موجودہ انتشار اور مستقبل کا سیاسی نقشہ 

 موجودہ انتشار اور مستقبل کا سیاسی نقشہ 
 موجودہ انتشار اور مستقبل کا سیاسی نقشہ 

  

 یہ سوال ہر کوئی پوچھتا ہے کہ مستقبل کا سیاسی نقشہ کیا ہو گا؟ اِس سوال کے پیچھے یہ خدشہ موجود ہے کہ عمران خان کیا آنے والے انتخابات کے نتائج کو تسلیم کریں گے؟ کیا انتخابات سے سیاسی گرد بیٹھ جائے گی؟ ابھی کل ہی اُنہوں نے کہا ہے کہ جنرل باجوہ کے بعد بھی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نہیں ہوئی۔وہ نجانے اسٹیبلشمنٹ کو کس طرح نیوٹرل دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا اُن کا مقصد یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنا وزن اُن کے پلڑے میں ڈال دے تو نیوٹرل ہو گی؟ اُنہوں نے کراچی کے نتائج کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسے الیکشن ہی کرانے ہیں تو اُن کا کوئی فائدہ نہیں تو فائدہ کن الیکشنوں کا ہو گا؟ کیا صرف اُن کا جن کے نتائج پی ٹی آئی کے حق میں نکلیں گے۔اُنہوں نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے لئے اپوزیشن کے دیئے گئے نام بھی مسترد کر دیئے ہیں اور اُنہیں فرنٹ مین قرار دیا ہے۔ گویا وہ ہر چیز کو مسترد کر رہے ہیں تو پھر بات آگے کیسے بڑھے گی؟اُن کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنا پلان پہلے دے دیتے ہیں اور فیصلہ بعد میں کرتے ہیں جس سے اُن کی چالیں اُلٹی پڑ جاتی ہیں۔ایسا دو واقعات میں ہو چکا ہے۔۔۔پہلے جب اُنہوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں توڑنے کی بات کی تو ایک لمبی تاریخ دے دی جس کے بعد معاملہ عدالتوں تک گیا اور ایک طویل لڑائی کے بعد یہ نوبت آئی کہ وہ اسمبلیاں توڑ سکیں۔

پھر اُنہوں نے قومی اسمبلی میں واپس جانے یا نہ آنے والے معاملے کو اتنا طول دیا کہ بالآخر یہ معاملہ اُن کے ہاتھوں سے نکل گیا، سپیکر قومی اسمبلی نے لگ بھگ 70 استعفے منظور کر کے اُنہیں بے بس کر دیا۔ یہ ساری باتیں تو سامنے کی ہیں اور خود اُن کے فیصلوں کا نتیجہ ہیں،اب اگر وہ اُنہیں اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں ڈالتے ہیں تو یہ اُن کی مرضی ہے وگرنہ ایسا ہے نہیں، جب تک وہ بہتر چال نہیں چلیں گے فیصلے اُن کے حق میں کیسے آئیں گے؟

اِس وقت جو سب سے بڑا بحران ہے وہ اعتماد کا فقدان ہے؟ کسی کو کسی پر اعتماد نہیں اور ہر ایک دوسرے کے اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کو عمران خان نے سب سے زیادہ متنازعہ بنا دیا ہے اُس پر مسلسل تنقید جاری ہے، ابھی تو انتخابات کا اعلان ہوا نہیں،اُس کے بعد جو ہا ہا کار مچے گی  اورانتشار جنم لے گا،وہ علیحدہ ہے۔ اب دو صوبائی اسمبلیوں اورقومی اسمبلی کی 70 نشستوں کے انتخابات سر پر کھڑے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اِن انتخابات کو قابل قبول اور قابل بھروسہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟اِس کے لئے انتخابی اصلاحات ضروری ہیں اور الیکشن کمیشن کس طریقے سے انتخابات کرانا چاہتا ہے،اِس پر بھی سنجیدہ بات ہونی چاہئے، جب سب کچھ افہام و تفہیم سے طے ہو جائے گا تو شاید انتخابات بھی کسی تنازعے کے بغیر ہو جائیں اور اُن کے نتائج بھی تسلیم کر لئے جائیں۔ فی الحال تو موجودہ حالات میں انتخابات بھی ایک کارِ بیکار ہی نظر آتے ہیں کیونکہ عمران خان مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ انجینئرنگ کے ذریعے مرتب کئے گئے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اِس کا مطلب واضح ہے کہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر تحریک انصاف نہ جیتی تو انتخابی نتائج متنازعہ ہوں گے۔

یہ بھی درست ہے کہ خود حکومت کی طرف سے کوئی ایسا عمل نظر نہیں آ رہا جو معاملات کو سلجھانے کی طرف اُٹھ رہا ہو،ایسے اقدامات جاری ہیں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں مثلاً اِس کی کیا ضرورت تھی کہ جب عمران خان نے قومی اسمبلی میں واپس جانے کا کہا تو سپیکر قومی اسمبلی نے چند گھنٹوں میں استعفے منظور کر لئے اور الیکشن کمیشن نے بھی ڈی نوٹیفائی کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ اگر تحریک انصاف اسمبلی میں واپس آ جاتی تو مفاہمت کا ایک دروازہ کھل جاتا۔ بطور بڑی جماعت یہ اُس کا حق تھا کہ اُسے قائد حزبِ اختلاف اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدے دیئے جاتے۔ یہ عہدے دے دیئے جاتے تو ایک مقابلے اور جمہوری عمل کا آغاز ہو جاتا پھر الیکشن اصلاحات پر بھی بات ہوتی اور دونوں طرف کے تحفظات بھی دور ہوتے۔ ایسا نہیں ہو سکا اور انتشار مزید بڑھ گیا۔ اب اگر حکومت یہ کوشش کرتی ہے کہ کسی طرح انتخابات کو لٹکایا جائے اور ضمنی انتخابات نیز صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو اتنا طول دیا جائے کہ عام انتخابات قریب آ جائیں تو یہ بات بذات خود ایک نئی محاذ آرائی کو جنم دے گی۔ اِس میں غیر آئینی عمل تو ہوگا ہی تاہم خود الیکشن کمیشن مزید متنازعہ ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کو جس طرح حکومتی وزراء نے تمسخرانہ انداز میں اپنی فتح قرار دیا ہے وہ سیاسی نابالغ پن کی ایک مثال ہے۔اِس وقت خود حکومت کے لئے بھی ضرورت اِس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو تاکہ اُسے اقتصادی سطح پر جو چیلنج درپیش ہیں اُن سے عہدہ برآ ہوا جا سکے۔ سیاسی بے یقینی موجود رہی تو آپ کچھ بھی کر لیں، چاہے آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرا لیں، معیشت میں استحکام نہیں آئے گا، وہ اِسی طرح ڈگمگاتی رہے گی۔ 

عمران خان تو ابھی سے کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا گیا تو ملک میں مزید مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ ظاہر ہے اِس پر وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اپنے سیاسی بیانئے کو آگے بڑھائیں گے۔اگر تحریک انصاف اسمبلی میں آ جاتی تو حکومت اِس حوالے سے ایک قرار داد پیش کر سکتی تھی کہ اگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا تو ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا دوسرا راستہ کیا ہے؟ یوں کم از کم بحث کا ایک دروازہ کھلتا اور یہ تاثر ختم ہوتا کہ حکومت تن تنہاء فیصلے کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں صرف انتخابات برائے انتخابات مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ نئے مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ انتخابات کو شفاف اور ہر فریق کے لئے قابل ِ قبول بنانا ضروری ہے۔ عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ اِس وقت ملک میں اُن کی مقبولیت ہے اور وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتے ہیں،یہ اُن کی خوش فہمی بھی ہو سکتی ہے، کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں اِس کی نفی بھی ہو چکی ہے تاہم صرف یہ کہہ دینے سے کہ تحریک انصاف اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور عمران خان خوابوں کی جنت میں رہتے ہیں،بات نہیں بنے گی۔اِس لئے جب ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ مستقبل کا سیاسی نقشہ کیا ہو گا؟ تو اُس کا جواب موجودہ حالات کے تناظر میں یہی ہے کہ سیاسی پولرائزیشن ختم نہ کی گئی اور انتخابات سے پہلے کسی ضابطہ اخلاق پر اتفاق نہ کیا گیا تو انتخابات کے بعد بھی یہی انتشار موجود رہے گا۔ ویسے تو ہمارے ہاں ہر الیکشن کے بعد اگلے دن سے دھاندلی کے خلاف تحریک شروع ہو جاتی ہے اور اِس بار تو صورت حال پہلے سے اتنی متنازعہ ہے کہ دونوں طرف سے ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کی ایک ضد موجود ہے، ایسے میں انتخابات کیا تبدیلی لا سکیں گے سوائے انتشار بڑھانے کے؟کاش ہماری سیاسی قوتیں مفادات سے بالا تر ہو کر قومی مفاد کو سامنے رکھ کر سوچیں تاکہ ہم اِس بحران سے نکل سکیں جس نے ہمیں جکڑ رکھا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -