"میں نے گاندھی کو کیوں مارا"  قاتل نتھو رام گوڈسے کو معصوم ثابت کرنے کیلئے فلم تیار، ریلیز سے پہلے ہی بھارت میں ہنگامہ برپا

"میں نے گاندھی کو کیوں مارا"  قاتل نتھو رام گوڈسے کو معصوم ثابت کرنے کیلئے فلم ...

  

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آل انڈیا  سینما ورکرز  ایسوسی ایشن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ "میں نے گاندھی کو کیوں مارا" نامی شارٹ فلم پر پابندی عائد کی جائے۔ ایسوسی ایشن نے خط میں وزیر اعظم سے کہا ہے کہ اس فلم پر پابندی اس لیے لگنی چاہیے کیونکہ اس میں مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام گوڈسے کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فلم 30 جنوری کو آن لائن ریلیز کی جائے گی۔ اس میں مہاتما گاندھی کے قاتل نتھو رام  گوڈسے کو دیش بھگت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ اس کا گاندھی جی کو قتل کرنا بالکل ٹھیک تھا۔ ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں گوڈسے کو قاتل اور غدار کہا اور مودی سے درخواست کی کہ گوڈسے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اسے بھارت میں عزت دی جائے۔

فلم میں نتھو رام گوڈسے کا کردار نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رکنِ اسمبلی امول کوہلی نے نبھایا ہے۔ فلم 2017 میں تیار کی گئی تھی تاہم اسے 2022 میں ریلیز کیا جا رہا ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ یہ وہ کانگریس پارٹی نہیں ہے جس نےکئی دہائیوں تک بھارت پر حکومت کی۔ اس وقت بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی اور سابق حکمران جماعت کانگریس کا پورا نام انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) ہے۔ 

مزید :

تفریح -