پاکستان میں کم سن بچوں کی شرح اموات زیادہ، ماہرین

  پاکستان میں کم سن بچوں کی شرح اموات زیادہ، ماہرین

  

ملتان(وقائع نگار)پاکستان میں کم سن بچوں کی شرح اموات بدستور تشویش ناک ہے۔ماہرین کے مطابق ہیضہ، اسہال،ملیریا، ٹایفائیڈ اور سانس کی بیماریاں پاکستان میں چھوٹے بچوں کی زیادہ تر اموات کا باعث بن رہی  ہیں۔اگرچہ دنیا بھر میں کم عمربچوں کی شرح اموات میں کافی حد تک کمی دیکھی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے بیس سالوں میں چھوٹے بچوں کی شرح اموات میں پچاس فی صد کمی واقع ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود جنوبی ایشیا اور پاکستان میں اس حوالے سے خاطر خواہ کامیابی نہیں حاصل ہو سکی ہے۔ جہاں پانچ سال کی عمر سے پہلے فوت(بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

 ہو جانے والے بچے دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے بچوں کا اسی فی صد بتائے جاتے ہیں۔پاکستان میں بچوں کی بیماریوں کی سب سے بڑی علاج گاہ چلڈرن ہسپتال کے ایک ماہر ڈاکٹر نے بتایا کہ پاکستان میں چھوٹے بچوں کی شرح اموات کے حوالے سینمایاں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔  ہر ایک ہزار پاکستانی بچوں میں سے ستر سے پچھتر بچے پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں۔خوراک کی کمی بھی بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے صفائی اور صحت عامہ کی سہولتوں کا فقدان، تعلیم اورآٓگاہی کا نہ ہونا، پسماندہ علاقوں میں غریب لوگوں کا علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہ رکھنا اور نومولود بچوں کی بیماریوں کا نیم حکیموں سیعلاج کروانے کا رجحان پاکستان میں چھوٹے بچوں کی زیادہ شرح اموات کی بڑی وجوھات ہیں۔ماہرین کے  مطابق بچے کی ولادت سے پہلے زچہ اور بچہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لیے مناسب معائنوں کا ہونا، ماں کے لیے ویکسینیشن اور مناسب غذا اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی ضروری ہے،نومولود بچے کو ماں کا دودھ چھہ ماہ تک پلانا چاہیے اور اسے آلودہ پانی کی ملاوٹ والا ناقص دودھ نہیں دیا جا نا چاہیے کیونکہ یہ بچے کا وزن کم رہ جانے کا سبب بن سکتا ہے اور اس کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔ اور یوں بچہ بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت چھوٹے بچوں میں پیٹ کی خرابی اور سانس کی بیماریاں بھی بہت عام ہیں۔"یہاں بعض گھروں میں آٹھ آٹھ لوگ ایک کمرے میں نوزائیدہ بچوں کے ساتھ ہی رہتے ہیں، پھر نئے بچے کو ہر آنے والے مہمان کی طرف سے چوم چوم کر پیار کرنے کا بھی رواج ہے۔ ان کے جراثیم بھی بچوں تک منتقل ہوتے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -