پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف

پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف
پنجاب کی جیلوں میں ایڈز کے سینکڑوں مریضوں کی موجودگی کا انکشاف

  

 لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب کی جیلوں میں قید ملزمان کا ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ گئی ہے، اس وقت 42 جیلوں میں ایڈز جیسے خطرناک مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 272 ہے۔پنجاب کی تمام جیلوں میں ہیپاٹائٹس بی کے مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 137 جبکہ ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 517 ہے۔اسی طرح شوگر اور دیگر امراض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 460 ہے۔ایڈز کے سب سے زیادہ 68 قیدی سنٹرل جیل اڈیالہ میں قید کاٹ رہے ہیں،سنٹرل جیل گوجرانوالہ میں ایڈز کے مرض میں مبتلا قیدیوں کی تعداد 32 ہے۔دوسری جانب پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو کورونا سے بچاو کےلئے بوسٹرڈوز لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔

آئی جی جیل پنجاب مرزاشاہد سلیم بیگ کی ہدایت پرکوروناخدشات کےپیش نظرتمام جیلوں میں بوسٹرڈوزلگائی جارہی ہے۔پنجاب بھرکی جیلوں میں قیدیوں سمیت محکمہ جیل خانہ جات پنجاب کےملازمین کوبھی بوسٹر ڈوز لگائی جارہی ہے۔30 سال یا اس سے زائدعمر کے قیدی و ملازمین جن کو کورونا ویکسین کی دوسری ڈوزچھ ماہ قبل لگ چکی ہے ، انہیں اب بوسٹر ڈوز لگائی جا رہی ہے۔آئی جی جیل خانہ جات نے بوسٹر ڈوز لگوانے کے ساتھ ساتھ این سی او سی کی جاری کردہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -