نگران سیٹ اپ، تبادلوں کا ریلہ تیار

نگران سیٹ اپ، تبادلوں کا ریلہ تیار
نگران سیٹ اپ، تبادلوں کا ریلہ تیار

  

پنجاب میں نگران حکومت کے تشکیل پاتے ہی جہاں وزیر اعلی اپنی کیبنٹ تشکیل دیں گے وہاں بڑی سطح کے تبادلوں کے ریلے کا بھی امکان ہے صوبے میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی حکومت کے دوران لگائے گئے متعدد آفیسرز کو تبدیل کردیا جائے گا، چوہدری پرویز الٰہی نگران سیٹ اپ سے قبل آخری لمحات تک آفیسرز کے تبادلوں کے احکامات جاری کرتے رہے۔ اب اپوزیشن ان افسران سمیت دیگر اہم پوسٹوں پر تعینات اہلکاروں کے تبادلے چاہتی ہے اور نگران سیٹ اپ سمیت الیکشن کمیشن کے سامنے بھی یہ مطالبہ رکھا جائے گا تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے، ن لیگ کے حلقوں میں اس حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے جن کے مطابق انتخابات سے قبل اگر مخصوص افسران کے تبادلے نہ ہوئے تو وہ انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں انتظامی عہدوں پر تعینات اعلی ترین افسران پر بھی اپوزیشن کے تحفظات ہیں،سی سی پی اوکی سیٹ اس وقت سب سے زیادہ نشانہ پر ہے اور نگراں سیٹ اپ کے آتے ہی سی سی پی اوکی تبدیلی افواہیں زیر گردش ہیں۔اسی طرح لاہور سمیت پنجاب بھر میں اہم عہدوں پر تعینات آرپی اوز(ڈی آئی جی)، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کی بھی اکھاڑپچھاڑ کا امکان ہے کئی ایک کو تبدیل کرکے دیگر اضلاع میں ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گی،کسی کو کلوز اور کسی کو نئی تعیناتی مل جائے گی،او ایس ڈی ہونیوالے چار ایڈ یشنل آئی جی کو بھی پنجاب میں اہم ذمہ داریاں ملنے کا امکان ہے۔کئی ایسے آفیسرز بھی ہیں جنہیں معلوم ہے کہ انہیں ہر صورت کلوز ہونا ہے انہوں نے دفتر سے اپنے ضروری کا غذات سمیٹنے کے ساتھ کیمپ آفس کا سامان بھی باندھ لیا ہے،توجہ طلب بات یہ ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ آئی جی پولیس پنجاب عامر ذوالفقار خان کو بھی تبدیل کرتے ہیں یا انہیں ہی کام کرنے کا موقع دیا جائے گا،قوی امکان ہے کہ عامر ذوالفقار برقرار رہیں گے کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے قائدین کو ان سے اعتراض نہیں ہے،جب سے آئے ہیں ادارے میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہیں وہ محکمہ پولیس کی اصلاح چاہتے ہیں،اس کے لیے انہوں نے کئی ایک اقدامات بھی کیے ہیں، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ایلیٹ،ایس پی یو،آئی اے بی سمیت دیگر شعبوں میں بہتری اور کچہ کے علاقہ میں آپریشن کے حوالے سے انسپکٹرجنرل پولیس عامرذوالفقار نے جو قدم اٹھایا ہے وہ کافی حوصلہ افزا ہے پولیس ایک ایسا ادارہ جس میں اصلاح کی گنجائش ہر وقت موجود رہتی ہے،ہم جو سیاست یا میڈیا میں بڑی بڑی باتیں اِصلاح کی کرتے ہیں بیشتر فضول کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرے میں دو اداروں کی اِصلاح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک عدالتی نظام اور دوسرا پولیس کا محکمہ۔ عدالتی نظام تو رہنے دیجئے، حساس مسئلہ ہے اِس پہ کچھ کہنا اِتنا آسان نہیں‘ لیکن پولیس کا محکمہ ایسا ہے کہ جس سے عوام کا پالا روزمرہ کی بنیاد پہ پڑتا ہے۔

اِس محکمے کی کارکردگی بہتر ہو جائے تو روزمرہ کے آدھے مسائل ختم نہ بھی ہوں تو اِتنے تکلیف دہ نہیں رہتے۔محکموں کو انسان چلاتے ہیں۔ انسانوں کا چناؤ بہتر ہو تو محکموں کی کارکردگی بھی اسی لحاظ سے بہتر ہو جاتی ہے۔ فوج میں لوگ مریخ سے نہیں آئے ہوتے لیکن بطور ادارہ فوج کی کارکردگی بہتر ہے تو اِس لئے کہ وہاں کا نظام بہتر ہے۔ پولیس میں بھی بہتری آ سکتی ہے اگر اس کا اندرونی نظم و ضبط بہتر طریقے سے چلایا جائے۔ میرا بیک گراؤنڈ ایک دیہاتی آدمی کا ہے۔ اخبار نویس ہونے کے ساتھ ہمارا پولیس سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ کوئی مقدمہ ہو، کوئی تفتیش ہو، کوئی چالان ہو جائے تو پولیس سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اپنا کام تو نہیں ہوتا زیادہ تر لوگوں کا کام ہوتا ہے لیکن ہمارے معاشرے کے حالات ایسے ہیں کہ روزمرہ اور جائز کاموں کیلئے بھی سفارش کی ضرورت پڑتی ہے۔ یعنی صحیح، جائز اور قانونی کام کرانے کیلئے بھی کسی کو کہنا پڑتا ہے۔تجربے کی بنیاد پہ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ ضلع کا بڑا پولیس افسر جسے آج کل ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) کہتے ہیں اگر اچھا ہو تو اس ضلع کی ساری پولیس کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ رشوت اور زیادتی کا ایک دم خاتمہ ہو جاتا ہے لیکن اچھا ڈی پی او ہو تو ماتحتوں کو کچھ ڈر رہتا ہے۔ زیادتی ہو تو شنوائی ہو سکتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اچھا افسر ہو تو اس کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ تھانوں میں ماتحتوں کا چناؤ بھی اچھا ہو۔ ایک اچھے ڈی پی او کا مطلب ہی یہ ہے کہ دستیاب نفری میں سے وہ اچھے ایس ایچ او یعنی سٹیشن ہاؤس آفیسر لگائے۔مثال کے طور پہ ضلع لاہور کے 84تھانے اور کئی ایک چوکیاں ہیں، چوکی کا مطلب سب تھانہ ہے۔ اگر اِن تھانوں اور چوکیوں میں دستیاب نفری میں سے بہتر سے بہتر افسروں کا چناؤ ہو سکے تو سمجھئے کہ ضلع کے آدھے پولیس کے مسائل ختم ہو گئے۔ یہ سادہ سی بات ہے۔ نہ آپ کو انگلینڈ کے پولیس نظام کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے نہ جاپان کے پولیس سسٹم کو پرکھنے کی۔

ہمارا اپنا معاشرہ ہے جس کے اپنے مسائل ہیں۔ یہاں پہ جو نظام ہے وہی چل سکتا ہے۔ لیکن اِسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اِس کی برائیاں مکمل طور پہ نہ بھی ختم ہوسکیں تو اِنہیں کم کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا اور بنیادی قدم بہتر آدمیوں کی سلیکشن ہے۔ پاکستان کے کل اضلاع کی تعداد تقریباً 112ہے۔ ہمارے تمام صوبوں کی پولیس فورس کو ملائیں تو بیشتر ملکوں کی فوج کی تعداد سے بڑی پولیس فورس بنتی ہے۔ صرف پنجاب پولیس کی نفری ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ تقابل کے طور پہ یہ ذہن میں رہے کہ آج کل برطانیہ کی فوج کی تعداد 80 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ آپ کو کہیں اور سے نظام لانے کی ضرورت نہیں۔ اِس پولیس فورس میں سے 112 اچھے ڈی پی اوز چنے جا سکیں تو انتظامی بہتری کے حوالے سے قوم کا آدھا دردِ سر ختم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح انوسٹی گیشن کانظام ہے اتنے ہی انوسٹی گیشن کے آفیسرز لگا لیں اِس کے ساتھ یہ بھی کہتا چلوں کہ 112 اچھے ڈپٹی کمشنرز اور 112 اچھے سیشن جج ملک میں لگ سکیں تو اِس ملک کی شکل بدل جائے۔ اچھا افسر وہ ہوتا ہے جو اپنے کام کو جانے اور سمجھے اور جو لوگوں کی بات سن سکے۔ راشی، بد دیانت اور نالائق افسروں سے خدا کی پناہ۔ ایسے افسروں کی حکمرانی میں ماتحت بھی بے لگام ہو جاتے ہیں۔ رشوت اور بد دیانتی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ ٹاؤٹوں کا راج ہوتا ہے اور عام آدمی کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ یعنی ضلع میں ایک افسر یعنی ڈی پی او کے لگنے یا نہ لگنے سے اِتنا فرق پڑ جاتا ہے۔پولیس کے اچھے رویے سے لوگوں کا اشتعال اور ان کا غم و غصہ قدرے کم ہو جاتا ہے۔ حالات میں بہتری لانا اِتنا مشکل نہیں ہے لیکن کوئی بتانے اور کہنے والا تو ہو۔ صحیح ماحول بنانا حکمرانی کا کام ہے۔ حکمرانی اچھی ہو تو مخدوش حالات میں بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ نگران وزیر اعلی جو خود بھی سینئر صحافی ہیں اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو انہیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -