پنجاب میں سنگین نوعیت کی وارداتوں میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، آئی جی

پنجاب میں سنگین نوعیت کی وارداتوں میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، آئی جی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(وقائع نگار خصوصی) آئی جی پولیس پنجاب حاجی حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں سنگین نوعیت کی وارداتوں میں بتدریج کمی ہو رہی ہے ۔سوائے چند اہم وارداتوں میں پولیس جلد ہی ان وارداتوں کا سراغ لگا کر ملزموں کو گرفتار کر لے گی، انہوں نے کہا کہ یہ سب پولیس کی کوششوں کی بدولت ہے اور اس کے مطابق اس میں شامل ہے۔وہ گزشتہ روز پریس کا نفرنس کر رہے تھے ۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب ملک خدا بخش اعوان سمیت پنجاب کے دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ حاجی حبیب الرحمان نے کہا کہ پولیس کی دن رات محنت کی وجہ سے اغواءبرائے تاوان‘ قتل اور دوسری وارداتوں کے چار ہزار ملزموں کو گرفتار کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ گینگ ریپ کی وارداتو ںمیں اضافہ ہوا، انہوں نے اخبار نویسوں کے سامنے اعداد و شمار بھی رکھے ۔انہوں نے کہاکہ پٹرولنگ پولیس کا کام ڈی پی کے سپرد کیا گیا ہے مقدمات درج نہ کرنے والوں کےخلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس طرح کا جارحانہ رویہ اختیار کیا جس سے پولیس کو کامیابیاں ملی ہیں، پنجاب پولیس جرائم پیشہ افراد کا تعاقب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی رضاکاروں کو بھی باقاعدہ پولیس کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ ٹریننگ بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10ہزار عدالتی اشتہاری ہیں، انہوں نے کہا کہ لاہور میں بھی جرائم کی وارداتوں میں کمی ہوئی ہے، تاہم 2بینک اور جیولرز شاپ پر ڈکیتیوں کا بھی سراغ لگا لیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ نے پولیس کو شاباش دی ہے انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے اشتہاریوں کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن شروع کیا گیا ہے۔ لاہور میں ایس ایس پی سہیل سکھیرا کی پوسٹنگ پر انہوں نے کہا کہ یہ حکومتی پالیسی ہو سکتی ہے، خانیوال میں سنگ سار کی جانی والی خاتون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس میں ملوث ملزموں کو گرفتار کر لیا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -