10ہزار سے زائد مقدمات التواء کا شکار ہیں،عمر حیات بھٹی

10ہزار سے زائد مقدمات التواء کا شکار ہیں،عمر حیات بھٹی

  

شیخوپورہ(بیورورپورٹ)ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عمر حیات بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اس وقت ڈسٹرکٹ عدلیہ میں پولیس کے 10ہزار سے زائد مقدمات بروقت چالان جمع نہ ہونے کے باعث التواء کا شکار ہیں جس سے متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے ضلع میں کرائم کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے جس کیلئے ڈسٹرکٹ پیس کمیٹی کی بحالی کیلئے بھی عدلیہ اور انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، محکمہ مال کے افسران کا قبلہ درست کرکے زرعی اراضی کے تنازعات پر ہونے والی قتل و غارت کو روکا جاسکتا ہے۔ ، چادر چاردیواری کے تقدس کو بحا ل رکھنے اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بھی وکلاء اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، بار اور بینچ کے مابین تعلقات کو بہتر بنا کر عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے،۔

 معاشرتی برائیوں اور خرابیوں کو دور کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب شیخوپورہ میں میٹ دی پریس پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، عمر حیات بھٹی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رول آف لاء کی پاسداری وقانون کی سپرمیسی سے ہی عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اس سے عوام کو بھی انصاف کی فراہمی اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں بڑی مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ جھوٹے مقدمات کے اندراج کی حوصلہ شکنی کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں جعلی میڈیکو لیگل کی روک تھام کیلئے بھی وکلاء کی کمیٹی قائم کی جارہی ہے اس سے بھی پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسے عوام کا حقیقی معنوں میں محافظ بنانے میں مدد مل سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ بحالی تحریک میں جو غلطیاں ہوئیں انہیں اب دھرایا نہیں جائے گا وکلاء کا عوام میں امیج بہتر بنا کر ایک پر امن معاشرے کی تشکیل اور انصاف کی بروقت فراہمی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ بار میں سیاست نہیں بلکہ پروفیشنل ازم کو فروغ دے کر وکلاء کو انسانی و اخلاقی روایات کی پاسداری پر مرکوز کیا جائے گا جس کیلئے پیپر ورک شروع کردیا گیا ہے۔ 

مزید :

کامرس -