مارکس جب لندن آیا تو اسکی جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی، تھکا ماندہ ، پریشان ، اس ملک کی زبان سے نابلد

مارکس جب لندن آیا تو اسکی جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی، تھکا ماندہ ، پریشان ، ...
مارکس جب لندن آیا تو اسکی جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی، تھکا ماندہ ، پریشان ، اس ملک کی زبان سے نابلد

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:100

یوں مارکس کی زندگی کے باقی ماندہ 34 سال لندن میں بسر ہوئے۔ وہ اب ایک ایسا شخص بن چکا تھا، جس کا نہ تو کوئی وطن تھا اور نہ گھر۔ وہ ٹھیک ہی کہتا تھا :”میں ایک بین الاقوامی شہری ہوں“۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے لمبا عرصہ لندن میں گزارنے کے باوجود کبھی بھی برطانوی شہریت کے حصول کی کوشش نہیں کی۔

اگست 1849ءمیںجب وہ لندن آیا تو اسکی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی۔وہ بیحد تھکا ماندہ اور پریشان تھا اور اس ملک کی زبان سے نابلد۔ 17ستمبر کو جینی بھی 3بچوںکو لے کر یہاں آن پہنچی۔ اس وقت بھی وہ حاملہ تھی۔ مارکس نے لیشٹر اسکوائر میں ایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لے لیا۔ کچھ عرصہ بعد وہ چیلسی کے علاقے میں اینڈرسن اسٹریٹ منتقل ہو گئے۔ یہاں اس نے ایک کمرے کے مکان میں 2 سال نہایت تنگی ترشی سے بسر کئے۔ یہاں سے بھی انہیں کرایہ ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے نکال دیا گیا۔ یہ واقعہ اس چھوٹے سے خاندان کے لیے نہایت ناخوش گوار اور تکلیف دہ تھا۔ اب نئے گھر کی تلاش تھی، مگر کوئی بھی مارکس کی ٹوٹی پھوٹی انگریزی، خستہ لباس اور حلیے کی وجہ سے مکان دینے پر تیار نہیں ہوتاتھا۔ بالآخر انہیں 28 ڈین سٹریٹ، سوہو(Soho)میں ایک دو کمروں کا مکان مل گیا، جو ایک یہودی تاجر کی ملکیت تھا۔ اس گھر میں مارکس خاندان نے 6 سال گزارے اور قدرے سکون کے ساتھ۔ جینی نے لندن پہنچنے کے7 ہفتے بعد ایک بیٹے کو جنم دیا تھا، اس کا نام ہنری ایڈورڈ گائی مارکس (Henry Edward Guy Marx)رکھا گیا۔

سوہو کی رہائش مارکس کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔ یہ علاقہ لندن کے وسط میں تھا۔ آکسفورڈ سٹریٹ،ٹریفالگر اسکوائر، ویسٹ منسٹر ایبے،پکاڈلی سرکس اور برٹش میوزیم نزدیک ہی واقع تھے۔ قریب جوار کا ماحول دوستانہ تھا۔ پڑوس کے لوگ جرمن، اطالوی اور روسی مہاجر تھے، سب ہی غریب اور فاقہ مست۔ یہاں بے شمار کافی ہاؤس تھے، جہاں یہ پناہ گزین مل بیٹھتے اور دنیا بھر کی باتیں کرتے۔ ہائیڈ پارک اور گرین پارک جیسی سیرگاہوں نے مارکس کا دل موہ لیا۔ مگر معاشی تفکرات اور دوسری گھریلو پریشانیوں نے اس خاندان پر برے اثرات مرتب کئے اور اس کا مزاج چڑ چڑا ہو گیا۔ وہ اکثر غصے کی حالت میں مشتعل ہو جاتا اور گھر میں توڑ پھوڑ کرنے لگتا۔ ذہنی اور اعصابی جنگ علیحدہ تھی۔ کثرت ِشراب نوشی نے بھی اپنا کام دکھایا اور بیک وقت کئی بیماریوں میں مبتلا ہو گیا۔ اسے جگر کی تکلیف ہوئی، کھانسی میں اضافہ ہو گیا اور جسم کے مختلف حصوں پر بڑے بڑے پھوڑے نمودار ہو گئے۔ ابھی وہ ان مصائب سے نمٹ رہا تھا کہ اس کے گھر میں موت پہلی بار داخل ہوئی۔ اس کا دوسرا بیٹا ہنری ایڈورڈ نمونیا میں مبتلا ہوا اور نگہداشت کی کمی کے باعث چند دنوں ہی میں چل بسا۔ ان دنوں جینی 6 ماہ کے حمل سے تھی۔ 20مارچ 1851ءکو جینی کے پانچویں بچے اور تیسری بیٹی فرانسسکا کی پیدائش ہوئی۔ مارکس ذرا سا مایوس ہوا۔ کیونکہ وہ اس دفعہ بیٹے کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر یہ مایوسی اس طرح مسرت میں بدل گئی کہ انہی دنوں لین شین نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ یہ مارکس کا ناجائز بیٹا تھا مگر اس بات کو جینی سے چھپایا گیا۔ ایک بار پھر اینگلز مارکس کی مدد کو آیا اور اس نے اعلان کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اس بچے کا نام فریڈی (Freddy) رکھا گیا۔ لین شین کی وفات کے بعد اینگلز نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا۔ اس نے اپنے ایک دوست کی مطلقہ بیوی لوئیس کو بتایا کہ فریڈی کا اصل باپ میں نہیں، بلکہ مارکس تھا۔اس وقت اینگلز کی عمر 70سال تھی اور لوئیس30 سال کی نہایت پرکشش اور خوش مزاج عورت تھی۔ ہر چند کہ اینگلز اس عمر میں عورتوں کے بارے میں اس قدر پرجوش نہیں رہا تھا،مگر لوئیس اس کی موت تک اس کے ساتھ اس کے گھر میں مقیم رہی۔

فریڈی کے بارے میں بھی زیادہ معلومات حاصل نہیں ہیں۔خیر، وہ ایک پڑھا لکھا اور سچا پرولتاری تھا جو تما م عمر معاشی پریشانیوں اور تفکرات میں کھڑا رہا۔ وہ لندن کی ایک انجینئرنگ فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ اس کی بیوی بھی غریب طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور ان کے 4بچے تھے۔ جنوری 1929ءمیں اس کا 76 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ مگر وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ وہ اپنے دونوں ”باپوں“ کے نظریات کو روسی انقلاب کی عملی صورت گری میں ڈھلتے دیکھ کر مرا۔

اب ذرا واپس مارکس کے پانچویں بچے فرانسسکا کی پیدائش کے وقت تک آتے ہیں۔ فرانسسکا کی پیدائش سے پہلے مارکس کے بیٹے ہنری ایڈورڈ کی وفات ہو گئی تھی۔ فرانسسکا بھی بمشکل ایک سال کی ہوئی تھی کہ وہ بھی چل بسی۔ اس وقت مارکس کی غربت کا یہ حال تھا کہ اس کے پاس اس کے کفن دفن کے پیسے بھی نہیں تھے۔ اگلے موسمِ سرما میں جب مارکس شدید کھانسی اور آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا تھا، اس کا بڑا بیٹا ایڈگر بھی انہیں داغ معارفقت دے گیا۔ایڈگر نہایت شریر اور شوخ بچہ تھا اور گھر بھر کی آنکھ کا تارا ۔ یہ تیسرا بچہ تھا، جو انہیں چھوڑ کر گیا۔ ان صدمات نے مارکس اور جینی دونوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ اب گھر میں ہر شخص خوفزدہ اور سہما ہوا تھا۔ مارکس کتنے ہی دنوں تک گم سم بستر پر پڑا رہا اور شدید رنج اور صدمے سے اس کے بال تیزی سے سفید ہونے لگے۔ اب مارکس خود بھی اپنے بالوں سے غافل ہو گیا۔اس کے سر کے بال اور داڑھی مزید بڑھتی گئی۔۔۔بڑھتی چلی گئی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -