نواز ، شہباز دورہ¿ چین اور میثاق پاکستان

نواز ، شہباز دورہ¿ چین اور میثاق پاکستان

                                        کسی مصنف کے لئے صاحب کتاب ہونے کا احساس جتنا پُر مسرت ہوتا ہے ، ایک معیاری کتاب تحریر کرنا اُتنا ہی مشکل کام ہے ۔ کئی سال قبل اپنی پہلی کتاب کی اشاعت پر میرے احساسات بھی نہایت خوش کن تھے۔ تخلیق کا عمل کتنا ہی کٹھن سہی، اپنے اندر ایک ناقابل بیان سرشاری رکھتا ہے ۔پاکستان کی معاشی بدحالی ، کرپشن کہانیاں، بیوروکریسی کے سرخ فیتوں میں سسکیاں لیتے ملکی مفادات اور خود غرض اشرافیہ کی حریص فطرت کے بوجھ تلے دبے عوام کی آہیں اُکساتی رہیں کہ سفر ناموں اور افسانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں وقوع پذیر ہوتے سیاسی حالات پر بھی ایک کتاب لکھوں۔

میری زیر اشاعت اس کتاب کا نام میاں محمد نواز شریف کے ایک بیان نے تجویز کر دیا۔ صدر آصف علی زرداری کی غیر سنجیدگی اور انحراف سے جب "میثاق جمہوریت "اور "معاہدئہ بھوربن " رسوا ہو گئے تو میاں نواز شریف نے ملک کے تمام سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مل بیٹھ کر آنے والے چالیس پچاس سال کی منصوبہ بندی کر کے "میثاق پاکستان " وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میاں نوازشریف کی اس خواہش کو اقتدار کی غلام گردشوں ،ایوان صدر کی راہداریوں اور دیگر سیاستدانوں کی طرف سے "صم بکم" قسم کا رد عمل ملا اور اس حب الوطنی پر مبنی سوچ کو پذیرائی حاصل نہ ہوئی ،تاہم "میثاق پاکستان"میری کتاب کاعنوان ضرور بن گیا۔ لگتا ہے حکمرانوں کی سرد مہری پر میاں صاحبان نے پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے ساتھ "میثاق پاکستان"کے نام سے ایک خاموش معاہدہ کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور عوام کے درمیان غیر تحریر شدہ یہ میثاق اب عملی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت ملکی مسائل کے لئے حل تلاش کرنے، معیشت کی بحالی، توانائی بحران کے خاتمے اور کرپشن پر قابو پانے میں نہایت سنجیدہ نظر آتی ہے۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی کارکردگی اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا وژن حالیہ دورئہ چین پر پوری طرح سے اثر انداز ہوا ہے۔ سابقہ دور حکومت میں چین کا رویہ اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ چینی قیادت کی دلچسپی ، والہانہ پن اور گرم جوشی میں واضح فرق دیکھا جا سکتاہے۔

بلاشبہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے ،لیکن کتنی بلند ہے ،اس کا انحصار پاکستانی قیادت کی نیت ، خلوص ، سنجیدگی اور وژن پر ہے، جس کا منہ بولتا ثبوت وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف کی چین میں شاندار پذیرائی ہے۔ دورئہ چین پاکستانی معیشت کی بحالی ، توانائی بحران کے خاتمے اور ترقی کی جانب پہلا قدم جبکہ میری کتاب "میثاق پاکستان"کا ایک اہم باب ثابت ہوگا۔ اس دورہ میں میاں صاحبان کی کامیابیاں ملک کے لئے نیک شگون اور قابل ستائش ہیں۔ چینی قیادت کے رویے سے عیاں تھا کہ وہ نواز شریف حکومت کی شفافیت اور خلوص نیت پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کرتے ہیں۔ خادم اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی بھی دورہ چین کے دوران بطور سندکام آئی۔ چین کے سرمایہ کار بھی ڈیوڈ کیمرون کی طرح میاں محمد شہباز شریف کی پرفارمنس کے قائل نکلے۔ کاشغر تا گوادر موٹروے پراجیکٹ اور خنجراب کوسٹل ہائی وے منصوبہ پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ توانائی بحران پر قابو پانے کی غرض سے چین کے ساتھ شمسی توانائی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لئے تھرکول پراجیکٹ میں معاونت کی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔ کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبہ اور سب وے ، لاہور تا کراچی موٹر وے اور کچھ دیگر منصوبوں پر بھی جلد کام شروع ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں چینی انویسٹرز کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے ترغیب دی گئی ہے ،جس سے روزگار کے وافر مواقع بھی میسر آئیں گے۔ پیپلز پارٹی دور حکومت میں نندی پور پاور پراجیکٹ میں تاخیر سے اربوں کا نقصان ہوا ،جس پر چین کی طرف سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ،لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ بہتر کارکردگی ، کم سے کم مدت میں منصوبوں کی تکمیل اور سارے عمل کو شفاف بنانے کے لیے جوائنٹ کوآپریشن کمیشن قائم کر دیا گیا ہے ،جس سے بیوروکریسی کے اوچھے ہتھکنڈے اس کارخیر میں حائل ہونے کے امکانات کم تر ہو جائیںگے۔ اس دورے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاک چین تعلقات کی تاریخ میں پہلی بار عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ معاشی ، تعمیری اور ترقیاتی مقاصد کو اولیت دی گئی ہے جس سے چین کی خطے میں گہری دلچسپی ظاہر ہوتی ہے کہ معاشی استحقام اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے اپنے اقتصادی اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے چین کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی ان منصوبوں سے بھرپور طور پر مستفید ہوگا۔ وزیر اعظم نواز شریف کو اس بات کا ادراک ہے کہ دہشت گردی ختم کر کے امن قائم کئے بغیر ان مقاصد کو حاصل کرنا آسان نہ ہوگا، اسی لئے دورہ چین کے مکمل ہوتے ہی دہشت گردی کے مسئلہ پر کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ پاکستان میں روایت تو یہی ہے کہ ایک بار کسی چیز کی قیمت بڑھ جائے تو کمان سے نکلے تیر کی مانند اُس کی واپسی ناممکن ہوتی ہے ،لیکن ایک خبر نے خوشگوار حیرت سے دوچار کیا ہے کہ ریلوے کے کرایوں میں 33فیصد کمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ شاید یہ بھی میثاق پاکستان پر پیش رفت کی ایک کڑی ہو۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ اب روایتی سفارت کاری کے بجائے اقتصادی سفارت کاری کی جائے گی، جو نہایت خوش آئند فیصلہ ہے۔

 بلوچستان میں حالات کی بہتری اور بلوچ رہنماﺅں کے ساتھ وزیر اطلاعات پرویز رشید کا مختلف ٹی وی چینلوں پر عاجزانہ اور دوستانہ رویہ اور لہجے میں شائستگی معاملات کو سلجھانے میں معاون ثابت ہوگی۔ ضروری تو ہے، لیکن لازم نہیں کہ کوئی قانون یا معاہدہ باقاعدہ تحریر شدہ ہو....ورنہ "میثاق جمہوریت"اور "معاہدئہ بھوربن" کی دستاویزات کا جو حشر آصف علی زرداری کے ہاتھوں ہوا ،وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کے برعکس برطانیہ کا "میگنا کارٹا" جو باقاعدہ تحریر شدہ نہیں ،پھر بھی کوئی اس سے انحراف نہیں کرتا۔ کچھ معاہدے انسان دوسروں کی فلاح کی خاطر اپنے آپ سے بھی کرتا ہے جو دوسرے فریق کے مفادات کے تحفط کی خاطر کئے جاتے ہیں اور خود کو شرائط کا پابند بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ "میثاق پاکستان"میری ذہنی اختراع ہے اور اس نام کا کوئی معاہدہ یا میثاق تحریری شکل میں موجود نہیں ،تاہم چند سال قبل میاں محمد نواز شریف کی ایک ایسی ہی خواہش ، پنجاب میں میاں محمد شہباز شریف کی کارکردگی اور 2013 ءکے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ملکی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات میری ذہنی اختراع کی سپورٹ کرتے ہیں۔   ٭

مزید : کالم