اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے جسے وہ گزرے دنوں میں جانتا تھا، وہ بہت چپ چپ اور سخت دل لگ رہی تھی

اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے جسے وہ گزرے دنوں میں جانتا تھا، وہ ...
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے جسے وہ گزرے دنوں میں جانتا تھا، وہ بہت چپ چپ اور سخت دل لگ رہی تھی

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:143

” آؤ! “ ماریا نے یورگس سے کہا اور اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔یہ 6X8 کا چھوٹا سا کمرا تھا، جس میں ایک چارپائی اور ایک کرسی پڑی تھی۔ ایک کونے میں ڈریسنگ سٹینڈ تھا اور دروازے کے پیچھے زنانہ ملبوسات ٹنگے ہوئے تھے۔ فرش پر بھی کپڑے بکھرے ہوئے تھے۔ ہر طرف افراتفری کا سماں تھا۔ غازے کے ڈبے، عطروں کی شیشیاں، ہیٹ اور کھانے میں استعمال شدہ پلیٹیں ڈریسر پر پڑی تھیں۔ چپل کا ایک جوڑا، دیواری گھڑی اور وہسکی کی بوتل ایک کرسی پر پڑی تھی۔

ماریا نے کیمونو اور مہین موزوں کے علاوہ کچھ نہیں پہنا ہوا تھا۔ وہ یورگس کے سامنے ہی کپڑے بدلنے لگی۔ اس نے دروازہ بند کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ یورگس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس جگہ پر ہے۔ یورگس نے گھر چھوڑنے کے بعد سے بہت دنیا دیکھی تھی چنانچہ اب اسے کسی بات پر حیرت یا صدمہ نہیں ہوتا تھا۔ پھر بھی اسے ماریا کے پیشے پر دھچکا سا لگا۔ وہ اپنے وطن میں شریف لوگ تھے۔ اسے لگتا تھا کہ بیتے وقتوں کی یادیں اب بھی ماریا کے ذہن میں آتی ہوں گی۔ پھر وہ اپنی بے وقوفی پر ہنسا۔ اس کی کیا اوقات تھی کہ وہ شرافت کے متعلق سوچے !

 ” تم کب سے یہاں رہ رہی ہو ؟ “ اس نے سوال کیا۔

” تقریباً ایک سال سے۔“ ماریا نے سوال کیا۔

” یہاں کیوں آئی تھیں؟ “ 

” مجھے زندہ رہنا تھا، “ اس نے کہا ، ” اور مجھ سے بچوں کی بھوک نہیں دیکھی جاتی تھی۔“ 

وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، پھر پوچھا، ” تم بھی بے روز گار ہو گئی تھیں؟ “

” میں بیمار ہوگئی تھی،“ ماریا نے جواب دیا، ” میرے پاس پیسے بھی نہیں تھے، پھر سٹینس مر گیا۔۔۔ “

” سٹینس مر گیا۔۔۔ !“

”ہاں۔“ ماریا نے جواب دیا، ” میں بھول گئی، تمھیں تو اس کا پتا ہی نہیں ہوگا۔“

” کیسے مرا وہ ؟ “

” چوہوں نے اس کی جان لے لی۔“ ماریا نے بتایا۔

یورگس کا مونھ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ ” چوہوں نے جان لے لی ! “

” ہاں۔ “ وہ جھک کر اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہی تھی۔” وہ ایک تیل کے کارخانے میں کام کرتا تھا۔ وہاں لوگوں نے اسے اپنی بئیر ڈھونے کے لیے رکھا ہوا تھا۔وہ ایک لمبے بانس پر بئیر کے ڈبے لٹکاکر لے جاتا تھا اور ان میں سے گھونٹ بھی بھر لیتا تھا۔ ایک دن اس نے کچھ زیادہ ہی چڑھا لی اور کونے میں پڑ کر گہری نیند سو گیا۔رات بھر وہ وہاں بند رہا۔ جب اس کا پتا چلا تب تک چوہے اسے تقریباً سارا کھا چکے تھے۔“

یورگس خوف سے جم گیا تھا۔ پھر ایک لمبی خاموشی چھا گئی۔ 

ایک پولیس والا دروازے پر آیا اور کہا، ” جلدی کرو بھئی !“ 

” ابھی آئی۔“ ماریا نے جلدی جلدی شمیض پہنتے ہوئے جواب دیا۔ 

” باقی لوگ زندہ ہیں ؟ “ یورگس نے ہمت کر کے پوچھا۔

” ہاں۔“ ماریا نے جواب دیا۔

” وہ کہاں ہیں ؟ “ 

” یہاں سے زیادہ دور نہیں رہتے۔ اب سب ٹھیک ہیں۔“ 

” کام کرتے ہیں ؟ “ یورگس نے سوال کیا۔

” الزبیٹا کرتی ہے۔“ ماریا نے کہا، ” جب کر سکے تب، زیادہ تر میں ہی ان کا دھیان رکھتی ہوں۔ میں کافی پیسے کما لیتی ہوں۔“ 

ایک لمحہ یورگس سے کچھ نہیں بولا گیا۔” انھیں پتا ہے کہ تم یہاں رہتی ہو ؟۔۔۔ کیسے رہتی ہو ؟ “ اس نے پوچھا۔

” الزبیٹا کو پتا ہے۔“ ماریا نے جواب دیا ،” میں اس سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔ ہو سکتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی پتا چل گیا ہو۔ اس میں شرم کی کیا بات ہے۔۔۔ ہمارے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا۔“ 

” اورٹموزئیس؟ “ یورگس نے اگلا سوال کیا، ” اسے پتا ہے ؟ “ 

ماریا نے کندھے اچکائے۔ ” مجھے کیا پتا ؟ میں تو ایک سال سے زیادہ سے اس سے ملی ہی نہیں۔ اس کے خون میں بھی زہر پھیل گیا تھا اور اس کی ایک انگلی کاٹ دی گئی تھی۔ وہ وائلن بجانے سے بھی معذور ہوگیا تھا۔ پھر پتا نہیں وہ کہاں چلا گیا۔“ 

ماریا شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر لباس کے بٹن بند کر رہی تھی۔ یورگس بیٹھا اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے جسے وہ گزرے دنوں میں جانتا تھا۔ وہ بہت چپ چپ اور سخت دل لگ رہی تھی۔ یورگس کو دل ہی دل میں اس سے ڈر لگنے لگا۔

ماریا نے اچانک اسے دیکھ کر کہا،” لگتا ہے تم نے کافی برا وقت گزارا ہے ؟ “

” ہاں بہت۔“ یورگس نے جواب دیا، ” میری جیب میں سینٹ بھی نہیں ہے اور نہ میرے پاس کوئی کام ہے۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -