پولیو مہم کی مخالفت کے محرکات سیاسی ہیں،2لاکھ بچے خطرہ سے دوچارہوگئے،آصفہ

پولیو مہم کی مخالفت کے محرکات سیاسی ہیں،2لاکھ بچے خطرہ سے دوچارہوگئے،آصفہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کی سفیر اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پولیو خاتمے کی مہم کی مخالفت کے محرکات سیاسی ہیں۔برطانوی ادارے بی بی سی کو انٹر ویو میں آ صفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان میں تین روزہ پولیو مہم قبائلی علاقوں میں کلِک بعض شدت پسند تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکی تھی جس کے نتیجے میں حکام کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ بچے پولیو کے خطرے سے دوچار ہوگئے ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری نے بتاتے ہوئے کہا کہ لوگوں سے رابط کر کے انہیں یہ سمجھانا اہمیت رکھتا ہے کہ پولیو کا مرض ان کے بچوں کو کیسے متاثر کر سکتا ہے اور ان کے بچوں کو پولیو سے بچا کر میں انہیں باور کراتی ہوں کہ ان کا بچہ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ وہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پولیو کے خلاف مہم چلانے میں خاصی متحرک ہیں اور اس کے علاوہ مختلف میٹنگز میں جا کر ملک بھر سے سامنے آنے والے پولیو کے تمام کیسز کا جایزہ لیتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ لوگوں کی مدد کرنے میں ہم کہاں کمزور اور کہاں مضبوط ہوئے ہیں۔جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان نے ڈرون حملے جاری رہنے تک پولیو کے خلاف مہم پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔کلِک صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق اسامہ بن لادن کو مبینہ طور پر پکڑوانے میں مدد کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ذرائع ابلاغ کی جانب سے پولیو مہم سے جوڑنے کی وجہ سے پاکستان میں حالیہ پولیو مہم کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ’میری خواہش تو ہر بچے تک پہنچنے کی ہے چاہے وہ پاکستان میں کہیں بھی رہتا ہو لیکن ایسا کرتے ہوئے میں اپنی مہم کے کارکنوں کی جانیں بھی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔‘ پولیو کے خلاف مہم کی سفیر بننے پر انہوں نے کہا کہ’میرے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ حکومت نے پاکستانی بچوں کی مدد کے لیے مجھے یہ ذمہ داری سونپی ہے، جب میری والدہ نے پولیو کے خلاف پہلی مہم شروع کی تو وہ یہ مثال قائم کرنا چاہتی تھیں کہ تمام پاکستانی بچے ان کے بچوں جیسے ہیںاس لیے انہوں نے پولیو سے بچاو¿ کے قطرے سب سے پہلے مجھے، میرے بھائی اور بہن کو پلائے کیونکہ وہ اس بیماری سے پاکستانی بچوں کو معذور ہوتا نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔

مزید :

صفحہ اول -