”جو قلم کار پاکستان کو اپنی شناخت کا حوالہ بنانے سے کتراتے ہیں ان پر اس سر زمین کا رزق، پانی، چھاﺅں اور چاندنی حرام ہے“

”جو قلم کار پاکستان کو اپنی شناخت کا حوالہ بنانے سے کتراتے ہیں ان پر اس سر ...
”جو قلم کار پاکستان کو اپنی شناخت کا حوالہ بنانے سے کتراتے ہیں ان پر اس سر زمین کا رزق، پانی، چھاﺅں اور چاندنی حرام ہے“

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:117

سیاسی موضوعات کے علاوہ صدر مملکت کی چند تقاریر ایسی بھی ہیں جن کے حوالے سے سالک پر بہت تنقیدکی گئی ان میں ”اہل قلم کا نفرنس “ میں کی گئی تقاریر سرفہرست ہیں دوسرے مواقع پر لکھی گئی تقاریر کی نسبت ادبی مواقع پر لکھی گئی تقریر میں یقینا سالک کا کردار نمایاں رہا ہوگا۔ ان تقاریر میں صدر صاحب کا لہجہ بہت سخت تھا مثلاً:

”پہلی بات یہ ہے کہ آپ سب پاکستانی ادیب ہیں اور آج میں اسی حوالے سے آپ سے مخاطب ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قلم کار پاکستان کو اپنی شناخت کا حوالہ بنانے سے کتراتے ہیں ان پر اس سر زمین کا رزق، اس کا پانی، اس کی چھاﺅں اور چاندنی حرام ہے۔“

صدر صاحب کے اس انداز کو ادیبوں نے بہت ناپسند کیا اور اسی نسبت سے سالک کے لیے بھی منفی جذبات کا اظہار ہوا کہ یہ ادیبوں کے بجائے صدر کا ساتھی ہے اور ادیبوں کے خلاف کام کر رہا ہے لیکن کچھ ادیب اس سے مختلف رائے بھی رکھتے ہیں مثلاً امجد اسلام امجد اس کے متعلق کہتے ہیں:

”صدر کی تقریر لکھنا صدیق سالک کی ملازمت کا حصہ تھا ضروری نہیں کہ وہ ان کے دل کی آواز ہو۔ اسے وہ کچھ لکھنا تھا جس کا حکم اسے اس کے باس سے ملتاتھا بلکہ سالک نے تو خوبصورت الفاظ کے ذریعے اس زہر کو کم کرنے کی کوشش کی۔“ 

اعلیٰ سطح پر تقریر لکھوانے والے یقینا اس سے پیدا ہونے والے تاثر سے بھی واقف ہوتے ہیں اس لیے یہ قیاس درست نہیں کہ سالک حکام بالا کی منشاءکے خلاف کوئی مخصوص رویہ اپنا سکتے تھے۔ لیکن ایک تقریر ایسی ہے جس میں دلائل کے طور پر کچھ شعراءادباءکے فن پارے بھی پیش کیے گئے یہ تقریر1984ءمیں پانچویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر کی گئی۔اس تقریر میں صدر مملکت نے جن شعراءکے کلام کے حصے بطور نمونہ پیش کیے ان میں اردو نظم کے ممتاز شاعر اختر حسین جعفری بھی شامل تھے۔جعفری صاحب دل کے مریض تھے وہ ایک سرکاری ملازم بھی تھے۔ اور اس تقریب میں موجود تھے صدر مملکت کی تقریر میں اپنی نظم کا حوالہ سن کر وہ بہت پریشان ہوئے۔بعض افراد کا خیال ہے کہ انھیں یہ تقریر سن کر دل کا دورہ پڑا مثلاً ستار طاہر اپنے مضمون ”اختر حسین جعفری کچھ یادیں کچھ باتیں “ میں لکھتے ہیں:

”اردو کے سب سے اچھے نظم لکھنے والے شاعر کی ایک نظم کا ٹکڑا جنرل صاحب نے دوسرے شاعروں کی تخلیقات کے ساتھ Quoteکیا اور نظم کو جو اس عہد کی بہت خوبصورت سچی اور نمائندہ نظم تھی۔ اس کو غلط معنی پہنائے گئے اور شاعر جو وہاں موجود تھا اس پر دل کا دورہ پڑا .... وہ شاعر جنہیں دل کا دورہ پڑا اختر حسین جعفری تھے۔“ 

اس واقعے کی کسی نے تصدیق تو نہیں کی لیکن بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے کہا کہ ایسی بات سننے میںآئی تھی۔ لیکن اختر حسین جعفری کے قریبی ساتھی اور ممتاز ادبی شخصیت احمد ندیم قاسمی جو اس تقریب میں جعفری صاحب کے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔

اس بارے میں کہتے ہیں:

”جعفری صاحب بہت حساس انسان تھے۔اس تقریب میں اپنی نظم کا حوالہ اور صدر صاحب کے خطاب سے بہت پریشان ہوئے تھے لیکن انھیں دل کا دورہ نہیں پڑا تھا۔“

اس سلسلے میں جعفری صاحب کے فرزند منظر جعفری کا بھی یہی کہنا ہے کہ انھیں دل کا دورہ نہیں پڑاتھا۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -