کسی بجٹ کو پاس ہونے سے روک لیا ہو کہ جس میں عوام پر سینکڑوں ارب کے بھاری ٹیکسز لگائے جارہے ہوں؟

بدقسمتی سے ان سارے سوالوں کے جواب نفی میں ہیں کیونکہ اپوزیشن نے اس ساری مدت میں حکومت کی بھرپور سہولت کاری کی خدمت سرانجام دی ہے. اگر پھر بھی اس حکومت کی ناکامی کی وجہ یہ پارلیمانی نظام ہے تو پھر یہاں دنیا جہاں کا بھلے سے بھلا نظام بھی لے آئیں وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

کیا صدارتی نظام لے آنے سے چینی 120 روپے کلو سے 50 روپے کلو ہوجائے گی؟کیا صدارتی نظام سے پیٹرول 60 روپے لیٹر ملے گا؟کیا صدارتی نظام سے ڈالر کی قیمت گر جائے گی اور روپیہ اس سے اوپر آجائے گا؟کیا صدارتی نظام خودکار نظام ہوگا کہ جس سے تمام نالائقیوں اور نا اہلیوں پر پردہ پڑ جائے گا.حکومت کو کچھ بھی نہیں کرنا پڑے گا اور صدارتی نظام خود بخود ڈلیور کرے گا تو یہ نونہالان انقلاب کی خام خیالی سے زیادہ کچھ بھی نہیں.

پارلیمانی طرز حکومت ہو یا صدارتی طرز حکومت ڈلیور کرنے کے لیے کام حکومت کو ہی کرنا پڑتا ہے۔فیصلہ سازی میں کی جانے والی سنگین غلطیوں کو کوئی بھی نظام حکومت نہیں چھپا سکتا.پارلیمانی یا جمہوری صدارتی طرز حکومت ایک ہی منزل کے دو راستے ہیں لیکن منزل تک جانے کے لیے تگ و دود خود ہی کرنی پڑتی ہے.

یاد رہے صدارتی طرز حکومت سے مراد قطعا وہ والا طرز حکومت نہیں جو ضیاءالحق، یحییٰ خان، ایوب خان اور مشرف کے دور میں آزمایا جا چکا ہے بلکہ میری مراد اس سے جمہوری صدارتی نظام ہے جو امریکہ میں رائج ہے.اگر اس امریکی صدارتی طرز حکومت اور پارلیمانی طرز حکومت کا تقابل کیا جائے تب بھی درحقیقت پارلیمانی نظام زیادہ جمہوری اور موثر ہے بشرطیکہ اس کو اس کی اصلی حالت میں مکمل نافذ کیا جائے. پارلیمانی نظام کی یہ خوبصورتی ہے کہ اس سے ہر علاقے، قوم اور طبقے کو اپنی نمائندگی کا پورا حق مل جاتا یے اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر اس علاقے کے حکومتی نمائندے کو عوام کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے اگر وہ چاہے تو مگر المیہ یہ ہے کہ یہاں سیاسی شعور کو بھی اس قوم سے دور رکھنے کا پورا اہتمام موجود ہے...

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -