تاریخ ساز مینڈیٹ کی لاج

تاریخ ساز مینڈیٹ کی لاج

 

                پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کو بجلی بحران کے خاتمے اور انصاف کے حصول کے لئے تاریخی مینڈیٹ دیا ہے۔ ایسا مینڈیٹ صدیوں میں نصیب ہوتا ہے۔ اور اب ہم سب کو مل کر عوام کی بے لوث خدمت کر کے اس تاریخ ساز مینڈیٹ کی لاج رکھنا ہو گی۔ سابق حکمرانوں نے توانائی کے شعبے میں ملک و قوم کے ساتھ جو مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ ناقابل معافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات میں عوام نے کرپشن کے سومنات تباہ کر کے محنت، دیانت اور امانت کو ووٹ دیئے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، سنجیدہ اقدامات، اور عوام کے بھرپور تعاون سے توانائی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔ ایوانِ وزیر اعلیٰ میں ساہیوال ڈویژن کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی و گیس چوری میں ملوث سرکاری اہل کاروں کے خلاف مہم میں عوامی نمائندوں کا تعاون اشد ضروری ہے۔

مقام مسرت ہے کہ وزیر اعلیٰ کو یہ بھرپور احساس ہے کہ انہیں عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے پس پشت ان کی کچھ نا آسودہ خواہشات پوری ہونے کا بھی عمل دخل تھا، عوام لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے تھے اس لئے انہو ںنے ان حکمرانوں سے حساب لے لیا جن کی نا اہلی، یا بے تدبیری کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا بحران پھیلتا چلا گیا اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا چلا گیا، معیشت تباہ و برباد ہو گئی اور عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی، جب مئی میں نتخابی مہم چل رہی تھی تو بھی شدید لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔ چنانچہ عوام نے مسلم لیگ (ن) کو اس امید پر مینڈیٹ دیدیا کہ وہ انہیں لوڈشیڈنگ سے نجات دلائے گی، مسلم لیگ (ن) نے برسر اقتدار آتے ہی اس ضمن میں آغاز تو کر دیا۔

 رمضان المبارک میں سحری افطاری اور نماز تراویج کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان بھی کر دیا، لیکن یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ اس وعدے کو کماحقہ، نبھایا نہیں جا سکا، البتہ یہ تسلیم نہ کرنا بھی زیادتی کے مترادف ہوگا کہ لوڈشیڈنگ کم نہیں ہو ئی، یقیناً اس میں کمی واقعہ ہوئی ہے، بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، گردشی قرضوں کی جزوی ادائیگی کے ساتھ سسٹم میں تھرمل بجلی کی مقدار بڑھی ہے، بارشوں اور برسات کے موسم کی وجہ سے ہائیڈل پیداوار میں بھی اضافہ ہوا، نتیجے کے طور پر بجلی کی طلب و رسد میں فرق کم ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور جو فیڈر کاروباری علاقوں سے ملحقہ ہیں ان میں لوڈشیڈنگ زیادہ ہو رہی ہے اور بعض اوقات غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی ہو جاتی ہے، لیکن یہ بحران جتنا سنگین ہے اتنی ہی زیادہ توجہ کا طالب بھی ہے۔ سال ہا سال بلکہ عشروں سے ہم نے اس بحران کو اپنی بے تدبیری سے بڑھنے دیا حتیٰ کہ یہ قابو سے باہر ہو گیا اور عملاً معیشت و معاشرت اس سے بری طرح متاثر ہونا شروع ہو گئیں۔

بجلی کی کمی کے علاووہ اس بحران کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بہت مہنگی ہے اور مہنگی اس لئے ہے کہ ہم اسے مہنگے درآمدی ایندھن سے بناتے ہیں،آئی پی پیز کے ریٹ بھی خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ بجلی بنانے کا سب سے سستا ذریعہ پانی ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے میں ہم نے ماضی میں بطور قوم مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، مخالفانہ پروپیگنڈے کی وجہ سے منگلا اور تربیلا کے بعد ہم کوئی نیا ڈیم نہیں بنا سکے، عشروں تک اس بحث یا کج بحثی میں الجھے رہے کہ کالا باغ ڈیم بننا چاہئے یا نہیں، حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس ضمن میں قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر جلد سے جلد کوئی فیصلہ کر لیا جاتا، اب ہم نے دیامر بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو ظاہر ہے کہ جب اس پر کام شروع ہوگا تو اس کی تکمیل پر آٹھ دس سال تو لگ جائیں گے لیکن حالیہ دنوں میں ہم نے ملک بھر میں جو پر تشدد مظاہرے دیکھے ہیں۔ ان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قوم اپنے مسئلے کا جلد حل چاہتی ہے۔ انہیں اس سے غرض نہیں کہ دیامر، بھاشاڈیم شروع ہو کر کب تکمیل کا مرحلہ طے کرتا ہے اور کب نہیں، مظاہرین صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، قیمتی املاک کا ضیاع ہوتا ہے، اور کبھی کبھار انسانی جانیں بھی ضائع ہو جاتی ہیں، اس لئے ان تمام پہلوﺅں کو پیش نظر رکھ کر ہی جتنی جلد ممکن ہوسکے انرجی بحران کا حل تلاش کرنا چاہئے۔

اس بحران کے کئی پہلو ہیں، بجلی کی کمی ہے، بجلی مہنگی ہے اور بعض صورتوں میں صارفین کے لئے ناقابل برداشت بوجھ ہے، بجلی چوری بھی بہت ہوتی ہے حکومت بجلی مہنگی خریدتی ہے اور نسبتاً کم قیمت پر آگے صارفین کو فروخت کرتی ہے۔ اس طرح اسے سبسڈی بھی دینا پڑتی ہے، جو خزانے پر ایک بوجھ تصور کی جاتی ہے۔ اسی لئے حکومت سبسڈی ختم کرنے کی باتیں بھی کرتی رہتی ہے۔ اب بھی کہا جا رہا ہے کہ 200 یونٹ سے زیادہ بجلی خرچ کرنے والے صارفین کی سبسڈی ختم کر دی جائے گی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ بجلی چوری بھی ایک عذاب ہے جو ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے افسروں اور اہل کاروں کی مدد سے چوری ہوتی ہے یہ لوگ اپنے معمولی فائدے کے لئے قوم سے دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، لائن لاسز میں زیادہ تر بجلی چوری شامل ہوتی ہے ان لائن لاسز کا ازالہ کرنے کے لئے صارف کو مختلف طریقوں سے زیادہ بل بھیجے جاتے ہیں گویا جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں وہ دہرے فائدے میں ہیں اور جو دیانتداری سے بل دیتے ہیں وہ دہرے نقصان میں ہیں وہ اپنی بجلی کے ساتھ ساتھ چوری شدہ بجلی کا بل بھی ادا کرتے ہیں۔ پھر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ جو کمپنیاں بجلی فروخت کرتی ہیں وہ بھی ڈنڈی مارتی ہیں، کم بجلی سپلائی کر کے زیادہ ظاہر کرتی ہیں، گردشی قرضے بھی اس لئے بڑھتے رہتے ہیں کہ بجلی کمپنیاں باقاعدگی سے ادائیگی نہیں کرتیں، اور جب کرتی ہیں تو پسند نا پسند کا خیال رکھتی ہیں اس طرح جب گردشی قرضوں کا بحران بڑھتا ہے تو لوڈشیڈنگ زیادہ ہو جاتی ہے۔

ان سارے پہلوﺅں پر تفصیل سے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بجلی بحران کے مسئلے کو سمجھنے میں آسانی ہو وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو احساس ہے کہ قوم نے ان کی جماعت کو جو مینڈیٹ دیا ہے اس میں یہ خواہش شامل تھی کہ یہ جماعت اس بحران کو حل کرے گی جس کا دعویٰ حکمران جماعت کے لیڈر کرتے تھے۔ وزیر اعلیٰ کو اس کا بھرپور احساس بھی ہے اور وہ برملا طور پر اس کی لاج رکھنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ ان کے بعض اقدامات سے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ بحران بتدریج حل ہوگا، نندی پور پاور پراجیکٹ پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اور اعلان کیا جا رہا ہے کہ یہ سال ڈیڑھ سال میں مکمل ہو جائے گا۔ اس طرح خیبرپختوا کی حکومت نے چھوٹے ڈیم بنانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ چلئے یہ بھی غنیمت ہے کہ ہم بڑے ڈیم تو نہ بنا سکے، چھوٹے ڈیم ہی بنا لیں لیکن ہماری انرجی کی ضروریات جس طرح بڑھ رہی ہیںاور مستقبل قریب میں جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ہمیں بڑا ڈیم بہر حال بنانا ہوگا کیونکہ بڑے ڈیم صرف بجلی ہی نہیں بناتے ان سے پانی کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں اور جب دریاﺅں میں پانی برائے نام رہ جاتا ہے تو یہی ذخیرہ شدہ پانی کام آتا ہے۔

پانی کی ضرورت پر بھی صوبے آپس میں لفظی جنگ کرتے رہتے ہیں چوری کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔ ان سب مسائل کا حل بڑا ڈیم ہے جس پر حکومت کو اتفاق رائے حاصل کرنا چاہئے اگر ایسا نہ ہوا تو نہ صرف بیرونی جارحیت سے زیادہ ہمیں اندرونی سر پھٹول کا سامنا ہوگا اور صوبوں میں کسی نہ کسی بہانے سے پیدا ہونے والے تنازعات ہماری قومی یک جہتی کو بھی متاثر کریں گے۔ امید کی جانی چاہئے کہ میاں شہباز شریف کے اپنے الفاظ میں ان کی جماعت کی حکومت اس تاریخی مینڈیٹ کی لاج رکھے گی جس نے میاں نوازشریف کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم اور انہیں تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر سرفراز کیا ہے۔

مزید : اداریہ