سحر انصاری پر تاثیر اندازمیں شعر کہتے، جو سننے والوں پ سحر طاری کردیتے ہیں: ڈاکٹر سیف الرحمن 

    سحر انصاری پر تاثیر اندازمیں شعر کہتے، جو سننے والوں پ سحر طاری کردیتے ...

  

      کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا ہے کہ پروفیسر سحر انصاری پر تاثیر انداز میں شعر کہتے ہیں جو سننے والوں پر سحر طاری کردیتے ہیں، پروفیسر سحر انصاری کی شاعری نے کئی نسلوں سے متاثر کیا ہے اور ان کی شمار عظیم شعراء،دانشوروں اور اساتذہ کرام میں ہوتا ہے جس سے نئی نسل کے شعراء رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں، ان کی تحریروں میں تخلیقی جوہر نمایاں ہے، عصر حاضر کے ادب اور ادبی تحریکوں سے مکمل آگاہی کے ساتھ وہ مستقبل میں بننے والے ادبی منظر ناموں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے چاک ادبی فورم اور ڈائمنڈ جوبلی کمیٹی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر اہتمام پروفیسر سحر انصاری کے فن و شخصیت کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر میونسپل کمشنر کے ایم سی شجاعت حسین، ڈائمنڈ جوبلی کمیٹی کے ایم سی کے کنوینئر علی حسن ساجد، صائمہ نفیس،ڈاکٹر سید جعفر احمد، پروفیسر یاسمین سلطانہ، پروفیسر نسیم انجم، ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، ڈاکٹر ارشد رضوی رحمان نشاط، جاوید منظراور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ پروفیسر سحر انصاری نے اپنی پوری زندگی زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ میں صرف کردی اور آج بھی ان کا یہ شاندار سفر جاری ہے، ان کی نثر و شاعری سے علم میں بے انتہا اضافہ ہوتا ہے، پروفیسر سحر انصاری ایک کثیر الجہت شخصیت ہیں جنہوں نے بطور شاعر اپنی منفرد شناخت بنانے کے ساتھ ساتھ مضمون نگاری، تنقید نگاری اور تراجم کے شعبے میں بھی اپنے لئے ایک الگ راستے کا چناؤ کیا اور ہر جگہ خود کو منوانے میں کامیاب رہے، انہو ں نے مشرقی اور مغربی ادب کا بھرپور مطالعہ کیا اور اس کا ثبوت ان کی شاعری اور تحریروں میں پائی جانے والی گہرائی اور بصیرت ہے، پروفیسر سحر انصاری نے 1974 ء میں کراچی یونیورسٹی سے وابستہ ہو کر شعبہ اردو میں تدریس کے فرائض انجام دیئے،1998 سے 2000 تک اردو ڈاکشنری بورڈ کے مدیر اعلیٰ و سیکریٹری رہے، انہوں نے ملکی اور غیر ملکی مشاعروں میں نہ صرف پاکستان کی نمائندگی کی بلکہ پاکستان کا پرچم بلند کیا، 1976 میں ان کا پہلی شعری مجموعہ ”نمود“ شائع ہوا جسے زبردست پذیرائی ملی، حکومت پاکستان نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تغمہ حسن کارکردگی اور تغمہ امتیاز عطا کیا، انہوں نے کہا کہ میں توقع رکھتا ہوں کہ کراچی کی ایسی ہی علم و ادبی شخصیات، عظیم شعراء اور ادیبوں کی گرانقدر خدمات کے حوالے سے اس قسم کی تقریبات کا انعقاد ہوتا رہے اور ہمیں اپنے عہد کے عظیم اور نامور شاعروں اور ادیبوں کو ان کی زندگی میں ہی خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ملے گا، اس موقع پر  ایڈمنسٹریٹر کراچی ڈاکٹر سید سیف الرحمن، میونسپل کمشنر کے ایم سی شجا عت حسین، پروفیسر سحر انصاری،صائمہ نفیس،یاسمین یاس نے کیک کاٹا اور انہیں تحائف پیش کئے، بعدازاں کراچی کے ممتاز شعراء نے پروفیسر سحر انصاری کا کلام پیش کیا اور مختلف ادیبوں نے پروفیسر سحر انصاری کی فن و شخصیت کے حوالے سے تحقیقی اور تنقیدی مضامین پیش کئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -