ہمارے پاس 2.5 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں، سعودی عرب

ہمارے پاس 2.5 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں، سعودی عرب
ہمارے پاس 2.5 ٹریلین ڈالر کے معدنی ذخائر ہیں، سعودی عرب
سورس: Representational Image

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جو اسے دنیا میں نایاب اور اہم معدنیات کی دوڑ میں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا سمیت کئی ممالک چین پر معدنی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سی این این کے مطابق اہم اور نایاب معدنیات جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، مصنوعی ذہانت اور جدید فوجی نظام کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جبکہ ان کی پیداوار پر اس وقت چین کا غلبہ ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق چین دنیا کی 90 فیصد سے زائد ریفائنڈ ریئر ارتھ اور 60 فیصد سے زیادہ کان کنی کی پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے۔

 سعودی عرب کے مطابق اس کے معدنی ذخائر میں سونا، زنک، تانبا، لیتھیم اور نایاب عناصر جیسے ڈسپروسیئم، ٹربیئم، نیوڈیئم اور پراسیوڈیئم شامل ہیں، جو الیکٹرک گاڑیوں، ونڈ ٹربائنز اور ہائی اسپیڈ کمپیوٹنگ میں استعمال ہوتے ہیں۔

ایس اینڈ پی گلوبل کے مطابق سعودی عرب نے 2021 سے 2025 کے درمیان معدنیات کی تلاش کے بجٹ میں 595 فیصد اضافہ کیا، جبکہ ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو نئی کان کنی کے لائسنس بھی تیزی سے دیے جا رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کان کنی اور ریفائننگ ایک طویل المدتی عمل ہے اور بعض ممالک میں مکمل منصوبے کو عملی شکل دینے میں 20 سے 29 سال تک لگ سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں سرکاری کمپنی معدن نے اگلے 10 برسوں میں دھاتوں اور معدنیات کے شعبے میں 110 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس میں بین الاقوامی شراکت داری اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔ یہ سرمایہ کاری سعودی وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد معیشت کو متنوع بنانا اور معدنیات کو ایک کلیدی شعبہ بنانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی مضبوط توانائی انفراسٹرکچر کی بدولت خطے میں معدنیات کی ریفائننگ کا مرکز بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر افریقی اور وسطی ایشیائی ممالک سے حاصل ہونے والی معدنیات کے لیے۔ اسی وجہ سے امریکا نے بھی سعودی عرب کے ساتھ معدنی تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

گزشتہ برس چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیوں کے بعد امریکا نے متبادل سپلائی چین کی تلاش تیز کر دی تھی۔ نومبر میں سعودی عرب نے امریکا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں معدنی شعبے میں دوطرفہ تعاون بھی شامل تھا۔ اس کے تحت امریکی کمپنی ایم پی میٹیریلز، سعودی معدن اور امریکی محکمہ دفاع کے اشتراک سے سعودی عرب میں ایک نئی ریفائنری قائم کی جائے گی، جس کی 49 فیصد ملکیت ایم پی میٹیریلز اور امریکی محکمہ دفاع کے پاس ہوگی۔

مزید :

بزنس -عرب دنیا -