محاذآرائی اور اس کے مضمرات

محاذآرائی اور اس کے مضمرات
محاذآرائی اور اس کے مضمرات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app




سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر ِ اعظم راجہ پرویز اشرف کو صدر آصف زرداری کے خلاف بدعنوانی کے کیس کھولنے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھنے کا تازہ ترین حکم ملک میں سیاسی اور آئینی محاذآرائی کا ایک اور میدان سجانے کے مترادف ہے۔ سیاسی حلقوں میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ عدالت ِ عالیہ نئے بنائے گئے توہین ِ عدالت کے قانون کے عملی حصے، جس کے تحت وزیر اعظم کو توہین ِ عدالت کیس میں استثنا حاصل ہے، کو غیر آئینی قرار دےتے ہوئے نئے وزیر ِ اعظم کے خلاف کارروائی کا آغاز کرے گی.... تاہم ، اگر سپریم کورٹ کے اب تک کئے گئے جارحانہ اقدامات کو مدِ نظر رکھیں تو لگتا ہے کہ عدالت ایک مرتبہ پھر وزیر ِ اعظم کے خلاف ”راست اقدام“ اٹھائے گی۔
 ایک منتخب وفاقی حکومت اور اعلیٰ عدلیہ ، جو کہ ایک غیر منتخب ادارہ ہے ، کے درمیان محاذآرائی اب کو ئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس نے ملک میں جاری سیاسی محاذآرائی میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ جمہوری اور سیاسی عمل کا مستقبل مزید غیر یقینی کیفیت کا شکا ر ہو گیا ہے۔ اب چاہے کو ئی شخص سپریم کورٹ کی ضرورت سے زیادہ فعالیت کی حمایت کرے یا اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے، اس کا بیان سیاسی پیرائے میں ہی نظر آتا ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی گفتگو 2009 ءسے جاری عدالتی فعالیت کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیںہوتی۔ ماضی میں منتخب سول اداروںکو دفاعی اداروںکی طرف سے دباﺅ کا سامنا تھا، مگر اب اس ”کارِ خیر “ میں عدلیہ بھی شامل ہو گئی ہے۔
عدالت کی طرف سے وفاقی حکومت کو مسلسل ہدف بنائے رکھنے کے عمل نے ملک میں سیاسی طور پر متحرک گروہوں کو اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے سیاسی عمل میں مداخلت پر تقسیم کردیا ہے۔ اگرچہ دونوںگروہ جمہوری اصولوںکی پاسداری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کی حمایت یا اختلاف کا محرک صرف وقتی سیاسی مفاد ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پا کستان تحریک ِ انصاف اور جماعت ِ اسلامی سپریم کورٹ کے حامی بن کر اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اب چونکہ یہ جماعتیں پارلیمنٹ کے ذریعے موجودہ حکومت کو نہیں ہٹا سکتیں، کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ ووٹ نہیں ہیں، اس لئے یہ دفاعی اداروں اور اعلیٰ عدلیہ سے امید لگائے ہوئے ہیں ۔ وکلاءبرادری بھی اس معاملے پر کم بیش سیاسی بنیادوں پر تقسیم ہے۔
پی پی پی اور اس کے اتحادی سپریم کورٹ کی فعالیت پر تنقید کرتے ہیں، کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس کا نشانہ صرف وفاقی حکومت ہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کررہی ہے اور اس کی کارروائیوںکے نتیجے میں پارلیمنٹ اور سول حکومت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین وفاقی حکومت اور عدلیہ کی محاذآرائی کی وجہ سے پریشان ہیں، کیونکہ اس سے ان دونوں اداروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ چونکہ سپریم کورٹ نے بہت سے سیاسی معاملات میں ہاتھ ڈال رکھا ہے، اس لئے یہ محترم ادارہ بھی سیاسی تنازعات کی زد میں آگیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے منسوب کردہ بیان نے، جس میں اُنہوںنے پارلیمنٹ کی بالا دستی پر سوال اٹھایا ہے، سیاسی حلقوں کوبے چین کردیا ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ابھی عدالت کی طرف سے منتخب حکومت اور سیاسی عمل پر سے دباﺅ کم ہونے کا کوئی امکان نہیںہے۔

 ایسے تنازعات کی وجہ سے حکومت اور اپوزیشن کی توجہ عوام کے اصل مسائل، جو ریاست اور معاشرے کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں، سے ہٹ چکی ہے۔ یہ مسائل مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے ،اگر حکومت مسلسل اپنے بقا کی جنگ میں ہی مصروف رہی۔ اگر ہم سیاسی جماعتوںکی طرف سے عدالتوں میں اٹھائے گئے معاملات پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ ان کا عام آدمی کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کسی سیاسی قوت ، چاہے وہ حکومت میںہو یا اپوزیشن میں، کے پاس دگر گوں معیشت، لوڈ شیڈنگ، غربت، بلوچستان اور کراچی میں بڑھتا ہوا تشدد ، مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی جیسے مسائل پر توجہ دینے کے لئے وقت نہیںہے۔ آج ان کی توجہ کا مرکز عدلیہ اور وفاقی حکومت کی حمایت یا مخالفت ہے۔ موجودہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ اگر سپریم کورٹ نے اعلان کر دیا کہ نیا بنایا جانے والا توہین ِ عدالت کا قانون مکمل طور پر یا جزوی طورپر غیر آئینی ہے،کیونکہ اس کے بعد عدالت نئے وزیر ِ اعظم پر بھی توہین ِ عدالت لگادے گی۔ اگر ایک اور وزیر ِ اعظم کو منصب سے ہٹایا جاتا ہے یا اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے....(جس کے امکانات بن رہے ہیں )تو اس سے بہت بڑا سیاسی بحران پیدا ہوجائے گا۔
 حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس ایک منتخب وزیر ِ اعظم کو براہ راست منصب سے ہٹانے کا اختیار نہیںہوتا، اس لئے یہ دفاعی اداروںکی کھلی یا پوشیدہ حمایت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتی ہے۔ اب اگر ایک مرتبہ پھر ایسا ہوتا ہے تو پی پی پی غالباً اپنے اتحادیوںکی مدد سے تیسرا وزیر ِ اعظم بھی منتخب کر لے گی۔ پھر کیا ہوگا ؟ تیسرے وزیر ِ اعظم کے ساتھ بھی یہی محاذآرائی شروع ہوجائے گی۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ پی پی پی مارچ 2013 ءتک (نئے انتخابات تک) اسی پالیسی پر گامزن رہے گی؟تاہم ایسا کرتے ہوئے انتظامی اور مالی مسائل اتنے گھمبیر ہوجائیں گے کہ اس حکومت کے لئے 2013 ءتک وقت گزارنا مشکل ہوجائے گا۔ معاشی انحطاط اور داخلی افراتفری کے ہوتے ہوئے سیاسی نظام بریک ڈاﺅن کر جائے گا۔
بہتر ہے کہ سپریم کورٹ آصف علی زرداری کے خلاف کیس کھولنے کے لئے سوئس حکام کو خودخط لکھ دے۔ اس صورت میں اس کی توجہ منتخب حکومت سے ہٹ جائے گی اور حکومت اور اپوزیشن کو وقت مل جائے گا کہ وہ مل بیٹھ کر سیاسی اور سماجی معاملات پر افہام و تفہیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل حل کرنے کی کوئی راہ نکالیں۔ ایک اور ”حل “ یہ ہے کہ عدلیہ اور فوجی قیادت مل کر وفاقی حکومت کو ہٹا دیں اور سیاسی جماعتوںکی باہمی مشاورت سے ماہرین پر مبنی حکومت ایک مخصوص مدت کے لئے قائم کر دی جائے۔ اگر سیاسی جماعتیں اس پر راضی ہوجاتی ہیں تو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک نگران سیٹ اپ قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم اگر ایساسیٹ اپ سیاسی حماعتوںکی مرضی کے خلاف قائم کیا جاتا ہے تو پھر یہ آئین کے دائرہ کار سے ماورا¿ ہوگا ۔ اس سے پہلے سے ہی بحران زدہ معاشرے میں نئے مسائل سر اٹھائیں گے اور سماجی ڈھانچے کے لئے سنگین خطرہ ثابت ہوںگے۔
تیسر ا حل یہ ہے کہ وفاقی حکومت خود ہی نومبر یا دسمبر میں عام انتخابات کا اعلان کردے۔ موجودہ بحران سے نمٹنے کا یہ سب سے زیادہ جمہوری حل ہو گا۔ نئی حکومت تازہ مینڈیٹ کے ساتھ ان مسائل سے نمٹنے کی نئی پالیسی بنائے گی، تاہم تازہ انتخابات کی طرف جانے سے پہلے ملک کی دونوں بڑی جماعتوں (پی پی پی اور مسلم لیگ ن ) کو نگران حکومت پر اتفاق ظاہر کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ سیاسی رہنما بدعنوان ہوں اور ان کی انتظامی صلاحیتیں بھی ناقص ہوں، مگر ایک تنوع کے شکار معاشرے میں جمہوری نظام سیاسی رہنماﺅں اور سیاسی جماعتوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ دفاعی ادارے اور عدلیہ سیاسی حکومت کی بساط لپیٹ دیں، مگر ایک بات یاد رہے کہ پاکستان جیسے ایک پیچیدہ ملک میں معاملات محض انتظامی یا عدالتی احکامات سے ہی نہیں چل سکتے ہیں۔
کالم نگار، معروف سیاسی مبصر اور پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر امریطس اور بین الاقوامی شہرت کے ماہر تعلیم ہیں۔٭

مزید :

کالم -