ہند میں تہذیب کے فروغ کی داستان

 ہند میں تہذیب کے فروغ کی داستان
 ہند میں تہذیب کے فروغ کی داستان

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:51

ہاں‘ کچھ علاقوں میں یہ صنّاعی دراصل اس توسیع سے پہلے پہنچ چکی تھی۔ دونوں مقامات پر مُردوں کی آخری رسوم میں بڑے بڑے پتھروں کی تابوتی قبریں یادگاریں بنانا شامل تھا جن کی ابتداءکا مسئلہ ابھی طے نہیں ہوا ہے مگر یہاں پر اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔

دونوں جگہ مختلف سامان سے بھرپور لوہے کے زمانے اور اس کے نیچے کی پتھر اور دھات دونوں کے اوزار استعمال کرنے والے دَور یا پتھر کے زمانے کے پچھلے عہد والی تہہ میں‘ جو تیسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن تک پیچھے جاتی ہے‘ بہت زیادہ تمدنی فرق ہے۔ اب سے جزیرہ نمائی خطہ تہذیب کی بڑی رو میں شامل ہوچکا تھا۔ ہاں پہاڑوں اور جنگلوں میں ایسے علاقے موجود تھے جو اس سے کٹے ہوئے تھے۔ ایسے علاقوں میں زمانہءجدید تک قدیمی قبائلی سماج آباد رہے ہیں جو ہند میں قدیم طرزِ زندگی کی ایک مانوس نشانی ہیں۔

لیکن ہند میں تہذیب کے فروغ کی داستان یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی۔ اس بڑی رو کی ایک اور معاون لہر کا بھی ذکر کرنا ہوگا۔ قوی یونانی‘ رومن تجارت کے ذریعے ایک صدی قبل مسیح یا پہلی صدی عیسوی سے یورپ کا نفیس سامان پہنچ رہا تھا اور آپس میں رابطے قائم ہورہے تھے۔ اس سامان کے بدلے میں مقامی ہندوستانی کپڑا‘ کم قیمت نگینے‘ موتی اور ان سب سے زیادہ اہم گرم مسالے اور کبھی کبھی چینی ریشمی کپڑا بھی بھیجا جاتا تھا۔ اس تجارت کے بارے میں معلومات ہمیں یونانی‘ رومن اور ہندوستانی ادب سے حاصل ہوئی ہیں۔ مادی معلومات اتنی وسیع نہیں مگر یقینی ضرور ہیں۔ تجارتی جہاز جنوبی ہند کے دونوں ساحلوں پر پہنچتے تھے۔ کئی ایسے مقامات کے متعلق ثبوت موجود ہیں۔ ان میں سے ایک مقام موزِیرس (غالباً کرینگانور‘ جوکوچین میں ساحل کے اندر کی طر ف کے کٹاﺅوں پر واقع ہے) چوتھی صدی کے ایک نقشے میں جسے Pewtinger table کہا جاتا ہے ”اگسٹس کے مندر“ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ مندر ابھی تک نہیں مل سکا ہے لیکن اس کی دوسری جانب کو رومنڈل ساحل پر ہندی‘ فرانسیسی شہر پانڈی چری (قدیم نام پُڈّوچری یا نیا شہر) کی شناخت بطلیموس (ٹولیمی) اور یونانی تصنیف پَیری پَلس کے نامی شہر سے کی گئی ہے۔

کھدائی کرنے والوں نے قریب ہی اس قدیم شہر کی جگہ تعین کی ہے۔ (اس جگہ کا موجودہ دیہاتی نام ”اریکامیڈو“ ہے)۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ یہاں خالص مقامی نوعیت کے گاﺅں کی جگہ اینٹوں کا بنا خاصا بڑا قصبہ ٹھیک اس وقت وجود میں آیا جب مغربی تجارتی مال بڑی مقدار میں پہنچنے لگا۔ اس میں دوطرفہ دستوں والے شراب کے مٹکے اور ٹسکینی میں ارٹینم میں بنی کھانے کی میز کے شوخ لال رنگ کے برتن بھی شامل تھے۔ ان میں سے کچھ مٹکوں میں ان کے زمین میں سے برآمد کیے جانے کے وقت بھی بیروزے جیسے ایک مادے کی تہہ جمی ہوئی تھی جو یقیناً ان میں بھری گئی شراب کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھی۔ یہ ریشنیا یا بیروزے والی وہی شراب تھی جو اب بھی بحیرہ روم کے یونانی سرے پر سیاحوں کے لیے کشش یا ناپسندیدگی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یورپین تہذیب کے مرکزوں سے ہونے والی اس تجارت کا جو تاثر ہوا اس سے کسی نہ کسی طرح سے اسالیبِ ہند کے ارتقا ءاور زاویہ نگاہ کی وسعت میں مدد ملی‘ جس سے برصغیر کے جنوبی حصے میں شہری زندگی کی ترقی کی رفتار‘ جو کچھ سست سی تھی‘ تیز ہوئی۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -