سرینگر میں صحافت کے طالب علم کی غیر قانونی گرفتاری

سرینگر میں صحافت کے طالب علم کی غیر قانونی گرفتاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں سرینگر یونیورسٹی کے میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سینٹر( ایم ای آر سی) کے طلبہ نے کہا ہے کہ پولیس نے انکے ایک ساتھی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق طلبہ نے سرینگر کے پریس انکلیو میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پولیس پیزادہ محمد اقبال نامی طالب علم کو فرضی کیس میں پھنسانے کی کوشش کررہی ہے۔ شعبہ میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سینٹرکے ایک طالب علم نے بتایا کہ محمد اقبال کو18جولائی بروز بدھ رام منشی باغ پولیس سٹیشن سے اس وقت ایک فون کال موصول ہوئی جب وہ کلاس روم میں تھا۔ فون کرنے والے نے اسے اسی دن پولیس سٹیشن میں حاضر ہونے کو کہا۔ طالب علم کے مطابق محمد اقبال نے اپنے گھر والوں کو فون کال کے بارے میں آگاہ کیا اور اسی شام اپنے چچا کو ساتھ لیکر پولیس سٹیشن چلا گیا جہاں پولیس نے اسے نظر بند کر دیا جبکہ اسکے چچا کو واپس جانے کو کہا گیا۔ طالب علم نے کہا کہ جمعہ کے روز وہ محمد اقبال کے فیس بک اکاﺅنٹپر بھارت مخالف اورپتھراﺅ کی حمایتمیں تحریر کا اندراج دیکھ کر حیران رہ گئے۔انہوں نے استفسار کیا کہ محمد اقبال کس طرح اپنے فیس بک اکاﺅنٹ کو اپ ڈیٹ کرسکتا ہے جب کہ وہ پولیس حراست میں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پولیس ہی ہے جو اقبال کے فیس بک میں اس طرح کے جملے اپ لوڈ کر رہی ہے تاکہ اس پر مقدمہ بنایا جاسکے۔ طالب علم نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ پولیس انکے ساتھی کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے دھمکی دی کہ اگر اقبال کو پیر تک رہا نہیں کیا گیا تو وہ کلاسوں کے بائیکاٹ کے علاوہ کیمپس کے اندر احتجاج شروع کریں گے۔

مزید :

عالمی منظر -