پرناب مکھرجی بھارت کے 13ویں صدر منتخب ‘25جولائی کو حلف اٹھائیں گے

پرناب مکھرجی بھارت کے 13ویں صدر منتخب ‘25جولائی کو حلف اٹھائیں گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


نئی دہلی(اےن اےن آئی)بھارت کے صدارتی انتخابات میں حکمراں جماعت کے امےدوارپرناب مکھرجی نے مےدان مار لےا، پرناب مکھرجی 70فےصدووٹ لےکر بھارت کے تےرھوےں صدرمنتخب ہوگئے ،نئے صدر25جولائی کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائےں گے ،بھارتی مےڈےاکے مطابق صدارتی انتخابات کے حتمی نتیجے کا اعلان اتوار کو دوپہر ساڑھے چاربجے کےاگےا۔بھارت کے صدارتی انتخابات میں حکمراں جماعت کے امےدوارپرناب مکھرجی نے مےدان مار لےا، پرناب مکھرجی 70فےصدووٹ لےکر بھارت کے تےرھوےں صدرمنتخب ہوگئے ،نئے صدر25جولائی کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائےں گے ،صدارتی انتخاب میں سابق وزیر خزانہ پرناب مکھرجی کا مقابلہ لوک سبھا کے سابق سپیکر اور قبائلی رہنما پی اے سانگما سے تھا ۔سانگما کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرِ قیادت اتحاد این ڈی اے کی حمایت حاصل تھی۔ پرناب مکھرجی کو این ڈی اے کی دو اتحادی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل تھی جن میں مہارشٹر کی شیوسینا اور بہار کی جنتا دل یونائیٹڈ شامل تھےں اس کے علاوہ بائیں بازو کی جماعت سی پی ایم بھی ان کی حمایت کی ۔ پرناب مکھرجی کو صدارتی امیدوار بناسنے کے سوال پر وفاقی حکومت میں کانگریس کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس ناراض ہوگئی تھی اور کہا جا رہا تھا کہ وہ حکمراں اتحاد سے الگ ہو سکتی ہے لیکن پارٹی کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نہ چاہتے ہوئے بھی پرناب مکھرجی کی حمایت کا اعلان کےاتھا۔واضح رہے کہ بھارت میں صدر جمہوریہ کے لیے ووٹ جمعرات کو ڈالے گئے تھے اور کانگریس پارٹی کی قیادت میں حکمراں یوپی اے اتحاد نے پہلے ہی اپنے امےدوارکی کامےابی کادعوی کرتے ہوئے کہاتھاکہ پرناب مکھرجی کے حق میں ستر فی صد ووٹ ڈالے گئے اور سانگما کے حق میں ووٹ کم پڑے ۔جبکہ صرف سماجوادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو کے ووٹ کو غیر قانونی قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے پہلے سانگما کے حق میں ووٹ ڈالا پھر پرناب مکھرجی کو ووٹ دیا تھا ان کے ووٹ کو اس لیے خارج کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے اسے خفیہ نہیں رکھا۔بھارت کے صدر کے انتخاب میں پارلیمان اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔اس انتخاب میں سات سو چھہتر ارکان پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے چار ہزار ایک سو بیس ارکان نے نئے صدر کا انتخاب کےا۔ان ارکان کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ان کے حلقے کی آبادی کے تناسب سے ہوتا ہے مجموعی طور پر ووٹوں کی تعداد دس لاکھ اٹھانوے ہزار ہے اور جیتنے والے امیدوار کو پانچ لاکھ انچاس ہزار چار سو بیالیس ووٹ درکار تھے ۔

مزید :

صفحہ اول -