توہین عدالت قانون کیس ، عدلیہ کے اختیار پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگاسکتی ،نہ ہی کسی کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے : سپریم کورٹ

توہین عدالت قانون کیس ، عدلیہ کے اختیار پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگاسکتی ،نہ ہی ...
توہین عدالت قانون کیس ، عدلیہ کے اختیار پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگاسکتی ،نہ ہی کسی کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے : سپریم کورٹ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے کہاہے کہ عدلیہ کے اختیار پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگاسکتی اور نہ ہی کسی کو یہاں مکمل استثنیٰ حاصل ہے ۔ عدالت نے کہاکہ ماضی میں نواز شریف کے خلاف کارروائی پر قانون میں تبدیلی ہوئی، دیکھنایہ ہے کہ ایک عضو خراب ہے تو دیگر جسم کو کیسے بچایاجاسکتاہے ، کوئی ایک حصہ غیر آئینی قراردے دیں تو کیاقانون ختم ہوجائے گا؟جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاہے کہ سب برابر ہیں ، پارلیمنٹ عدلیہ کی آزادی بڑھاسکتی ہے لیکن کم نہیں کرسکتی۔جسٹس تصدق جیلانی نے کہاہے کہ آئین میں جو کچھ لکھاہے ، عدالت اُسی کے تابع ہے اور آئین کے مطابق ہی چلائیں گے ۔یہ ریمارکس عدالت نے توہین عدالت قانون سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیئے ۔ اٹارنی جنرل اور وفاق کے وکیل نے تیاری کے لیے مزید وقت کی درخواست کردی ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو وفاق کے وکیل نے کہاکہ کیس انتہائی اہم ہے لہٰذا فل کورٹ کو سماعت کرنی چاہیے اور اِسی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے وفاق اور اٹارنی جنرل کو نوٹس دیا۔اُنہوں نے کہاکہ حالات کچھ ایسے ہیں کہ تمام ججوں کو یہ مقدمہ سنناچاہیے کیونکہ کیس سے متعلق26درخواستیں دائر ہوئی ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ تمام درخواستوں میں کم و بیش ایک ہی موقف اختیار کیاگیاہے ، بنچ کیساہو، یہ عدالتی استحقاق ہے ، اِسے رہنے دیں ۔ اُنہوں نے کہاکہ معاملہ اہم اور عدلیہ سے متعلق ہے ، اِس کا فیصلہ جلد ہوناچاہیے ۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ ملکی تاریخ میں ایسا کیس کبھی نہیں آیا، کیس اہم ہے ، تیاری کے لیے دو ہفتے کا وقت دیاجائے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ مثال موجود ہے اور توہین عدالت قانون سے متعلق جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے فیصلہ دیااور اِس بنچ میں بھی سینئر جج شامل ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ 1996ءکا فیصلہ ہے ، اور اب نظریات بدل گئے ہیں جس پرجسٹس تصد ق جیلانی نے کہاکہ توہین عدالت قانون ہمیشہ رہاہے اور جب تک قانون کی حکمرانی ہے ،یہ رہے گا،اے جی صاحب ! آپ کہہ رہے ہیں کہ توہین عدلت کا نظریہ بدل گیا۔وفاق کے وکیل نے کہاکہ اُنہیں کل ہی وکیل مقررکیاگیاہے اور اُن کو تمام آئینی درخواستیں نہیں مل سکیں لہٰذاعدالت مزید وقت دے جس کے بعد عدالت نے اٹارنی جنرل کو جسٹس اجمل میاں پر مشتمل بنچ کا فیصلہ پڑھنے کا حکم دے دیا۔درخواست گزار کے وکیل نے کہاکہ آرٹیکل 248میں ترمیم کی کوشش کی گئی اور امتیازی سلوک آئین کی خلاف ورزی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ 1973ءکے آئین میںتوہین عدالت کی شق ڈالی گئی تووضاحت بھی کئی گئی لیکن آٹھویں ترمیم میں یہ وضاحت نکال دی گئی اور آٹھارہویں ترمیم میں حکومت نے یہ استثنیٰ آئین میں دوبارہ نہیں ڈالا۔اُنہوں نے کہاکہ عدلیہ کے اختیار پر پارلیمنٹ قدغن نہیں لگاسکتی ،وفاقی قانون سازی لسٹ میں بھی عدلیہ کی آزادی کیضمانت موجود ہے ۔عدالت نے واضح کیاکہ کسی کو یہاں مکمل استثنیٰ نہیں ،صرف دفتری امور سے متعلق استثنیٰ کا ذکر ہے ، ماضی میں نواز شریف کے خلاف کارروائی کے دوران قانون میں تبدیلی ہوئی ، اپیل کا حق ہوتاہے لیکن یہ حق کنٹرولڈ ہوتاہے۔جسٹس تصد ق جیلانی نے کہاکہ آئین میں جو کچھ لکھاہے ، ہم اُس کے تابع ہیں ، اِسی آئین کے مطابق عدالتی معاملات چلائیں گے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ کسی عربی کو عجمی اور کسی گورے کو کالے پر فوقیت نہیں ، اِس کا مطلب ہے کہ سب برابر ہیں ، کسی کو امتیارحاصل نہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کو قواعد بنانے کا اختیار آئین نے دیاہے اورنئے قانون میں یہ اختیار وفاق کو دے دیاگیا۔ درخواست گزار وکیل ایم ظفر نے نئے قانون کو عدلیہ کے خلاف دہشت گردی قراردے دیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ پہلا اُصول یہ ہے کہ قانون کوبجایاجائے ، ایک عضوخراب ہے تودیکھناہے کہ دیگر جسم کیسے بچایاجاسکتاہے ، یہ قانون تو ختم شدہ قانون کو بھی ختم کرسکتاہے ۔عدالت نے فریقین سے استفسار کیاکہ اگر کوئی قانون کا ایک حصہ غیر آئینی قراردے دیں تو کیاقانون بچے گا یانہیں ؟وکیل اکرم چوہدری نے کہاکہ توہین عدالت کا نیاقانون بھی ایک این آر او ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہاکہ این آر او آمر نے جبکہ قانون پارلیمنٹ نے بنایاہے ، قانون میں صرف وہی بات کہی جاسکتی ہے جس کی آئین اجازت دے ۔

مزید :

قومی -