نگران وزراء اعلیٰ کا تقرر

نگران وزراء اعلیٰ کا تقرر

  

سابق بیورو کریٹ اعظم خان نے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراعلیٰ کا حلف اْٹھا لیا،حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی جس میں گورنر حاجی غلام علی نے اْن سے عہدے کا حلف لیا۔ تقریب میں صوبے کے انتظامی سربراہوں سمیت معروف سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ نگران وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ گئے جہاں اْنہیں پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے مطابق اعظم خان  کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں صاف اور شفاف انتخابات ترجیح ہے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے تاہم صوبائی حکومت الیکشن کمیشن کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ اْنہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں امن و امان کا مسئلہ ہے، کوشش کریں گے کہ امن قائم کریں،  وفاقی حکومت سے این ایف سی، این ایچ پی اورضم اضلاع سمیت صوبے کے بقایاجات کا مسئلہ بھی اُٹھائیں گے اور کوشش کریں گے کہ بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں۔ نگران وزیراعلیٰ کے حلف اْٹھاتے ہی کابینہ اراکین کے معاملے پر مشاورت کا عمل شروع کر دیا گیا اور اطلاعات ہیں کہ اعظم خان کی کابینہ چھ سے آٹھ وزراء پر مشتمل ہو گی۔ گورنر خیبرپختونخوا نے سابق وزیراعلیٰ محمود خان اور اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی میں نگران وزیراعلیٰ کے لیے اعظم خان کے نام پر اتفاق ہونے کے بعد ہفتے کی صبح ان کی تعیناتی کے اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ میٹنگ میں اکرم خان درانی نے اعظم خان کا نام تجویز کیا جسے وزیراعلیٰ محمود خان نے قبول کرلیا اور کہا کہ اعظم خان اْن کے لیے بھی قابل ِ احترام ہیں،اعظم خان کی شخصیت پر کوئی انگلی نہیں اْٹھا سکتا وہ سب کے لیے قابل ِ قبول ہیں۔صد شکر کہ کوئی معاملہ تو بغیر کسی تعطل اور لڑائی جھگڑے کے حل ہوا۔ محمد اعظم خان 80ء کے عشرے میں صوبے کے چیف سیکرٹری اور 2007-08ء میں انجینئر شمس الملک کی نگران صوبائی کابینہ کے رکن رہے۔ وہ وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور سیکرٹری مذہبی امور کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ اْنہوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ خیبرپختونخوا کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا اور سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد کئی نیم سرکاری اداروں کے ساتھ منسلک رہے۔ اعظم خان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے فلڈ کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔خاص بات یہ ہے کہ اْن کا خیبرپختونخوا کے کم و بیش تمام سرکردہ سیاسی گھرانوں سے قریبی تعلق ہے۔ وہ سابق انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس و سابق نگران صوبائی وزیر عباس خان کے بھائی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کے کزن اور ضلع اٹک پنجاب سے مسلم لیگ(ن)کے سابق ایم پی اے خانزادہ تاج کے داماد ہیں جو سابق وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کے چچا ہیں۔ وہ مختلف سنیئربیوروکریٹس اور معروف سماجی شخصیات کے رشتہ داربھی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اُن کے انتخاب پر کسی کو اعتراض نہیں ہوا اور باہمی رضامندی سے یہ معاملہ طے پا گیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے عام انتخابات میں رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں صوبوں میں عام انتخابات، الیکشن 2018ء میں استعمال کردہ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) کے ذریعے ہی کروائے جائیں گے۔ گو کہ الیکشن کمیشن نے آر ایم ایس کو موڈیفائی کرنے کے لیے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ دے رکھا ہیاور اسے موڈیفائی کر کے دو ماہ تک الیکشن کمیشن کے حوالے کر دیا جائے گا تاہم نیا موڈیفائیڈ آر ایم ایس ضمنی انتخاب میں تجربہ کیے بغیر عام انتخابات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لیے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات پرانے آر ایم ایس ہی پر کروائے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات سے پہلے پرانے آر ایم ایس کے صحیح استعمال کے لیے ایک دن کی ریہرسل ایکسرسائز بھی کرنا ہے جس کے لیے ملازمین کی ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے عام انتخابات کی ابتدائی تیاریوں کے لیے الیکشن کمیشن کو 18 ارب روپے کی رقم ادا کر دی ہے جس میں سے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پہلے عام انتخابات پر 47 ارب کے اخراجات کا تخمینہ بھجوایا تھا لیکن اب دو  اسمبلیوں کے پہلے ہونے والے انتخابات کی وجہ سے کل اخراجات کا تخمینہ 57 ارب سے زائد ہے،یوں ایک محتاط اندازے کے مطابق دو مختلف اوقات میں انتخابات کرانے پر10ارب کے اضافی اخراجات ہوں گے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی اخراجات سے متعلق نیا تخمینہ بھی وفاقی حکومت کو جلد بھجوا دے گا۔ اہل ِ سیاست کے اختلافات، جھگڑوں، ضد اور اناء کی قیمت عوام کو بھرنی پڑے گی،اِن انتخابات کے لئے 10 ارب روپے کی خطیر اضافی رقم ادا کرنا پڑے گی۔

خیبرپختونخواہمیں تو سیاسی جماعتوں نے مل بیٹھ کر وزیراعلیٰ کا انتخاب کر لیا، لیکن پنجاب جہاں اسمبلی پہلے تحلیل ہوئی تھی وہاں یہ خواب ہی رہ گیا، وہاں اتفاق رائے نہ ہونے کی بنا پر معاملہ الیکشن کمیشن کے حوالے کرنا پڑا۔اِس پر بھی نامزد شخصیات کو داغدار کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سیاست کی دکان چمکتی رہے۔ پنجاب میں جمہوری اور سیاسی قوتوں کی ناکامی پرصرف اظہارِ افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔خود تو مل بیٹھ کر فیصلہ کر نہیں سکے اور جب آئینی طریقہ کار اپناتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیا گیا تو اِس پر بھی تسلی نہیں ہے اور  عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے جیسے بیان جاری کئے جا رہے ہیں۔آخر یہ کیا رویہ ہے، کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کیا جانا چاہئے، نہ کہ مسئلے کو مزید اُلجھا دینا چاہئے، یہ کوئی شغل تو نہیں جسے جاری رہنا چاہئے یہ توریاست کے انتہائی سنجیدہ معاملات ہیں۔بہر حال وزرائے اعلیٰ کے بعد دونوں صوبوں میں نگران کابینہ کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہو گا، کوشش کی جانی چاہئے کہ اچھی شہرت رکھنے والے با صلاحیت اور اہل لوگوں کا انتخاب کیا جائے اور اِن کی شخصیات کو متنازعہ بنانے سے بھی گریز کیا چانا چاہئے تاکہ مزید مسائل پیدا نہ ہوں اور شفاف انتخابات کی راہ ہموار ہوسکے۔ نگران حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے اور مقررہ مدت میں اپنی آئینی فرائض کو دیانت داری کے ساتھ سر انجام دے۔گو کہ موجودہ سیاسی ماحول میں اور سیاسی جماعتوں کے رویے کو دیکھتے ہوئے امکان تو کم ہی ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کر لیں پھر بھی ہو سکتا ہے یہ انتخابات کوئی نئی تاریخ رقم کر جائیں، کسی نئی روایت کی داغ بیل ڈال دیں، آخر اُمید ہی پر یہ دنیا قائم ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -