نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ورکشاپ

نوزائیدہ بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ورکشاپ

  

لاہور(سٹی رپورٹر) جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر اور پبلک ہیلتھ کنسلٹنٹ ڈاکٹر مسعود شیخ نے ”نوزائیدہ بچوں کی سردیوں میں حفاظت“ کے حوالے سے سٹی ہسپتال میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سردی میں پیدا ہونے والے بچوں کو سب سے زیادہ خطرہ کم درجہ حرارت (HYPOTHERMIA) سے ہے۔ اگرکمرہ کا درجہ حرارت مناسب نہ رکھا جائے تو نوزائیدہ بچہ شدید بیمار ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اسکی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر مسعود شیخ نے ورکشاپ میں شریک ماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زچگی سے پہلے نہ صرف بچے کا پنگھوڑا بلکہ اس کمرہ کے درو دیوار اور چھتوں کا درجہ حرارت بھی مناسب ہونا بھی ضروری ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ مجید نے کہا کہ بچے کو پیدائش کے فورا بعد صاف اور گرم کپڑے سے صاف کرنا، اسکے سر اور بدن پر لگی رطوبتوں کو خشک کرنا اور اسکو کاٹن کے گرم کپڑوں میں فورا لپیٹنا ضروری ہے۔ڈاکٹر اسد عباس شاہ، ڈاکٹر رانا رفیق اور ڈاکٹر شہباز نے کہا کہ آجکل نو زائیدہ بچے کو ٹوپی اور اونی جرابوں کا استعمال کیا جائے۔بچے کے جسم پر لگی سفید رنگ کے قدرتی حفاظتی مادے ((VERNIXکو پیرافن سے اتارنا نہیں چاہیے اسلئے کہ یہ اگلے چند روز تک بچے کی حفاظت کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش کے بعد اسکو فورا ماں کے پیٹ پر لٹانا اور  ماں کا دودھ شروع کروانا بچے کی صحت کیلئے اہم ترین ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -